امریکی حکومت نے تمام غیر ملکی مسافروں اور گرین کارڈ ہولڈرز کے لیے بائیومیٹرک انٹری ایگزٹ سسٹم لازمی قرار دے دیا ہے۔ 2026 کے نئے قوانین، چہرے کی شناخت کا عمل اور ویزا اوور اسٹے سے بچنے کی مکمل تفصیلات جانیں۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (Department of Homeland Security – DHS) نے اپنی سرحدی حفاظتی پالیسیوں میں ایک انقلابی تبدیلی لاتے ہوئے 2026 سے تمام غیر ملکی مسافروں کے لیے بائیومیٹرک انٹری ایگزٹ سسٹم کو مکمل طور پر لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ نظام امریکہ کی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت، ہر وہ مسافر جو امریکی سرحد عبور کرے گا، اس کی شناخت ڈیجیٹل بائیومیٹرک ڈیٹا کے ذریعے کی جائے گی۔
بائیومیٹرک انٹری ایگزٹ سسٹم کیا ہے؟
یہ ایک جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام ہے جو مسافروں کی شناخت کے لیے ان کے چہرے کی خصوصیات (Facial Recognition)، انگلیوں کے نشانات (Fingerprints) اور بعض صورتوں میں آنکھ کی پتلی (Iris Scan) کا استعمال کرتا ہے۔ اس نظام کا بنیادی مقصد مینوئل پاسپورٹ چیکنگ کے بجائے ڈیجیٹل ڈیٹا کے ذریعے مسافر کی اصل شناخت کو سیکنڈوں میں یقینی بنانا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (U.S. Customs and Border Protection – CBP) کی آفیشل ویب سائٹ cbp.gov کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی اب صرف ہوائی اڈوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اسے سمندری بندرگاہوں اور زمینی سرحدی راستوں پر بھی نافذ کیا جا رہا ہے۔
گرین کارڈ ہولڈرز (Lawful Permanent Residents) کے لیے نئی ہدایات
اس نئے سسٹم کا ایک بڑا حصہ گرین کارڈ ہولڈرز (LPRs) پر مشتمل ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ان کے پاس مستقل رہائش کا حق ہے، اس لیے وہ ان پابندیوں سے آزاد ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ 2026 سے، گرین کارڈ ہولڈرز کو بھی امریکہ میں داخلے اور واپسی (Exit) کے وقت بائیومیٹرک اسکیننگ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔
CBP کے مطابق، گرین کارڈ ہولڈرز کا بائیومیٹرک ریکارڈ ان کے Form I-551 (گرین کارڈ) کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کارڈ کا اصل مالک ہی اسے استعمال کر رہا ہے اور کارڈ کی جعلسازی یا چوری کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔ اگر کوئی گرین کارڈ ہولڈر طویل عرصے تک امریکہ سے باہر رہتا ہے، تو بائیومیٹرک ایگزٹ ریکارڈ حکومت کو فوری طور پر مطلع کر دے گا، جس سے ان کی رہائش کی شرائط (Abandonment of Residency) کی جانچ پڑتال آسان ہو جائے گی۔
- یہ بھی پڑھئیے
- ہزاروں پاکستانی بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ: 2026 تک ویزا پالیسیوں پر ممکنہ اثرات
- پاکستان سے یورپ غیر قانونی ہجرت میں 47 فیصد کمی
- عالمی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیاں: نومبر 2025 کا خلاصہ
- دنیا کا کونسا ملک آسانی سے گولڈن ویزا دیتا ہے؟
- IELTS اسکینڈل: دو سال تک غلط اسکور فراہم کرتا رہا
گرین کارڈ ہولڈرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے سفر سے پہلے uscis.gov پر اپنے بائیومیٹرک اپ ڈیٹس اور ری انٹری پرمٹ (Re-entry Permit) کی تفصیلات چیک کر لیں تاکہ واپسی پر انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بائیومیٹرک ایگزٹ (ملک سے واپسی) کی اہمیت
ماضی میں، امریکہ میں داخلے کے وقت بائیومیٹرک ڈیٹا لیا جاتا تھا، لیکن ملک سے باہر جانے والوں کا بائیومیٹرک ریکارڈ مرتب کرنا ایک چیلنج رہا ہے۔ 2026 سے، امریکہ سے باہر جانے والے تمام غیر ملکی شہریوں کے لیے بائیومیٹرک ایگزٹ لازمی ہوگا۔
اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ حکومت کو معلوم ہوگا کہ کون سا مسافر اپنے ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ملک میں مقیم رہا (Overstayer)۔ یہ ڈیٹا براہ راست U.S. Citizenship and Immigration Services (USCIS) کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا، جس کی تفصیلات سرکاری ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
2026 کی نئی ویزا پالیسی اور بائیومیٹرک ڈیٹا
امریکہ کا سفر کرنے والے تمام افراد، چاہے وہ وزٹ ویزا (B1/B2) پر ہوں یا اسٹوڈنٹ ویزا (F1) پر، انہیں اس نظام کے کڑے مراحل سے گزرنا ہوگا۔ امریکی محکمہ خارجہ (U.S. Department of State) کے مطابق، ویزا درخواست کے وقت سفارت خانے میں جمع کرایا گیا بائیومیٹرک ڈیٹا اب براہ راست ایئرپورٹ پر موجود بائیومیٹرک کیوسک (Kiosks) سے میچ کیا جائے گا۔
اگر کوئی مسافر اپنے ویزا کی مدت سے ایک دن بھی زیادہ قیام کرتا ہے، تو بائیومیٹرک ایگزٹ سسٹم خود بخود اس کا نام "بلیک لسٹ” میں ڈال دے گا، جس کے بعد اس مسافر کے لیے دوبارہ امریکی ویزا حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس حوالے سے مزید معلومات travel.state.gov پر دستیاب ہیں۔
قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ
اس سسٹم کے نفاذ کی ایک بڑی وجہ قومی سلامتی ہے۔ جعلی پاسپورٹ یا کسی دوسرے کی شناخت استعمال کر کے امریکہ میں داخل ہونا اب ناممکن ہو جائے گا۔ چونکہ چہرے کی شناخت اور انگلیوں کے نشانات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے دہشت گردی یا جرائم میں ملوث افراد کی شناخت کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ امریکی حکومت کا ماننا ہے کہ اس نظام سے سرحدوں پر تعینات افسران کا کام آسان ہوگا اور وہ صرف ان مسافروں پر توجہ دے سکیں گے جو سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے وفاقی ایجنسیوں کے ڈیٹا بیس کو بھی اس سسٹم کے ساتھ لنک کیا گیا ہے۔
مسافروں کے لیے اہم ہدایات اور تیاری
2026 میں امریکہ کا سفر کرنے والوں کو درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھنا ہوگا:
- وقت کی پابندی: بائیومیٹرک اسکیننگ کے عمل کی وجہ سے ایئرپورٹ پر معمول سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے، لہذا پرواز سے کم از کم 4 گھنٹے پہلے ایئرپورٹ پہنچیں۔
- دستاویزات کی درستگی: گرین کارڈ ہولڈرز یقینی بنائیں کہ ان کا کارڈ میعاد ختم ہونے والا نہ ہو اور ان کی بائیومیٹرک معلومات اپ ٹو ڈیٹ ہوں۔
- ڈیجیٹل آئی ڈی: بہت سی ایئر لائنز اب ڈیجیٹل بورڈنگ پاس کے ساتھ بائیومیٹرک آئی ڈی کو لنک کر رہی ہیں، اس سہولت کا استعمال کریں۔
ڈیٹا کی رازداری اور پرائیویسی (Privacy Concerns)
مسافروں کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے امریکی حکومت انتہائی سخت قوانین پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ تمام بائیومیٹرک معلومات کو انکرپٹڈ فارمیٹ میں رکھا جاتا ہے۔ پرائیویسی پالیسی کے بارے میں قانونی تفصیلات dhs.gov/privacy پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
امریکہ کا بائیومیٹرک انٹری ایگزٹ سسٹم 2026 سرحدی انتظام میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ چاہے آپ وزٹ ویزا پر ہوں یا گرین کارڈ ہولڈر، ڈیجیٹل شناخت کا یہ نظام اب آپ کے سفر کا ایک لازمی حصہ ہے۔ قانونی مسافروں کے لیے یہ نظام ایک خوش آئند قدم ہے کیونکہ اس سے امیگریشن کے عمل میں انسانی غلطی کا امکان ختم ہو جائے گا اور سفری عمل زیادہ شفاف ہوگا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)



