امریکی محکمہ خارجہ نے جنوری 2026 سے US Visa Bond Pilot Program میں باضابطہ توسیع کر دی ہے، جس کے تحت مخصوص B-1 اور B-2 ویزہ درخواست گزاروں کے لیے 15,000 امریکی ڈالر تک کا واپسی کے قابل بانڈ جمع کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس نئی پالیسی کا اطلاق اب 13 ممالک پر ہوتا ہے، جن میں بھوٹان اور نمیبیا جیسے نئے ممالک شامل کیے گئے ہیں تاکہ ویزہ کی مدت سے زائد قیام کو روکا جا سکے۔ ان ممالک کے مسافروں کو Pay.gov کے ذریعے ادائیگی کرنی ہوگی اور بانڈ کی واپسی کے لیے مخصوص امریکی ہوائی اڈوں سے ہی سفر کرنا ہو گا تاکہ ان کی واپسی کا درست ریکارڈ رکھا جا سکے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جنوری 2026 سے US Visa Bond Pilot Program میں باضابطہ توسیع کر دی ہے، جس کے تحت مخصوص B-1 اور B-2 ویزہ درخواست گزاروں کے لیے 15,000 امریکی ڈالر تک کا واپسی کے قابل بانڈ جمع کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
تعارف اور حالیہ تبدیلیوں کا پس منظر
سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی امیگریشن نظام میں ایک بڑی اور اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے تجرباتی ویزہ بانڈ پروگرام کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے مزید ممالک کو اس میں شامل کر لیا ہے۔ یہ پروگرام ان مسافروں کے لیے ہے جو سیاحت یا مختصر کاروباری دوروں کے لیے امریکہ جانا چاہتے ہیں۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ویزہ قوانین کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی قیام کو روکنا ہے۔ اب مخصوص ممالک کے شہریوں کو ویزہ حاصل کرنے کے لیے نہ صرف اپنی اہلیت ثابت کرنی ہوگی بلکہ ایک بھاری مالی ضمانت بھی جمع کروانی ہوگی جو کہ 15,000 امریکی ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
یہ پروگرام بین الاقوامی سفری قوانین میں ایک نئی بحث کا آغاز کر چکا ہے۔ بہت سے ماہرین اسے ایک سخت قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ امریکی حکومت کا موقف ہے کہ یہ ملکی سیکیورٹی اور امیگریشن نظام کی شفافیت کے لیے ضروری ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے جو ایک عام مسافر کے لیے جاننا ضروری ہیں۔
- مزید پڑھیں
- یورپین شہری کے طور پر آئرلینڈ میں فیملی بلاوائیں
- امریکی ویزا انٹرویو کے لیے اپنے سوشل میڈیا کی آڈٹ کیسے کریں
- متحدہ عرب امارات ورک ویزا کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی
- پاکستان سے جرمنی ویزا کا نیا طریقہ کار متعارف
- سعودی عرب ٹورسٹ ویزا کی مکمل گائیڈ اور طریقہ کار
ویزہ بانڈ پائلٹ پروگرام کا مقصد کیا ہے؟
امریکی حکومت کے مطابق، بہت سے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد ویزہ حاصل کر کے امریکہ داخل تو ہو جاتے ہیں لیکن مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد وہاں سے واپس نہیں جاتے بلکہ غیر قانونی طور پر قیام شروع کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال کو امیگریشن کی زبان میں ویزہ اوور اسٹے کہا جاتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے محکمہ خارجہ نے ایک معاشی حل نکالا ہے۔ جب کسی مسافر کی ایک بڑی رقم بطور ضمانت حکومت کے پاس ہوگی، تو وہ اپنی رقم واپس لینے کی خاطر قانونی مدت ختم ہونے سے پہلے واپس اپنے ملک جانے کی کوشش کرے گا۔ یہ بانڈ دراصل ایک نفسیاتی اور مالی دباؤ کا کام کرتا ہے تاکہ مسافر قوانین پر عمل کریں۔
مالیاتی ٹائرز اور رقم کا تعین
ویزہ بانڈ کی رقم ہر مسافر کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔ قونصلر افسر انٹرویو کے دوران آپ کے کیس کی مضبوطی کا جائزہ لیتا ہے۔ اگر افسر کو لگتا ہے کہ آپ کی واپسی کے امکانات کم ہیں یا آپ کے ملک کے معاشی حالات خراب ہیں، تو وہ آپ سے بانڈ کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت رقم کے تین درجے رکھے گئے ہیں:
پہلا درجہ پانچ ہزار امریکی ڈالر پر مشتمل ہے جو کم رسک والے کیسز کے لیے ہے۔ دوسرا درجہ دس ہزار امریکی ڈالر کا ہے جسے ایک معیاری رقم سمجھا جاتا ہے اور زیادہ تر کیسز میں یہی مانگی جاتی ہے۔ تیسرا اور آخری درجہ پندرہ ہزار امریکی ڈالر کا ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ حد ہے۔ یہ رقم ان لوگوں سے مانگی جاتی ہے جن کے واپس آنے کے ثبوت بہت کمزور ہوتے ہیں۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر قونصلر افسر کی صوابدید پر ہوتا ہے۔
جنوری 2026 کی نئی فہرست اور متاثرہ ممالک
پہلے یہ پروگرام صرف چند افریقی ممالک کے لیے تھا، لیکن جنوری 2026 میں اس میں بڑی توسیع کی گئی ہے۔ اب کل تیرہ ممالک اس پالیسی کے زیر اثر ہیں۔ یکم جنوری 2026 سے شامل ہونے والے نئے ممالک میں بھوٹان، بوٹسوانا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساؤ، نمیبیا اور ترکمانستان شامل ہیں۔ ان کے علاوہ موریطانیہ، ساؤ ٹومے اور پرنسیپے، تنزانیہ، گیمبیا، ملاوی اور زیمبیا پہلے ہی اس فہرست میں شامل تھے۔
ان ممالک کا انتخاب ان کے شہریوں کی جانب سے ویزہ کی مدت سے زیادہ قیام کرنے کی شرح کو دیکھ کر کیا گیا ہے۔ اگر آپ ان میں سے کسی ملک کے پاسپورٹ ہولڈر ہیں، تو ویزہ انٹرویو کے لیے جاتے وقت آپ کو اس مالی ضرورت کے لیے پہلے سے تیار رہنا چاہیے۔
بانڈ جمع کروانے کا باضابطہ طریقہ کار
اگر آپ کو ویزہ انٹرویو کے دوران بانڈ جمع کروانے کا کہا جاتا ہے، تو آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ قونصلر افسر آپ کو DHS Form I-352 فراہم کرے گا۔ یہ فارم آپ کی مالی ضمانت کی دستاویز ہے۔
ادائیگی کے لیے آپ کو کسی بھی بینک یا سفارت خانے جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ تمام عمل آن لائن ہوتا ہے۔ آپ کو امریکی خزانے کی آفیشل ویب سائٹ Pay.gov پر جا کر اپنا اکاؤنٹ بنانا ہوگا اور وہاں سے الیکٹرانک طریقے سے رقم منتقل کرنی ہوگی۔ یاد رہے کہ امریکی سفارت خانہ نقد رقم قبول نہیں کرتا۔ جب آپ رقم جمع کروا دیتے ہیں، تو امریکی ٹریژری اس کی تصدیق کرتی ہے جس کے بعد ہی آپ کا ویزہ پاسپورٹ پر پرنٹ کیا جاتا ہے۔
مخصوص ہوائی اڈوں کے استعمال کی پابندی
اس پروگرام کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ آپ امریکہ میں کہیں سے بھی داخل نہیں ہو سکتے۔ چونکہ آپ کی آمد اور روانگی کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہے، اس لیے امریکی حکومت نے تین مخصوص ایئرپورٹس کو اس کام کے لیے منتخب کیا ہے۔ ان میں نیویارک کا جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ، واشنگٹن کا ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور بوسٹن کا لوگان انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔
اگر آپ ان تینوں کے علاوہ کسی اور ایئرپورٹ سے سفر کریں گے، تو آپ کی روانگی کا ریکارڈ سسٹم میں درج نہیں ہوگا اور آپ کو اپنی رقم واپس لینے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے اپنی فلائٹ کی بکنگ کرتے وقت ان شہروں کا انتخاب لازمی کریں۔
رقم کی واپسی اور ضبطگی کے قواعد
مسافروں کے لیے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ رقم ایک ضمانت ہے، ویزہ فیس نہیں، اس لیے یہ مکمل طور پر واپسی کے قابل ہے۔ اگر آپ اپنے ویزے کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر امریکہ سے روانہ ہو جاتے ہیں، تو آپ کا بانڈ خود بخود ریفنڈ کے لیے پراسیس کر دیا جائے گا۔ یہ رقم اسی اکاؤنٹ میں واپس آئے گی جہاں سے آپ نے ادا کی تھی۔
تاہم، اگر آپ وہاں جا کر مقررہ وقت سے زیادہ قیام کرتے ہیں، غیر قانونی طور پر کام شروع کرتے ہیں یا اپنی ویزہ کیٹیگری تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو آپ کی پوری رقم امریکی حکومت کے پاس ضبط ہو جائے گی۔ اس لیے ویزہ قوانین کی پابندی کرنا آپ کے مالی مفاد میں بھی ہے۔
مسافروں کے لیے مشورے اور نتیجہ
اگر آپ ان ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جہاں بانڈ لازمی ہے، تو اپنے انٹرویو کے لیے بہترین تیاری کریں۔ اپنے بینک سٹیٹمنٹس اور جائیداد کے ثبوت ساتھ رکھیں تاکہ آپ افسر کو یقین دلا سکیں کہ آپ ایک ذمہ دار شہری ہیں اور وقت پر واپس آئیں گے۔
یہ پائلٹ پروگرام 5 اگست 2026 تک جاری رہے گا اور اس کے بعد اس کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ویزہ وگ (Visavlogurdu.com) پر ہم آپ کو ان تمام عالمی تبدیلیوں سے باخبر رکھتے ہیں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہو، تو آپ سرکاری ذرائع سے رجوع کر سکتے ہیں۔



