صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 16 دسمبر 2025 کو دستخط کیے گئے نئے صدارتی حکم نامے کے بعد امریکہ نے 39 ممالک پر مشتمل نئی سفری پابندیوں کا اطلاق کر دیا ہے جو یکم جنوری 2026 سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ Visavlogurdu.com کی اس خصوصی رپورٹ میں ہم ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) اور امریکی محکمہ خارجہ کے جاری کردہ مستند ضوابط، مکمل پابندی کا شکار 19 ممالک، اور جزوی پابندیوں والے 20 ممالک کی فہرست کا تفصیلی جائزہ لیں گے تاکہ مسافر اور ان کے اہل خانہ ان سخت اسکریننگ پروٹوکولز اور ویزا کیٹیگریز میں ہونے والی تبدیلیوں سے مکمل آگاہ رہ سکیں۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات اور دہشت گردی کے خلاف حفاظتی اقدامات کے پیش نظر، وائٹ ہاؤس نے سفری پابندیوں کے دائرہ کار میں غیر معمولی توسیع کی ہے۔ یہ فیصلہ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) کی جانب سے پیش کی گئی اس رپورٹ کے بعد کیا گیا ہے جس میں ان ممالک کی نشاندہی کی گئی تھی جو مسافروں کے ڈیٹا کی فراہمی، الیکٹرانک پاسپورٹ کے اجرا اور سکیورٹی تعاون میں بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ ان پابندیوں کا مقصد نہ صرف غیر قانونی ہجرت کو روکنا ہے بلکہ ان حکومتوں پر دباؤ ڈالنا بھی ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی نظام کو جدید خطوط پر استوار کریں۔
سفری پابندیوں کی دوہری تقسیم: مکمل اور جزوی پابندیاں
امریکی انتظامیہ نے ان 39 ممالک کو ان کی سکیورٹی صورتحال اور تعاون کی بنیاد پر دو اہم گروپس میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے گروپ میں وہ ممالک شامل ہیں جن پر ویزا کی تمام اقسام کے لیے مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ دوسرے گروپ میں مخصوص ویزا کیٹیگریز پر جزوی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ یہ حکمت عملی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنائی گئی ہے کہ جن ممالک سے سکیورٹی رسک زیادہ ہے وہاں سے آمد و رفت کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکے، جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ ضروری تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کو محدود پیمانے پر برقرار رکھا جائے۔
- مزید پڑھیں
- برطانیہ اسکلڈ ورکر ویزا: 2026 سے انگلش کی نئی شرط
- اٹلی ورک ویزا 2026: 1 لاکھ 65 ہزار جگہیں خالی
- کینیڈا نے ڈاکٹروں کے لیے خصوصی امیگریشن پروگرام کا آغاز کیا
- امریکہ: سفری پابندی والے ممالک کی تعداد میں اضافہ
- جاپان 2026 میں 8 لاکھ 20 ہزار ہنرمندوں کو بلائے گا
1۔ مکمل پابندی والے ممالک (19 ممالک)
ان ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے کے لیے تمام تارکین وطن (Immigrant) اور غیر تارکین وطن (Non-Immigrant) ویزوں کا اجرا روک دیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر وہ ممالک شامل ہیں جہاں سیاسی عدم استحکام ہے یا جہاں دہشت گرد گروہوں کا اثر و رسوخ زیادہ ہونے کی وجہ سے انفرادی جانچ پڑتال ممکن نہیں۔
مکمل پابندی والے ممالک کی فہرست درج ذیل ہے:
- افغانستان، برما (میانمار)، برکینا فاسو
- چاڈ، ریپبلک آف کانگو، استوائی گنی
- اریٹیریا، ہیٹی، ایران
- لاؤس، لیبیا، مالی
- نائجر، سیرا لیون، صومالیہ
- جنوبی سوڈان، سوڈان، شام، اور یمن۔
2۔ جزوی پابندیوں والے ممالک (20 ممالک)
ان ممالک کے لیے امریکی محکمہ خارجہ نے سیاحتی ویزا (B-1/B-2) اور مستقل رہائش کے مخصوص ویزے معطل کیے ہیں، تاہم طلباء (F, M) اور ایکسچینج وزیٹرز (J) کے لیے کیس ٹو کیس بنیاد پر گنجائش رکھی گئی ہے۔
جزوی پابندی والے ممالک کی فہرست درج ذیل ہے:
- انگولا، اینٹیگوا اور باربوڈا، بینن، برونڈی
- کوٹ ڈی آئیور، کیوبا، ڈومینیکا، گیبون
- دی گیمبیا، ملاوی، موریتانیہ، نائیجیریا
- سینیگال، تنزانیہ، ٹوگو، ٹونگا
- ترکمانستان، وینزویلا، زیمبیا، اور زمبابوے۔
پابندیوں کی سرکاری اور قانونی وجوہات
امریکی حکومت نے ان پابندیوں کے دفاع میں واضح کیا ہے کہ یہ اقدام کسی خاص مذہب یا نسل کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ میں چار بنیادی وجوہات بیان کی گئی ہیں جن کی بنیاد پر ان ممالک کا انتخاب کیا گیا ہے۔
شناخت کی تصدیق اور دہشت گردی کے خطرات: کئی متاثرہ ممالک میں حکومت کا اپنے سرحدی علاقوں پر کنٹرول نہیں ہے، جس کی وجہ سے دہشت گرد گروہ جعلی دستاویزات پر سفر کر سکتے ہیں۔ مالی، برکینا فاسو اور یمن جیسے ممالک میں امریکی حکام کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ مقامی ریکارڈ کے ذریعے کسی مسافر کے پس منظر کی تصدیق کر سکیں۔
ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد قیام (Overstay): ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق نائیجیریا، انگولا اور سینیگال جیسے ممالک سے آنے والے مسافروں کی ایک بڑی تعداد ویزا ختم ہونے کے بعد واپس نہیں جاتی۔ اس لیے ان ممالک پر جزوی پابندیاں لگا کر ان کی حکومتوں کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی واپسی کے عمل میں تعاون کریں۔
ملک بدری (Deportation) میں عدم تعاون: سیرا لیون اور کچھ دیگر ممالک نے ان مجرموں کو واپس لینے سے انکار کیا ہے جنہیں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے ملک بدر کرنے کا حکم دیا تھا۔ امریکی قانون کے مطابق ایسے ممالک پر ویزا پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں جو اپنے شہریوں کی واپسی میں بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے۔
سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت (CBI) کے خدشات: اینٹیگوا اور باربوڈا اور ڈومینیکا جیسے جزائر میں پاسپورٹ کی فروخت کے پروگرام (Citizenship by Investment) چل رہے ہیں۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ سیکیورٹی چیکس سے بچنے کے لیے مشکوک افراد ان ممالک کی شہریت خرید کر امریکہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ان ممالک کے پاسپورٹ ہولڈرز پر کڑی نگرانی اور پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
استثنیٰ (Waivers) اور گرین کارڈ ہولڈرز کے لیے ہدایات
2026 کے نئے قوانین کے تحت ویزا کے لیے استثنیٰ (Waiver) حاصل کرنا ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل بنا دیا گیا ہے۔ ہائی رسک ممالک کے شہریوں کے لیے اب کوئی خودکار چھوٹ موجود نہیں۔ تاہم، کچھ مخصوص صورتوں میں چھوٹ کی درخواست دی جا سکتی ہے، جیسے کہ اگر درخواست گزار یہ ثابت کرے کہ اس کا داخلہ امریکہ کے قومی مفاد میں ہے یا اس کی عدم موجودگی سے کسی امریکی شہری کو شدید مالی یا جانی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ریاستہائے متحدہ کے قانونی مستقل رہائشی یعنی گرین کارڈ ہولڈرز اس نئے حکم نامے سے متاثر نہیں ہوں گے۔ وہ اپنے کارآمد گرین کارڈ اور پاسپورٹ پر پہلے کی طرح سفر کر سکتے ہیں۔ اسی طرح دوہری شہریت رکھنے والے افراد اگر کسی ایسے ملک کا پاسپورٹ استعمال کریں جو پابندی کی فہرست میں نہیں ہے (مثلاً کینیڈا یا برطانیہ)، تو وہ ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔
مستقبل کی پالیسی اور سفارت خانوں کو ہدایات
بیورو آف قونصلر افیئرز نے دنیا بھر میں اپنے ویزا افسران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ یکم جنوری 2026 سے ان ضوابط پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا جائے۔ اگر کسی کے پاس پہلے سے کارآمد ویزا موجود ہے تو وہ فی الحال سفر کر سکتا ہے، لیکن ویزا کی تجدید کے وقت اسے نئی اسکریننگ اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی حکومت ان ممالک کی سکیورٹی صورتحال کا ہر چھ ماہ بعد جائزہ لے گی، اور جو ممالک امریکی سکیورٹی معیارات پر پورا اتریں گے، انہیں اس فہرست سے نکال دیا جائے گا۔



