spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

برطانوی پاسپورٹ اور دوہری شہریت : اہلیت، فوائد اور درخواست کا مکمل طریقہ کار

برطانوی پاسپورٹ اور دوہری شہریت کے حصول کے حوالے...

امریکہ کا 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ معطل کرنے کا فیصلہ: 21 جنوری 2026 سے عملدرآمد

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بڑے پالیسی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے 21 جنوری 2026 سے پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد "پبلک چارج” کے قانون کے تحت ویزا اسکریننگ کے طریقہ کار پر نظر ثانی کرنا ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ امریکہ آنے والے نئے مستقل باشندے اپنی مالی ضروریات خود پوری کرنے کے قابل ہوں اور وہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلنے والے عوامی امدادی پروگراموں پر بوجھ نہ بنیں۔ یہ معطلی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو مستقل رہائش یا گرین کارڈ کے لیے درخواست دے رہے ہیں، جبکہ سیاحتی، تعلیمی اور عارضی کام کے ویزوں (نان امیگرنٹ ویزا) پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

پبلک چارج رول اور حکومتی موقف امریکی قوانین کے مطابق "پبلک چارج” سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی بنیادی ضروریات کے لیے مکمل طور پر حکومت پر انحصار کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ (travel.state.gov) کے مطابق، حالیہ برسوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ مخصوص ممالک سے آنے والے تارکین وطن میں حکومتی امداد حاصل کرنے کی شرح زیادہ ہے۔ اس لیے اب ویزا افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ درخواست گزار کی عمر، صحت، مالی وسائل، تعلیم اور مہارتوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ اس معطلی کے دوران، حکومت نئے حفاظتی اور مالیاتی اسکریننگ کے ٹولز تیار کرے گی تاکہ مستقبل میں صرف ان لوگوں کو ویزا دیا جائے جو مالی طور پر مستحکم ہوں۔

متاثرہ ممالک اور پاکستان کی صورتحال متاثرہ 75 ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہزاروں پاکستانی خاندان جو اپنے رشتہ داروں کی طرف سے اسپانسر کردہ ویزوں کا انتظار کر رہے ہیں، اب انہیں مزید تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس فہرست میں بھارت شامل نہیں ہے، تاہم روس، ایران، برازیل، نائیجیریا اور افغانستان جیسے بڑے ممالک اس پابندی کی زد میں ہیں۔ امریکی امیگریشن سروسز (uscis.gov) کے مطابق، یہ پابندی غیر معینہ مدت کے لیے ہے اور اس کا خاتمہ اس وقت ہوگا جب نئی اسکریننگ پالیسی مکمل طور پر نافذ کر دی جائے گی۔

درخواست گزاروں کے لیے ضروری ہدایات ایسے افراد جنہوں نے پہلے ہی امیگرنٹ ویزا کے لیے انٹرویو دے دیا ہے یا جن کا انٹرویو ہونے والا ہے، انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے کیس کی حیثیت چیک کرتے رہیں۔ اگرچہ انٹرویو کا عمل جاری رہ سکتا ہے، لیکن 21 جنوری کے بعد فائنل ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔ درخواست گزاروں کو چاہیے کہ وہ اپنے "ایفی ڈیوٹ آف سپورٹ” اور مالی دستاویزات کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ جب پروسیسنگ دوبارہ شروع ہو تو ان کا کیس مسترد نہ ہو۔

نان امیگرنٹ ویزا پر اثرات یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ پابندی صرف امیگرنٹ ویزوں پر ہے۔ وہ لوگ جو 2026 کے فیفا ورلڈ کپ یا دیگر کاروباری و سماجی تقریبات کے لیے امریکہ جانا چاہتے ہیں، وہ اب بھی ویزا کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ تاہم، سفارت خانوں میں اسکریننگ کا عمل اب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔ دوہری شہریت رکھنے والے افراد اگر ایسے ملک کا پاسپورٹ رکھتے ہیں جو اس فہرست میں شامل نہیں ہے، تو وہ اس پابندی سے بچ سکتے ہیں۔

متاثرہ ممالک کی مکمل فہرست اس فیصلے سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، ایران، عراق، روس، نائیجیریا، برازیل، تھائی لینڈ، مصر، ایتھوپیا، اور صومالیہ سمیت دیگر کئی افریقی اور ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ یہ معطلی امریکی حکومت کی اس بڑی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد قانونی امیگریشن کے نظام کو مزید شفاف اور معاشی طور پر مستحکم بنانا ہے۔

متاثرہ ممالک کی براعظم وار فہرست اس پابندی کی زد میں آنے والے ممالک کو مختلف خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ذیل میں ان ممالک کی تفصیل دی جا رہی ہے جن کے لیے امیگرنٹ ویزا سروسز فی الحال معطل کر دی گئی ہیں۔

ایشیا اور بحرالکاہل (14 ممالک) ایشیا میں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھوٹان، برما (میانمار)، کمبوڈیا، فجی، قازقستان، کرغزستان، لاؤس، منگولیا، نیپال، تھائی لینڈ اور ازبکستان بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ بھارت اور چین کو اس پابندی سے باہر رکھا گیا ہے۔

افریقہ (30 ممالک) افریقہ کے 30 ممالک اس فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں جن میں نائیجیریا، مصر، ایتھوپیا اور صومالیہ نمایاں ہیں۔ دیگر ممالک میں الجزائر، کیمرون، کیپ وردے، جمہوریہ کانگو، اریٹیریا، گیمبیا، گھانا، گنی، لائبیریا، لیبیا، مراکش، روانڈا، سینیگال، سیرالیون، جنوبی سوڈان، سوڈان، ٹوگو، تیونس اور یوگنڈا شامل ہیں۔

امریکہ اور کیریبین (17 ممالک) اس خطے میں برازیل، کولمبیا اور ہیٹی جیسے بڑے ممالک کے ساتھ ساتھ اینٹیگوا اور باربوڈا، بہاماس، بارباڈوس، بیلیز، کیوبا، ڈومینیکا، گریناڈا، گوئٹے مالا، جمیکا، نکاراگوا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوسیا، سینٹ ونسنٹ اور یوراگوئے شامل ہیں۔

یورپ اور یوریشیا (11 ممالک) یورپ میں روس اس فہرست کا سب سے اہم ملک ہے۔ اس کے علاوہ البانیہ، آرمینیا، آذربائیجان، بیلاروس، بوسنیا، جارجیا، کوسوو، شمالی مقدونیہ، مالدووا اور مونٹی نیگرو کے شہریوں کے لیے بھی امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ روک دی گئی ہے۔

درخواست گزاروں پر اثرات اور فیفا ورلڈ کپ 2026 ایسے افراد جن کے انٹرویو 21 جنوری 2026 کے بعد طے تھے، انہیں اپنے کیسز کے التواء کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ امریکی امیگریشن سروسز (uscis.gov) کے مطابق، یہ وقفہ صرف اس وقت تک ہے جب تک اسکریننگ کے نئے سافٹ ویئر اور قوانین نافذ نہیں ہو جاتے۔ تاہم، 2026 کے فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے جانے والے سیاحوں کے لیے ویزا کا عمل جاری رہے گا، لیکن اس میں بھی سختی بڑھا دی گئی ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی

پاکستانی اور دیگر متاثرہ ممالک کے شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اسپانسرز کے ذریعے مالی دستاویزات (Affidavit of Support) کو اپ ڈیٹ رکھیں۔ اس وقت کا استعمال ٹیکس ریٹرن اور جائیداد کے کاغذات مکمل کرنے کے لیے کریں تاکہ جب ویزا پروسیسنگ دوبارہ شروع ہو تو آپ کا کیس پبلک چارج کی بنیاد پر مسترد نہ ہو سکے۔پاکستانی شہریوں کے لیے پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ وہ گھبرانے کے بجائے اپنی دستاویزات کی تیاری پر توجہ دیں، کیونکہ یہ ویزا معطلی مستقل نہیں بلکہ اسکریننگ کے عمل کو سخت کرنے کے لیے ہے۔ جن پاکستانیوں کی امیگرنٹ ویزا پٹیشنز (I-130) منظور ہو چکی ہیں یا نیشنل ویزا سینٹر (NVC) میں زیرِ عمل ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے "ایفی ڈیوٹ آف سپورٹ” (Affidavit of Support) کو امریکی ٹیکس قوانین کے مطابق اپ ڈیٹ رکھیں اور اس بات کے ٹھوس ثبوت جمع کریں کہ وہ امریکہ پہنچ کر کسی حکومتی امداد کے محتاج نہیں ہوں گے۔

دوسرا اہم مشورہ یہ ہے کہ اگر آپ کا انٹرویو 21 جنوری 2026 کے بعد طے ہے، تو سفارت خانے کی ہدایات کا باقاعدگی سے انتظار کریں اور اپنا کیس واپس نہ لیں کیونکہ یہ معطلی صرف ویزا جاری کرنے کے مرحلے پر ہے، فائلنگ پر نہیں۔ اس دوران اگر آپ کو کسی ہنگامی صورتحال میں امریکہ جانا ہو تو آپ نان امیگرنٹ (سیاحتی یا بزنس) ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جس پر اس مخصوص پابندی کا اطلاق نہیں ہوتا۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے امریکی سفارت خانے کی آفیشل ویب سائٹ اور ویزا ولاگ (VisaVlog) سے جڑے رہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (امریکی ویزا پابندی)

امریکی محکمہ خارجہ نے پبلک چارج کے خدشات کی وجہ سے ان ویزوں کو روکا ہے تاکہ اسکریننگ کے طریقہ کار کو مزید سخت بنایا جا سکے۔ حکومت یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ امریکہ آنے والے نئے باشندے مالی طور پر خود کفیل ہوں اور وہ امریکی حکومت کے امدادی پروگراموں جیسے میڈیکیڈ یا فوڈ اسٹیمپس پر بوجھ نہ بنیں۔ یہ معطلی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے صحیح استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔

اس فیصلے کا باضابطہ اطلاق 21 جنوری 2026 سے ہو رہا ہے اور یہ تمام 75 فہرست میں شامل ممالک کے لیے لازم ہوگا۔ فی الحال یہ پابندی غیر معینہ مدت کے لیے لگائی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس کے ختم ہونے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔ یہ اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکی محکمہ خارجہ نئے قوانین اور طریقہ کار کو مکمل طور پر نافذ نہیں کر لیتا۔

نہیں، یہ پابندی صرف امیگرنٹ ویزوں (مستقل رہائش) کے لیے ہے اور نان امیگرنٹ ویزوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ سیاحتی ویزا (B1/B2)، طالب علموں کے لیے ویزا (F1) اور عارضی ورک ویزے پہلے کی طرح جاری کیے جاتے رہیں گے۔ تاہم، ویزا انٹرویو کے دوران اب مالی حالات کی جانچ پڑتال پہلے سے زیادہ سخت ہونے کی توقع ہے تاکہ پبلک چارج کے قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو۔

وہ افراد جن کے پاس 21 جنوری 2026 سے پہلے کا جاری کردہ اور درست امیگرنٹ ویزا موجود ہے، وہ اس پابندی سے متاثر نہیں ہوں گے۔ امریکی حکام کے مطابق پہلے سے جاری شدہ ویزوں کو اس فیصلے کے تحت منسوخ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، سفر پر روانہ ہونے سے پہلے اپنے ویزا کی حیثیت کو سرکاری پورٹل پر چیک کرنا ایک بہتر اقدام ہوگا تاکہ کسی بھی پریشانی سے بچا جا سکے۔

امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے متاثرہ ممالک کے شہریوں کے انٹرویو جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن ویزا کا حتمی اجراء روک دیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کا انٹرویو کامیاب بھی ہو جاتا ہے، تو آپ کو ویزا اس وقت تک نہیں ملے گا جب تک یہ معطلی ختم نہیں ہوتی۔ آپ کا کیس انٹرویو کے بعد "ایڈمنسٹریٹو ہولڈ” یا زیر التواء میں چلا جائے گا اور حتمی فیصلے کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔

جی ہاں، دوہری شہریت رکھنے والے وہ افراد جو ایسے ملک کا پاسپورٹ استعمال کریں جو اس فہرست میں شامل نہیں ہے، وہ اس پابندی سے بچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یا امریکی قومی مفاد سے جڑے کیسز میں ویزا افسران خصوصی چھوٹ دے سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں سیکرٹری آف اسٹیٹ یا سیکرٹری آف ہوم لینڈ سیکیورٹی سے باقاعدہ منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔

جی ہاں، امریکی شہری اور مستقل باشندے اپنے رشتہ داروں کے لیے I-130 پٹیشن جمع کروانا جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ پابندی صرف ویزا کے آخری مرحلے یعنی سفارت خانے میں ویزا جاری کرنے پر لاگو ہوتی ہے۔ درخواستیں ابھی جمع کروانے کا فائدہ یہ ہے کہ جب معطلی ختم ہوگی تو آپ کا کیس پہلے ہی لائن میں موجود ہوگا اور آپ کو دوبارہ شروع سے کام نہیں کرنا پڑے گا۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں