spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

🇵🇰 کینیڈا نے (2028 تک) نئے سٹوڈنٹ پرمٹ کیپ میں 65 فیصد کمی کی تجویز دے دی

کینیڈا کا بین الاقوامی تعلیمی شعبہ غیر یقینی صورتحال...

اٹلی میں پناہ یا بین الاقوامی تحفظ-اسائلم کے لیے کیسے درخواست دیں؟

اٹلی کا بین الاقوامی تحفظ کا نظام ان افراد...

سپین کی شہریت حاصل کرنے کا مکمل طریقہ کار: 2026 کی تفصیلی گائیڈ

سپین کا پاسپورٹ حاصل کرنا دنیا بھر کے تارکین...

کیا یہ سچ ہے کہ بھکاریوں اور غیر قانونی ہجرت پر قابو پانے کے بعد پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ 98 ویں نمبر پر آگئی ہے؟

کیا واقعی پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ اب 98 ویں نمبر پر آگئی ہے؟ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی میں 5 درجے بہتری آئی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں بیرون ملک بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور غیر قانونی ہجرت پر قابو پانا شامل ہیں۔ ویزا و بگ اردو (Visavlogurdu.com) کی اس خصوصی رپورٹ میں ہم آپ کو پاسپورٹ کی نئی طاقت، ویزا فری ممالک کی فہرست اور حکومتی اقدامات کی مکمل تفصیلات فراہم کریں گے تاکہ آپ اپنی اگلی سفری منصوبہ بندی سرکاری اعداد و شمار کی روشنی میں کر سکیں۔

کسی بھی ملک کا پاسپورٹ اس کی بین الاقوامی حیثیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان اس فہرست میں نچلے درجوں پر موجود تھا، لیکن حالیہ اصلاحات نے اس جمود کو توڑ دیا ہے۔ اب پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد دنیا کے 31 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔ اس ترقی کے پیچھے جہاں ٹیکنالوجی کا ہاتھ ہے، وہاں انتظامی سطح پر کیے گئے سخت فیصلے بھی شامل ہیں۔

غیر قانونی سرگرمیوں اور بھکاریوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن

اس سال کی رینکنگ میں بہتری کی ایک سب سے بڑی اور اہم وجہ حکومت پاکستان کی جانب سے ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہے جو وزٹ ویزا یا عمرہ ویزا پر بیرون ملک جا کر بھیک مانگنے جیسے گھناؤنے کاروبار میں ملوث تھے۔ خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک نے پاکستانی حکومت سے اس معاملے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اس مسئلے کے حل کے لیے وزارت داخلہ نے ایک جامع حکمت عملی تیار کی، جس کے تحت مشکوک افراد کی سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال سخت کر دی گئی۔ ایسے گروہوں کی نشاندہی کی گئی جو سادہ لوح شہریوں کو بیرون ملک لے جا کر بھیک مانگنے پر مجبور کرتے تھے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ جو بھی شخص ملک کی بدنامی کا باعث بنے گا، اس کا پاسپورٹ نہ صرف منسوخ کیا جائے گا بلکہ اسے سخت قانونی سزاؤں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ اس اقدام نے بین الاقوامی برادری، بالخصوص خلیجی ممالک میں پاکستان کے وقار کو بحال کیا ہے، جس کا براہ راست فائدہ پاسپورٹ کی طاقت میں اضافے کی صورت میں نکلا ہے۔

غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کی روک تھام میں ایف آئی اے کا کردار

پاسپورٹ کی رینکنگ میں بہتری کا دوسرا بڑا ستون غیر قانونی ہجرت (Illegal Migration) پر قابو پانا ہے۔ ماضی میں غیر قانونی طور پر سرحدیں پار کرنے والے افراد کی وجہ سے پاکستانی پاسپورٹ پر ویزا پابندیاں سخت کر دی گئی تھیں۔ تاہم، وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے انسانی اسمگلروں کے خلاف ملک گیر مہم کا آغاز کیا ہے۔

ایف آئی اے نے زمینی اور سمندری راستوں سے انسانی اسمگلنگ کرنے والے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کا سہارا لیا ہے۔ یونان کشتی حادثے جیسے واقعات کے بعد، حکومت نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے۔ جب کسی ملک سے غیر قانونی ہجرت کا گراف نیچے آتا ہے، تو بین الاقوامی ادارے اس ملک کے شہریوں کے لیے ویزا پالیسیوں میں نرمی کرتے ہیں۔ پاکستان کی حالیہ رینکنگ اس بات کا اعتراف ہے کہ ملک اب اپنے شہریوں کی غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے میں پہلے سے کہیں زیادہ کامیاب ہے۔

Pakistan Passport Ranking (2006 – 2026)
79
2006
79
2007
87
2008
87
2009
90
2010
94
2011
94
2012
91
2013
92
2014
103
2015
103
2016
102
2017
102
2018
104
2019
104
2020
107
2021
109
2022
100
2023
100
2024
103
2025
98
2026
Visavlogurdu.com

جدید ای-پاسپورٹ اور ڈیجیٹل اصلاحات

ٹیکنالوجی کے اس دور میں پاسپورٹ کی سیکیورٹی اس کی طاقت کا تعین کرتی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے پاکستان میں ای-پاسپورٹ سروس کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ ای-پاسپورٹ میں ایک الیکٹرانک چپ ہوتی ہے جس میں حاملِ پاسپورٹ کی تمام بائیومیٹرک معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ اس چپ کی وجہ سے پاسپورٹ کو ٹیمپر کرنا یا جعلی بنانا ناممکن ہو جاتا ہے۔

دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک اب ای-پاسپورٹ کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس سے ایئرپورٹس پر خودکار امیگریشن گیٹس کا استعمال ممکن ہوتا ہے اور سیکیورٹی خدشات کم ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اس جدید نظام کو اپنانے سے بین الاقوامی امیگریشن حکام کا اعتماد بڑھا ہے، جس کی بدولت پاکستانیوں کے لیے سفر کے مراحل آسان ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاسپورٹ کی آن لائن رینیوول اور ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم نے بھی نظام میں شفافیت پیدا کی ہے۔

پاکستانیوں کے لیے ویزا فری اور ویزا آن ارائیول ممالک کی فہرست

98ویں رینکنگ کے ساتھ، پاکستانی شہریوں کے لیے سفری سہولیات میں کچھ حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت 31 ممالک ایسے ہیں جہاں پاکستانی بغیر کسی پیشگی ویزا کے جا سکتے ہیں۔ ان ممالک میں سیاحتی اور کاروباری مقاصد کے لیے سفر کرنا اب پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔

ان ممالک کی فہرست میں قطر، مالدیپ، کمبوڈیا، نیپال، صومالیہ، مڈغاسکر اور کئی کیریبین جزائر شامل ہیں۔ یہ سہولیات ان پاکستانیوں کے لیے بہترین موقع فراہم کرتی ہیں جو بین الاقوامی تجارت یا سیاحت سے منسلک ہیں۔ تاہم، مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سفر سے پہلے متعلقہ ملک کی امیگریشن شرائط ضرور چیک کریں۔ قانونی طور پر بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں کو چاہیے کہ وہ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ سے اپنی رجسٹریشن کروائیں تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ یقینی ہو سکے۔

معاشی استحکام اور سفارتی کامیابی

پاسپورٹ کی طاقت صرف سفری دستاویز تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ ملک کے معاشی استحکام سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ حکومت کی جانب سے بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور "وزٹ پاکستان” جیسی مہمات نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک پرامن اور ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ جب پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بڑھی، تو جواب میں دیگر ممالک نے بھی پاکستانی شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھولنا شروع کر دیے۔

وزارت خارجہ کی متحرک سفارت کاری نے بھی اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مختلف ممالک کے ساتھ ویزا میں نرمی کے معاہدے اور دوطرفہ تجارتی تعلقات نے پاکستانی پاسپورٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ 2026 میں پاکستان کی 98ویں پوزیشن اس طویل سفر کا پہلا قدم ہے جس کا مقصد پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا کے بہترین پاسپورٹس کی فہرست میں شامل کرنا ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل: رینکنگ کو مزید بہتر کیسے بنایا جائے؟

اگرچہ پانچ درجوں کی بہتری ایک مثبت علامت ہے، لیکن پاکستان کو ابھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ رینکنگ کو مزید بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:

  1. بھکاریوں کے گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے۔
  2. غیر قانونی انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کو کڑی سزائیں دی جائیں۔
  3. شہریوں کو قانونی سفری راستوں اور امیگریشن قوانین کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔
  4. تمام شہریوں کے لیے ای-پاسپورٹ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
  5. یورپی اور امریکی ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر ویزا شرائط میں نرمی کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔

پاکستانی شہریوں پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بیرون ملک سفر کے دوران وہاں کے قوانین کا مکمل احترام کریں اور پاکستان کے بہترین سفیر بن کر اپنا کردار ادا کریں۔ آپ کے انفرادی رویے ہی اجتماعی طور پر پاسپورٹ کی طاقت بنتے ہیں۔

پاکستانی پاسپورٹ کی 98ویں پوزیشن پر ترقی اس بات کی عکاس ہے کہ درست سمت میں اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کے نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ بھکاریوں پر پابندی اور غیر قانونی ہجرت کی روک تھام نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کیا ہے۔ Visavlogurdu.com آپ کو ویزا اور امیگریشن سے متعلق تمام تازہ ترین اور مستند معلومات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے سالوں میں پاکستانی پاسپورٹ مزید بلندیوں کو چھوئے گا اور پاکستانیوں کے لیے دنیا کے تمام راستے کھل جائیں گے۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں