spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

یو اے ای ویزا الرٹ : وزٹ ویزا والوں کے لیے "ایگزٹ” کا اصول سخت کر دیا گیا – ملک کے اندر ویزا تبدیلی کا دور ختم

31 دسمبر 2025 کی ایمنسٹی ڈیڈ لائن گزرتے ہی، یو اے ای نے وزٹ ٹو ورک ویزا ٹرانسفر کے لیے "ایگزٹ” رول کو سختی سے نافذ کر دیا ہے۔ جانیے کہ ان کنٹری اسٹیٹس چینج کیوں روکا گیا، اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں، اور 2026 کے لیے A2A کا عمل کیسے کام کرتا ہے۔


دبئی کے فلیٹ میں بیٹھ کر "ویزا اسٹیٹس” تبدیل کرنے کا دور اب باضابطہ طور پر ختم ہو چکا ہے۔ جیسے ہی ہم جنوری 2026 میں داخل ہو رہے ہیں، متحدہ عرب امارات (UAE) نے اپنی امیگریشن تاریخ کی سخت ترین مہمات میں سے ایک کو نافذ کر دیا ہے۔ وہ "چور راستہ” جس کے ذریعے سیاح ملک چھوڑے بغیر اپنے وزٹ ویزا کو ورک پرمٹ میں تبدیل کر لیتے تھے، اب سختی سے بند کر دیا گیا ہے۔

بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے نوکری کے خواہشمند افراد کے لیے، یہ سال کی سب سے اہم اپ ڈیٹ ہے۔ اگر آپ فی الحال یو اے ای میں سیاحتی ویزا پر ہیں اور نوکری تلاش کرنے کی امید کر رہے ہیں، تو آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کھیل کے اصول بدل چکے ہیں۔ اب آپ ملک کے اندر فیس ادا کر کے اسٹیٹس تبدیل نہیں کر سکتے۔ آپ کو لازمی طور پر ملک چھوڑنا (Exit) ہوگا۔

یہ تفصیلی گائیڈ وضاحت کرتی ہے کہ اصل میں کیا ہو رہا ہے، وہ کون سی تین بڑی وجوہات ہیں جن کی بنا پر حکومت نے یہ فیصلہ کیا، اور اب آپ کو کس طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔

فوری وجہ: 2025 ویزا ایمنسٹی کا خاتمہ

یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ اب کیوں ہو رہا ہے، ہمیں ٹائم لائن پر نظر ڈالنی ہوگی۔ یو اے ای کی حکومت نے 2025 کے آخر میں ایک بہت بڑا "ویزا ایمنسٹی” (عام معافی) پروگرام شروع کیا تھا، جس میں 31 دسمبر 2025 تک توسیع کی گئی تھی۔ یہ ایمنسٹی ایک انسانی ہمدردی کا اقدام تھا، جس نے ہزاروں اوور اسٹے (غیر قانونی) ہونے والوں کو اجازت دی کہ وہ یا تو اپنی حیثیت کو قانونی بنائیں یا بغیر جرمانے کے ملک چھوڑ دیں۔

تاہم، حکومت نے واضح کر دیا تھا: ایمنسٹی ختم ہوتے ہی، زیرو ٹالرنس (Zero Tolerance) شروع ہو جائے گی۔ یکم جنوری 2026 سے، وفاقی اتھارٹی برائے شناخت اور شہریت (ICP) نے سسٹم کو ری سیٹ کر دیا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ سسٹم مکمل صاف ہو جائے، انہوں نے ایمپلائمنٹ ویزوں کے لیے "ان کنٹری اسٹیٹس چینج” (In-Country Status Change) کا آپشن غیر فعال کر دیا ہے۔ یہ ہر نئے کارکن کو مجبور کرتا ہے کہ وہ مناسب قانونی راستے سے ملک میں داخل ہو—یعنی ایک ملازم کے طور پر، سیاح کے طور پر نہیں۔

سخت نفاذ کے پیچھے 3 اہم وجوہات

بہت سے لوگ پوچھ رہے ہیں، "انہوں نے اس سسٹم کو کیوں بدلا جو چل رہا تھا؟” یہ فیصلہ بے مقصد نہیں ہے؛ یہ ڈیٹا اور سیکیورٹی پر مبنی ہے۔

  1. "سیاحتی کارکن” (Tourist Worker) کے رجحان کو روکنا یو اے ای "سیاحت” کو "روزگار” سے الگ کرنا چاہتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، لاکھوں لوگ سستے 3 ماہ کے سیاحتی ویزوں پر داخل ہوئے جن کا سیاحت کا کوئی ارادہ نہیں تھا—وہ خالصتاً کام کی تلاش میں تھے۔ اس سے سیاحت کا نظام متاثر ہو رہا تھا۔ ایگزٹ (Exit) کو لازمی بنا کر، حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ صرف حقیقی سیاح ہی سیاحتی ویزا کے لیے اپلائی کریں، اور کارکن ورک انٹری پرمٹ پر داخل ہوں۔
  2. سیکیورٹی اور بائیو میٹرک اپ ڈیٹس یو اے ای 2026 کے لیے ایک نیا، جدید ترین بائیو میٹرک سیکیورٹی سسٹم متعارف کروا رہا ہے۔ جب آپ "ملک کے اندر” اپنی حیثیت تبدیل کرتے ہیں، تو آپ اکثر ایئرپورٹ کی سخت سیکیورٹی چیکنگ اور ریٹنا اسکین (Retinal Scans) سے بچ جاتے ہیں۔ آپ کو "ایگزٹ اور ری انٹر” کرنے پر مجبور کر کے، بارڈر سیکیورٹی آپ کو دوبارہ اسکین کرتی ہے، جس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ کوئی بھی مجرمانہ ریکارڈ یا سیکیورٹی بین رکھنے والا شخص سسٹم سے بچ نہ نکلے۔
  3. معاشی ضابطہ (اوور اسٹے کا بحران) 2024-2025 کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ سیاحتی ویزوں پر آنے والے 15 فیصد سے زیادہ زائرین نوکری تلاش کرتے ہوئے اوور اسٹے (غیر قانونی قیام) کر گئے اور غائب ہو گئے۔ اس نے غیر قانونی رہائشیوں کا ایک بڑا بوجھ پیدا کیا۔ نیا اصول ایک فلٹر کے طور پر کام کرتا ہے: اگر آپ ایگزٹ اور ری انٹر کرنے کی فلائٹ کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے، تو آپ غالباً یو اے ای میں بغیر نوکری کے رہنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ کم آمدنی والے، غیر ہنر مند مزدوروں کو بغیر یقینی روزگار کے مارکیٹ میں آنے سے روکتا ہے۔

نیا عمل: ایئرپورٹ ٹو ایئرپورٹ (A2A)

چونکہ اب آپ دبئی میں بیٹھ کر اپنا ویزا تبدیل نہیں کر سکتے، اس لیے آپ کو A2A (ایئرپورٹ ٹو ایئرپورٹ) طریقہ استعمال کرنا ہوگا۔ جنوبی ایشیائی درخواست دہندگان کے لیے اب یہ معیاری طریقہ کار ہے۔

پہلا مرحلہ: جاب آفر حاصل کریں آپ انٹرویو پاس کرتے ہیں، اور کمپنی آپ کا "آفر لیٹر” جاری کرتی ہے۔ آپ اس پر دستخط کرتے ہیں۔

دوسرا مرحلہ: ایمپلائمنٹ انٹری پرمٹ کمپنی آپ کے انٹری پرمٹ (گلابی کاغذ) کے لیے اپلائی کرتی ہے۔ پرواز کرنے سے پہلے اس منظوری کا انتظار کریں۔ اس کے بغیر ہرگز نہ جائیں۔

تیسرا مرحلہ: "ویزا رن” فلائٹ آپ (یا آپ کی کمپنی) A2A پیکج بک کرتے ہیں۔ آپ دبئی یا شارجہ سے کسی قریبی ایئرپورٹ جیسے مسقط (عمان)، بحرین، یا کویت کے لیے پرواز کریں گے۔ لاگت: 1200 سے 1600 درہم (فلائٹ + ویزا پروسیسنگ فیس شامل ہے)۔ وقت: آپ پڑوسی ملک میں اترتے ہیں اور ٹرانزٹ ٹرمینل میں انتظار کرتے ہیں۔ آپ وہاں ایئرپورٹ سے باہر نہیں نکلتے۔ آپ 4 سے 8 گھنٹے انتظار کرتے ہیں جب تک کہ یو اے ای کا سسٹم آپ کی حیثیت کو "Exited” میں اپ ڈیٹ نہ کر دے۔

چوتھا مرحلہ: دوبارہ داخلہ ایک بار جب سسٹم "Exited” ظاہر کرتا ہے، تو آپ کی کمپنی کا پی آر او (PRO) آپ کے فون پر نیا ایمپلائمنٹ ویزا فائل (PDF) بھیجتا ہے۔ آپ اسے ٹرانزٹ ڈیسک پر پرنٹ کرواتے ہیں، واپسی کی پرواز پر سوار ہوتے ہیں، اور بطور رہائشی (Resident) یو اے ای میں داخل ہوتے ہیں۔

استثنیٰ: کون محفوظ ہے؟

ہر کسی کو جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سخت ایگزٹ رول کا اطلاق زیادہ تر وزٹ ویزا سے ایمپلائمنٹ ویزا ٹرانسفر پر ہوتا ہے۔ گولڈن ویزا ہولڈرز: اگر آپ گولڈن ویزا پر اپ گریڈ ہو رہے ہیں، تو آپ عام طور پر ملک کے اندر ہی یہ کر سکتے ہیں۔ شریک حیات/فیملی ویزا: اگر شوہر اپنی بیوی کو اسپانسر کر رہا ہے، تو اسے اکثر باہر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فری زون وی آئی پی: ٹیکوم (TECOM) یا ڈی آئی ایف سی (DIFC) زونز میں کچھ اعلیٰ سطح کے پیشہ ور افراد کے پاس اب بھی "ان کنٹری” آپشنز ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی قیمت بہت زیادہ (2000 درہم سے زیادہ اضافی) ہوتی ہے۔

نوکری تلاش کرنے والوں کے لیے مالی انتباہ

یہ نیا قانون دبئی میں نوکری تلاش کرنا مہنگا بنا دیتا ہے۔ پرانی لاگت: وزٹ ویزا + کھانا + میٹرو۔ نئی لاگت: وزٹ ویزا + کھانا + میٹرو + 1500 درہم ایگزٹ فلائٹ۔ نوکری قبول کرنے سے پہلے، ایچ آر مینیجر سے واضح کریں

"اسٹیٹس چینج فلائٹ کے پیسے کون دے گا؟” یو اے ای لیبر قانون کے تحت، آجر کو ادائیگی کرنی چاہیے، لیکن بہت سی چھوٹی کمپنیاں ملازم کو ادائیگی کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس بات چیت کے لیے تیار رہیں۔


کثرت سے پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

جی ہاں، حتا بارڈر کے ذریعے بس سے عمان کا سفر سستا ہے (800 سے 900 درہم)۔ تاہم، یہ جسمانی طور پر تھکا دینے والا ہے اور اس میں 10 سے 12 گھنٹے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بارڈر کے قوانین کثرت سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ فی الحال، بھارتی اور فلپائنی شہریوں کو اکثر اجازت دی جاتی ہے، لیکن پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کو کبھی کبھی زمینی سرحد پر مسترد کر دیا جاتا ہے اور پرواز کرنے کو کہا جاتا ہے۔ سفر کے دن ہمیشہ ٹریول ایجنٹ سے چیک کریں۔

اگر آپ ایمنسٹی پر انحصار کر رہے تھے یا آپ کا ویزا ختم ہو گیا تھا، اور آپ یکم جنوری 2026 کو بھی ملک میں موجود ہیں، تو آپ پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ جرمانہ 50 درہم یومیہ ہے۔ اب کوئی رعایتی مدت (Grace Period) نہیں ہے۔

نہیں۔ پچھلے سالوں میں، ایک "سٹیٹس چینج فیس” تھی جسے آپ ادا کر کے فلائٹ چھوڑ سکتے تھے۔ وہ آپشن زیادہ تر ایمپلائمنٹ کیٹیگریز کے لیے سسٹم سے ہٹا دیا گیا ہے۔ آپ کو امیگریشن ڈیٹا بیس میں "ایگزٹ” اسٹیمپ جنریٹ کرنے کے لیے جسمانی طور پر باہر جانا ہوگا۔

ہو سکتا ہے وہ جھوٹ نہ بول رہا ہو، لیکن محتاط رہیں۔ کچھ مخصوص فری زونز یا "پارٹنر” ویزوں میں اب بھی کچھ گنجائش ہے۔ تاہم، ایک معیاری مین لینڈ کمپنی کے ایمپلائمنٹ ویزا کے لیے، اگر وہ آپ کے پیسے لے لیتا ہے اور ناکام ہو جاتا ہے، تو آپ کو بہرحال پرواز کرنی پڑے گی اور آپ پیسے کھو دیں گے۔ محفوظ ترین راستہ A2A ہے۔

اس کا امکان کم ہے۔ یو اے ای 2030 کے لیے ایک انتہائی ریگولیٹڈ، سیکیورٹی فرسٹ امیگریشن ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ سخت سرحدی کنٹرول "نیو نارمل” (New Normal) ہیں، کوئی عارضی حل نہیں

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں