برطانیہ کے پاسپورٹ اور امیگریشن قوانین 2026 میں ہونے والی انقلابی تبدیلیاں جیسے شاہ چارلس سوم کا نیا ڈیزائن، ای ٹی اے (ETA) کا لازمی نفاذ اور ای ویزا (eVisa) سسٹم کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے ویزا وگ اردو (Visavlogurdu.com) کی یہ جامع رپورٹ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ برطانوی حکومت کی آفیشل ویب سائٹ GOV.UK کے مطابق ان تبدیلیوں کا بنیادی مقصد ملکی سرحدوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا اور سیکیورٹی کے نظام کو جدید ترین عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اگر آپ برطانیہ میں مقیم ہیں، وہاں کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا اپنی امیگریشن سٹیٹس کے بارے میں فکر مند ہیں، تو یہ بلاگ آپ کو تمام ضروری اور سرکاری معلومات فراہم کرے گا تاکہ آپ کسی بھی سفری دشواری یا قانونی پیچیدگی سے بچ سکیں۔
شاہ چارلس سوم کا نیا پاسپورٹ ڈیزائن اور سیکیورٹی خصوصیات
سال 2026 برطانوی پاسپورٹ کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم سال ہے کیونکہ اب HM Passport Office کی جانب سے جاری کیے جانے والے تمام نئے پاسپورٹس پر شاہ چارلس سوم کا شاہی نشان (Coat of Arms) موجود ہے۔ یہ تبدیلی ملکہ الزبتھ دوم کے سات دہائیوں پر محیط عہد کے خاتمے اور ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔ پاسپورٹ کے بیرونی سرورق پر اب بادشاہ کا آفیشل نشان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پاسپورٹ کے اندرونی پہلے صفحے پر موجود تحریر میں بھی تبدیلی کی گئی ہے اور اب ‘Her Majesty’ کی جگہ ‘His Majesty’ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
اس نئے پاسپورٹ میں صرف ظاہری ڈیزائن ہی تبدیل نہیں ہوا بلکہ سیکیورٹی کے نظام کو بھی دنیا کے بہترین معیار کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس میں پولی کاربونیٹ ڈیٹا پیج کا استعمال کیا گیا ہے جس پر مسافر کی تمام تفصیلات لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے کندہ کی جاتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی پاسپورٹ میں کسی بھی قسم کی جعل سازی یا چھیڑ چھاڑ کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ پاسپورٹ کے اندرونی صفحات پر برطانیہ کے چاروں حصوں یعنی انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے مشہور یونیسکو مناظر دکھائے گئے ہیں جو برطانیہ کے عظیم ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ اپنے پاسپورٹ کی تجدید یا نئے ڈیزائن کے بارے میں مزید تفصیلات آفیشل renewal page پر دیکھ سکتے ہیں۔
حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ تمام پاسپورٹ جو پہلے جاری ہو چکے ہیں اور جن پر ملکہ کا نشان ہے، وہ اپنی میعاد ختم ہونے تک مکمل طور پر قانونی اور کارآمد رہیں گے۔ اس لیے شہریوں کو صرف اس صورت میں نئے پاسپورٹ کے لیے درخواست دینی چاہیے جب ان کا موجودہ پاسپورٹ ختم ہو رہا ہو یا اس کے صفحات بھر چکے ہوں۔ پاسپورٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد اب پہلے سے زیادہ پائیدار ہے اور اس میں بائیومیٹرک چپ کو مزید محفوظ بنایا گیا ہے تاکہ سرحدوں پر موجود ای گیٹس (e-Gates) مسافروں کی شناخت فوری طور پر کر سکیں۔
- مزید پڑھیں
- آسٹریلیا امیگریشن: نئی مہارتوں کی طلب اور ویزا قوانین
- اٹلی ورک ویزا 2026: نئی اپڈیٹس اور طریقہ کار
- نیوزی لینڈ سیزنل ورک ویزا 2026 کی مکمل گائیڈ
- متحدہ عرب امارات میں رہائشی ویزا کے طریقہ کار میں تبدیلی
- آسٹریلیا ویزا بائیومیٹرک گھر بیٹھے کروانے کی گائیڈ
برطانوی پاسپورٹ کی نئی فیسیں اور آن لائن درخواست کا طریقہ
برطانوی حکومت نے پاسپورٹ پراسیسنگ اور بارڈر سیکیورٹی کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے فیسوں کے ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ 2026 میں پاسپورٹ حاصل کرنے کا سب سے سستا اور تیز ترین طریقہ آن لائن درخواست دینا ہے، کیونکہ کاغذی فارم کے ذریعے درخواست دینا نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ اس کی فیس بھی زیادہ ہے۔ سرکاری ویب سائٹ Passport Fees کے مطابق فیسوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
| پاسپورٹ کی قسم | آن لائن درخواست کی فیس | پوسٹل (کاغذی فارم) فیس |
| اسٹینڈرڈ بالغ (34 صفحات) | 94.50 پاؤنڈ | 107.00 پاؤنڈ |
| اسٹینڈرڈ بچہ (16 سال سے کم) | 61.50 پاؤنڈ | 74.00 پاؤنڈ |
| فریکوئنٹ ٹریولر بالغ (54 صفحات) | 107.50 پاؤنڈ | 120.00 پاؤنڈ |
ڈیجیٹل درخواستوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ مسافر اپنے گھر بیٹھے موبائل فون سے تصویر لے کر اپ لوڈ کر سکتے ہیں اور اپنی درخواست کی پیشرفت کو ہر لمحہ ٹریک کر سکتے ہیں۔ حکومت تمام شہریوں کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ کسی بھی تھرڈ پارٹی ایجنٹ کے بجائے براہ راست Apply Online کا آپشن استعمال کریں تاکہ اضافی اخراجات اور دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔ 2026 میں پاسپورٹ کی تیاری کا اوسط وقت تین سے چار ہفتے ہے، لیکن ہنگامی صورتحال میں ‘فاسٹ ٹریک’ سروس بھی حاصل کی جا سکتی ہے جس کی فیس الگ سے ادا کرنی ہوگی۔
الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن (ETA) کا نظام
برطانیہ آنے والے سیاحوں اور زائرین کے لیے سب سے بڑی تبدیلی Electronic Travel Authorisation (ETA) کا نفاذ ہے۔ فروری 2026 سے، ان تمام ممالک کے شہریوں کے لیے ای ٹی اے حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے جنہیں پہلے برطانیہ آنے کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، جن میں یورپی یونین، امریکہ، کینیڈا اور خلیجی ممالک شامل ہیں۔
ای ٹی اے کی فیس 10 پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے اور یہ اجازت نامہ دو سال کے لیے کارآمد ہوتا ہے۔ اس کے تحت مسافر اس مدت کے دوران جتنی بار چاہیں برطانیہ آ سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا مقصد سیاحت، مختصر کاروباری دورہ یا فیملی سے ملاقات ہو۔ ای ٹی اے حاصل کرنے کا طریقہ انتہائی سادہ ہے اور آپ اسے آفیشل پورٹل Apply for an ETA کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایئر لائنز اب سفر سے پہلے مسافروں کا ای ٹی اے چیک کرنے کی پابند ہیں، اور اس کے بغیر آپ کو جہاز پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد، جنہیں برطانیہ کے لیے باقاعدہ ویزا درکار ہوتا ہے، فی الحال اس اسکیم میں شامل نہیں ہیں لیکن ان کے لیے وزٹ ویزا کی شرائط میں بھی کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں جنہیں سرکاری ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ای ویزا (eVisa) اور ڈیجیٹل امیگریشن کا دور
برطانیہ میں مقیم غیر ملکیوں اور تارکین وطن کے لیے 2026 ایک تاریخی تبدیلی کا سال ہے کیونکہ اب فزیکل بائیومیٹرک ریزیڈنس پرمٹ (BRP) کارڈز کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب برطانیہ کا امیگریشن سسٹم مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو گیا ہے جسے ای ویزا (eVisa) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی برطانوی ہوم آفس کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت سرحدوں کو پیپر لیس بنایا جا رہا ہے۔
اس نظام کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ کو اپنے پاس کوئی پلاسٹک کارڈ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کی تمام امیگریشن تفصیلات UKVI Account میں محفوظ ہوتی ہیں۔ اگر آپ اپنا پاسپورٹ تبدیل کرتے ہیں، تو یہ آپ کی قانونی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنے نئے پاسپورٹ کی تفصیلات فوری طور پر Update your UKVI details پر جا کر اپ ڈیٹ کریں تاکہ سرحد پار کرتے وقت ای گیٹس آپ کے نئے پاسپورٹ کو پہچان سکیں۔ ملازمت حاصل کرنے یا گھر کرائے پر لینے کے لیے آپ کو اپنی سٹیٹس ثابت کرنے کے لیے View and Prove service سے ایک شیئر کوڈ حاصل کرنا ہوگا۔ ڈیجیٹل ویزا سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اب دستاویزات کے کھو جانے یا چوری ہونے کا خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔
امیگریشن سیلری تھریشولڈ اور ورک ویزا کے نئے قوانین
برطانوی ہوم آفس نے نیٹ مائیگریشن کو کنٹرول کرنے کے لیے ورک ویزا اور فیملی ویزا کے لیے آمدنی کی شرائط کو مزید سخت کر دیا ہے۔ سکلڈ ورکر ویزا کے لیے اب کم از کم تنخواہ کی حد بڑھا کر 38,700 پاؤنڈ سالانہ کر دی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ برطانیہ صرف ان ہنر مند افراد کو ترجیح دے رہا ہے جو ملکی معیشت میں نمایاں حصہ ڈال سکیں اور ملک پر مالی بوجھ نہ بنیں۔
اسی طرح، وہ برطانوی شہری جو اپنے شریک حیات (Spouse) کو برطانیہ بلانا چاہتے ہیں، ان کے لیے بھی آمدنی کی حد اب 38,700 پاؤنڈ مقرر ہو چکی ہے۔ ان تمام قوانین کی مکمل اور تفصیلی معلومات آپ آفیشل Skilled Worker Visa Guidance پر دیکھ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ قوانین ان تمام نئی درخواستوں پر لاگو ہوتے ہیں جو 2026 میں جمع کروائی جا رہی ہیں۔ ہیلتھ اینڈ کیئر ویزا کے حامل افراد کے لیے کچھ رعایتیں موجود ہیں لیکن ان کے لیے بھی قوانین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ واضح کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا یہ اقدام ملکی وسائل پر دباؤ کم کرنے اور ہنر مند افرادی قوت کو منظم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
یورپی یونین کے سفر کے لیے نئے قواعد (EES)
برطانوی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے اب یورپی یونین کا سفر بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ یورپی یونین نے اپنا نیا انٹری اور ایگزٹ سسٹم (EES) مکمل طور پر نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اب سرحدوں پر پاسپورٹ پر مہر لگانے کے بجائے مسافروں کے فنگر پرنٹس اور چہرے کا ڈیجیٹل اسکین لیا جاتا ہے۔ اس نظام کا مقصد مسافروں کے 90 دن کے قیام کی حد کو خودکار طریقے سے ٹریک کرنا ہے۔ اس حوالے سے مزید سرکاری معلومات آپ GOV.UK Travel Advice پر دیکھ سکتے ہیں۔ برطانیہ کے مسافروں کو اب شینگن ممالک میں داخل ہوتے وقت زیادہ وقت لگ سکتا ہے، اس لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ ائیرپورٹ پر وقت سے پہلے پہنچیں۔
2026 میں ہونے والی یہ تمام تبدیلیاں برطانیہ کے امیگریشن نظام کو ایک نئے اور جدید موڑ پر لے آئی ہیں۔ چاہے آپ ایک برطانوی شہری ہوں یا وہاں مقیم تارکین وطن، ان قوانین کی پاسداری کرنا آپ کے خوشگوار مستقبل اور پریشانی سے پاک سفر کے لیے ناگزیر ہے



