spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

امریکی ویزا انٹرویو کے لیے اپنے سوشل میڈیا کا آڈٹ کیسے کریں: 2026 کی سروائیول گائیڈ

امریکی ویزا درخواست دہندگان کے لیے 2026 کا امیگریشن...

کینیڈا کی امیگریشن پالیسی اور کون اور کب کینیڈا چھوڑ رہا ہے؟

کینیڈا کی معاشی ترقی کا پہیہ دہائیوں سے تارکین...

محسن نقوی کا نامکمل دستاویزات کے ساتھ بیرون ملک سفر کرنے والوں کو سخت انتباہ: ایک تفصیلی جائزہ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ کیا اور بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں، خاص طور پر نامکمل دستاویزات کے حامل افراد اور پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا۔ یہ اقدام پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنانے اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے۔ ذیل میں اس اہم خبر کی مکمل تفصیلات، حکومتی اقدامات، اور مسافروں کے لیے ضروری معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

وزیر داخلہ کا دورہ اور بنیادی ہدایات

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کے روز وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ لاہور ایئرپورٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے امیگریشن کاؤنٹرز کا معائنہ کیا اور مسافروں کی روانگی کے عمل کا جائزہ لیا۔ وزیر داخلہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ نامکمل دستاویزات کے ساتھ سفر کرنے کی کوشش کرنے والوں اور پیشہ ور بھکاریوں کو کسی صورت بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "جو لوگ پاکستان کی بدنامی کا باعث بنیں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔”

یہ انتباہ اس تناظر میں سامنے آیا ہے جب مختلف ممالک، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے پاکستانی مسافروں، بالخصوص بھکاریوں اور غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک کا وقار اور مسافروں کی سہولت ان کی اولین ترجیحات ہیں۔

جائز مسافروں کے لیے سہولت کی یقین دہانی

سخت انتباہ کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ جن مسافروں کے پاس مکمل اور درست دستاویزات موجود ہیں، انہیں سفر سے نہیں روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسافر کو بلاوجہ تنگ نہیں کیا جائے گا اور انتظامیہ کا مقصد جائز مسافروں کے لیے عمل کو آسان بنانا ہے۔ ان کا یہ بیان ان خدشات کو دور کرنے کے لیے تھا کہ کہیں کریک ڈاؤن کی آڑ میں عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ محسن نقوی نے ایئرپورٹ حکام کو ہدایت کی کہ وہ مسافروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور امیگریشن کے عمل کو جلد از جلد مکمل کریں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس

اس دورے سے ایک روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی سفر کی روک تھام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اس اجلاس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی کارکردگی اور امیگریشن کے عمل میں موجود کمزوریوں کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ ایف آئی اے نے حال ہی میں انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت میں ملوث 451 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

وزیراعظم نے محسن نقوی کی جانب سے ایئرپورٹس کے اچانک دوروں اور مسافروں کو آف لوڈ کرنے کی شکایات کے ازالے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جن مسافروں کے پاس درست سفری دستاویزات ہیں، انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ قانونی مسافروں کا وقت ضائع نہ ہو۔

ایف آئی اے کی کارروائیوں کے اعداد و شمار

پارلیمانی پینل کے سامنے ایف آئی اے کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال اب تک 66,154 مسافروں کو بیرون ملک جانے سے روکا گیا (آف لوڈ کیا گیا)۔ ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی تھی جو یا تو پیشہ ور بھکاریوں کے گروہ کا حصہ تھے یا پھر ان کے پاس غیر قانونی طور پر سفر کرنے کے لیے مشکوک دستاویزات تھیں۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل رفعت مختار نے بتایا کہ آف لوڈ کیے گئے افراد میں سے تقریباً 51,000 افراد ایسے تھے جن کی سفری دستاویزات، خاص طور پر ورک ویزا، ٹورسٹ ویزا، اور عمرہ ویزا کی جانچ پڑتال کے دوران شکوک و شبہات پائے گئے۔ یہ افراد مبینہ طور پر ان دستاویزات کا غلط استعمال کر کے بیرون ملک جا کر بھیک مانگنے یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ارادہ رکھتے تھے۔

بین الاقوامی ساکھ اور دیگر ممالک کے اقدامات

ایف آئی اے کے حکام نے انکشاف کیا کہ پیشہ ور بھکاریوں اور غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ شدید متاثر ہو رہی ہے۔ سعودی عرب سے حال ہی میں 56,000 بھکاریوں کو ڈیپورٹ کیا گیا، جو کہ ایک تشویشناک بات ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی اس رجحان کو دیکھتے ہوئے پاکستانیوں کے لیے ویزا کی شرائط سخت کر دی ہیں۔

حکام نے مزید بتایا کہ افریقہ اور حتیٰ کہ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ جیسے ممالک کے لیے بھی ٹورسٹ ویزا پر غیر قانونی ہجرت کے رجحانات دیکھے گئے ہیں۔ یہ گروہ منظم انداز میں کام کرتے ہیں اور معصوم شہریوں کو بیرون ملک ملازمتوں کا جھانسہ دے کر یا بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کا استعمال اور کرپشن کا خاتمہ

وزیراعظم شہباز شریف نے امیگریشن کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹولز اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کر کے نہ صرف عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے بلکہ کرپشن کے امکانات کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔

اس ضمن میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایف آئی اے کے اندر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا گیا ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث پائے جانے پر ایف آئی اے کے 196 افسران اور اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت ادارے کی تطہیر اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنجیدہ ہے۔

مسافروں کے لیے اہم ہدایات

جو لوگ بیرون ملک سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:

  1. اپنے سفری دستاویزات (پاسپورٹ، ویزا، ٹکٹ) کی معیاد اور درستگی کو یقینی بنائیں۔
  2. جس مقصد کے لیے ویزا حاصل کیا گیا ہے (مثلاً سیاحت، عمرہ، یا ملازمت)، اسی مقصد کے لیے سفر کریں۔
  3. ایجنٹوں کے دھوکے میں نہ آئیں اور غیر قانونی راستے اختیار کرنے سے گریز کریں۔
  4. ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام کے ساتھ تعاون کریں اور پوچھے گئے سوالات کا درست جواب دیں۔

حکومت کے ان سخت اقدامات کا مقصد نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا ہے بلکہ ان لاکھوں پاکستانیوں کے لیے سفر کو محفوظ اور باوقار بنانا ہے جو قانونی طریقے سے بیرون ملک مقیم ہیں یا سفر کرتے ہیں۔ نامکمل دستاویزات کے ساتھ سفر کی کوشش نہ صرف آپ کے وقت اور پیسے کا ضیاع ہے بلکہ یہ ملک کی بدنامی کا بھی سبب بنتی ہے۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں