spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

2025 میں برطانیہ میں نیٹ مائگریشن 204,000 تک گر گئی: سرکاری ONS ڈیٹا کی تفصیل

2025 میں برطانیہ میں نیٹ مائگریشن میں ریکارڈ کمی:...

سویڈن کی واپسی گرانٹ یکم جنوری 2026 سے بڑھا دی جائے گی—دھوکہ دہی کے خلاف سخت نئے اقدامات

سویڈش مائیگریشن ایجنسی (Migrationsverket) رضاکارانہ واپسی سکیم، جسے مقامی...

🇵🇰 کینیڈا نے (2028 تک) نئے سٹوڈنٹ پرمٹ کیپ میں 65 فیصد کمی کی تجویز دے دی

کینیڈا کا بین الاقوامی تعلیمی شعبہ غیر یقینی صورتحال...

برطانوی پاسپورٹ اور دوہری شہریت : اہلیت، فوائد اور درخواست کا مکمل طریقہ کار

برطانوی پاسپورٹ اور دوہری شہریت کے حصول کے حوالے سے یہ جامع گائیڈ آپ کو برطانیہ کے امیگریشن قوانین، شہریت کے حصول کے طریقوں اور دو پاسپورٹ رکھنے کے قانونی حقوق کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا آپ برطانوی شہریت کے ساتھ اپنی اصل شہریت برقرار رکھ سکتے ہیں، تو یہ مضمون آپ کے تمام سوالات کے جوابات سرکاری ذرائع کی روشنی میں فراہم کرے گا۔ برطانوی حکومت کے قوانین کے مطابق دوہری شہریت کا حصول نہ صرف آپ کو سفری آزادی دیتا ہے بلکہ آپ کو برطانیہ میں مستقل رہائش اور کام کرنے کا قانونی حق بھی فراہم کرتا ہے۔

برطانوی شہریت کا قانون جسے برطانوی شہریت ایکٹ 1981 کہا جاتا ہے، وہ بنیادی قانونی دستاویز ہے جو یہ طے کرتی ہے کہ کون شخص برطانوی شہری بن سکتا ہے اور اس کے حقوق کیا ہوں گے۔ اس قانون کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ دوہری شہریت کی مکمل اجازت دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برطانوی قانون کے تحت آپ کو برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے اپنی پچھلی قومیت چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ لچکدار قانون ان تارکین وطن کے لیے انتہائی اہم ہے جو برطانیہ میں آباد ہیں لیکن اپنے آبائی ملک کے ساتھ بھی اپنا قانونی اور جذباتی تعلق برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ جب آپ برطانوی شہری بن جاتے ہیں تو آپ کو وہی حقوق حاصل ہوتے ہیں جو ایک پیدائشی برطانوی شہری کو حاصل ہوتے ہیں۔ اس میں ووٹ ڈالنے کا حق، عوامی عہدہ سنبھالنے کا حق، اور بغیر کسی پابندی کے برطانیہ میں رہنے اور کام کرنے کی آزادی شامل ہے۔

دوہری شہریت کے معاملے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگرچہ برطانیہ آپ کو دو پاسپورٹ رکھنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن آپ کا دوسرا ملک شاید ایسا نہ کرتا ہو۔ کچھ ممالک جیسے بھارت، چین یا ملائیشیا اپنے شہریوں کو کسی دوسرے ملک کی شہریت لینے کی صورت میں اپنی شہریت چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔ خوش قسمتی سے، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوہری شہریت کا باقاعدہ معاہدہ موجود ہے، جس کی بدولت پاکستانی شہری بیک وقت پاکستانی پاسپورٹ اور برطانوی پاسپورٹ رکھ سکتے ہیں۔ ایسے افراد کو نائکاپ کارڈ کی سہولت بھی ملتی ہے جس سے وہ پاکستان میں ویزا کے بغیر داخل ہو سکتے ہیں۔ برطانوی حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ان کے شہری دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں، انہیں ضروری قونصلر امداد فراہم کی جائے، تاہم جس ملک کی آپ کے پاس دوسری شہریت ہے وہاں برطانوی سفارتی تحفظ کی کچھ حدود ہو سکتی ہیں۔

برطانوی شہریت حاصل کرنے کے لیے سب سے عام راستہ نیچرلائزیشن کہلاتا ہے۔ اس عمل کے لیے کچھ سخت شرائط ہیں جن پر پورا اترنا لازمی ہے۔ عام طور پر آپ کو برطانیہ میں کم از کم پانچ سال تک قانونی طور پر مقیم ہونا چاہیے اور درخواست دینے سے پہلے کم از کم ایک سال تک آپ کے پاس انڈیفینٹ لیو ٹو ریمین (ILR) ہونا چاہیے۔ اگر آپ کی شادی کسی برطانوی شہری سے ہوئی ہے تو رہائش کی یہ مدت کم ہو کر تین سال ہو جاتی ہے۔ رہائش کے دورانیے کے دوران آپ کو یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ ایک مخصوص تعداد سے زیادہ دن برطانیہ سے باہر نہیں رہے۔ ہوم آفس آپ کی غیر موجودگی کے ایام کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ کا مستقل ٹھکانہ برطانیہ ہی ہے۔

شہریت کی درخواست کے لیے ایک اور اہم شرط ‘اچھا کردار’ یا ‘Good Character’ ہے۔ برطانوی ہوم آفس آپ کے گذشتہ دس سالوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیتا ہے۔ اس میں آپ کا مجرمانہ ریکارڈ، پولیس کیسز، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی، اور یہاں تک کہ آپ کے مالی معاملات جیسے کہ ٹیکس کی ادائیگی اور دیوالیہ پن بھی شامل ہیں۔ اگر کسی شخص نے جان بوجھ کر ہوم آفس سے کوئی معلومات چھپائی ہوں یا دھوکہ دہی سے ویزا حاصل کیا ہو، تو اس کی شہریت کی درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔ اچھے کردار کی تعریف میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آپ نے کبھی کسی ممنوعہ تنظیم سے تعلق نہ رکھا ہو اور آپ برطانوی اقدار کے احترام کا عزم رکھتے ہوں۔

تعلیمی اور لسانی لحاظ سے بھی کچھ تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔ درخواست گزار کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ انگریزی زبان بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے لیے عام طور پر B1 سطح کا انگریزی ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے یا ایسی ڈگری دکھانی ہوتی ہے جو انگریزی زبان میں پڑھائی گئی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ لائف ان دی یو کے ٹیسٹ پاس کرنا بھی لازمی ہے، جو برطانیہ کی تاریخ، معاشرت، اور سیاسی نظام کے بارے میں آپ کی معلومات کو پرکھتا ہے۔ یہ ٹیسٹ 24 سوالات پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے پاس کرنے کے لیے 75 فیصد نمبر لینا ضروری ہوتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ پاس کرنا شہریت کے حصول کی راہ میں ایک لازمی قدم ہے جسے ایک بار پاس کر لینے کے بعد یہ تاحیات معتبر رہتا ہے۔

جب آپ کی شہریت کی درخواست منظور ہو جاتی ہے، تو آخری مرحلہ شہریت کی تقریب ہوتا ہے۔ یہ تقریب مقامی کونسل کے زیر انتظام منعقد ہوتی ہے جس میں آپ کو برطانیہ کے وفاداری کا حلف اٹھانا پڑتا ہے۔ حلف اٹھانے کے بعد آپ کو شہریت کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اب آپ قانونی طور پر ایک برطانوی شہری ہیں۔ یہ تقریب ایک پروقار موقع ہوتا ہے جہاں آپ کو نئے وطن میں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ اس تقریب کے بعد آپ کو اپنے آبائی ملک کے پاسپورٹ پر برطانیہ کا ویزا دکھانے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ آپ اپنے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پاسپورٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

اپنا پہلا برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کا عمل اب زیادہ تر ڈیجیٹل ہو چکا ہے۔ آپ کو اپنی شہریت کا سرٹیفکیٹ، موجودہ پاسپورٹ اور دیگر شناختی دستاویزات ہوم آفس بھیجنی ہوتی ہیں۔ پہلے پاسپورٹ کے لیے اکثر ایک انٹرویو بھی لیا جاتا ہے تاکہ آپ کی شناخت کی تصدیق کی جا سکے۔ یہ انٹرویو عام طور پر آن لائن یا مخصوص سینٹرز پر ہوتا ہے جہاں آپ سے آپ کی درخواست میں دی گئی معلومات کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں۔ یہ عمل سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی اہم ہے تاکہ پاسپورٹ کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

دوہری شہریت رکھنے کے جہاں بہت سے فوائد ہیں، وہاں کچھ قانونی باریکیاں بھی ہیں۔ مثلاً، سفارتی تحفظ کے معاملے میں برطانوی حکومت آپ کو اس ملک میں تحفظ فراہم نہیں کر پائے گی جس کی آپ کے پاس دوسری شہریت ہے۔ اگر آپ پاکستان میں موجود ہیں اور آپ کے پاس پاکستانی اور برطانوی دونوں شہریت ہے، تو وہاں آپ کو ایک مقامی شہری تصور کیا جائے گا۔ تاہم، کسی بھی تیسرے ملک میں جہاں آپ بطور سیاح جاتے ہیں، وہاں آپ کو مکمل برطانوی سفارتی تحفظ حاصل ہوگا۔ اسی لیے سفر کے دوران ہمیشہ یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ برطانوی پاسپورٹ کو ہی اپنی بنیادی شناخت کے طور پر استعمال کریں۔

سفر کے دوران دوہری شہریت کے حامل افراد کو اکثر الجھن ہوتی ہے کہ کون سا پاسپورٹ استعمال کیا جائے۔ بین الاقوامی سفری پروٹوکول کے مطابق، برطانیہ سے باہر جاتے وقت اور واپس داخل ہوتے وقت ہمیشہ برطانوی پاسپورٹ استعمال کریں کیونکہ آپ کے پاس برطانیہ میں داخلے کا حق اسی پاسپورٹ پر درج ہے۔ اپنے دوسرے ملک میں داخل ہوتے وقت آپ وہاں کا پاسپورٹ دکھا سکتے ہیں تاکہ آپ کو ویزا کی ضرورت نہ پڑے۔ اس طرح آپ دونوں ممالک کی سفری سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پاسپورٹ کی موجودہ فیسیں بھی درخواست کے وقت مدنظر رکھنی چاہئیں کیونکہ آن لائن درخواست دینا ہمیشہ سستا اور تیز رفتار ہوتا ہے۔

بچوں کی شہریت کے قوانین بھی کافی دلچسپ ہیں۔ اگر بچہ برطانیہ میں پیدا ہوا ہے اور اس کی پیدائش کے وقت والدین میں سے کوئی ایک برطانوی شہری یا سیٹلڈ تھا، تو بچہ پیدائشی طور پر برطانوی بن جاتا ہے۔ اگر بچہ برطانیہ سے باہر پیدا ہوا ہے لیکن اس کے والدین میں سے کوئی ایک برطانوی شہری ہے تو وہ بچہ بھی برطانوی شہریت کا حقدار ہو سکتا ہے۔ ہوم آفس کا آن لائن ٹول والدین کو یہ چیک کرنے میں مدد دیتا ہے کہ آیا ان کا بچہ برطانوی شہریت کا اہل ہے یا نہیں۔ بچوں کے لیے پاسپورٹ کی درخواست کا عمل بڑوں کے مقابلے میں تھوڑا مختلف ہوتا ہے جس میں والدین کی رضامندی اور دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے۔

ٹیکس کے حوالے سے برطانیہ کا نظام آپ کی رہائش گاہ پر منحصر ہے۔ برطانوی شہری ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو لازمی طور پر برطانیہ میں ٹیکس دینا ہوگا، بلکہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ سال کا کتنا حصہ برطانیہ میں گزارتے ہیں۔ اگر آپ برطانیہ کے ٹیکس ریزڈنٹ ہیں، تو آپ کو اپنی عالمی آمدنی پر برطانیہ میں ٹیکس دینا ہوگا۔ دوہری شہریت رکھنے والوں کو اپنے اثاثوں اور آمدنی کی تفصیلات دونوں ممالک کے قوانین کے مطابق ترتیب دینی چاہئیں تاکہ کسی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

برطانوی پاسپورٹ کی تجدید یا رینیوول کا عمل پہلے پاسپورٹ کے مقابلے میں کافی سادہ ہے۔ اگر آپ کا پاسپورٹ ختم ہونے والا ہے یا اس کی میعاد ختم ہو چکی ہے، تو آپ اسے آن لائن رینیو کر سکتے ہیں۔ 2026 میں پاسپورٹ سروسز مزید تیز ہو چکی ہیں اور ڈیجیٹل فوٹو گراف کے ذریعے یہ عمل منٹوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ برطانیہ سے باہر مقیم ہیں، تو آپ وہاں کے برطانوی سفارت خانے کے ذریعے بھی یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔

کچھ صورتوں میں لوگ اپنی برطانوی شہریت چھوڑنا چاہتے ہیں، جسے دستبرداری کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر تب ہوتا ہے جب کوئی شخص کسی ایسے ملک کی شہریت لینا چاہے جو دوہری شہریت کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ ایک سنجیدہ فیصلہ ہے کیونکہ ایک بار شہریت چھوڑنے کے بعد اسے دوبارہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس عمل کے لیے باقاعدہ فیس اور قانونی وجوہات فراہم کرنی ہوتی ہیں۔

آخر میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ برطانوی شہریت ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی ہے۔ برطانوی شہری کی حیثیت سے آپ کو جمہوری عمل میں حصہ لینے اور برطانوی قوانین کی پاسداری کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوہری شہریت آپ کو دو ثقافتوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ ویزا و بگ (VisaVlog.com) ہمیشہ یہ مشورہ دیتا ہے کہ کسی بھی قانونی کارروائی سے پہلے تمام معلومات سرکاری ویب سائٹس سے تصدیق کر لیں تاکہ آپ کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔ برطانوی حکومت کی تمام امیگریشن سروسز کا پورٹل آپ کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ دستیاب ہے۔

اس تفصیلی گائیڈ کا مقصد آپ کو ان تمام پہلوؤں سے آگاہ کرنا تھا جو برطانوی پاسپورٹ اور دوہری شہریت کے سفر میں آپ کے کام آ سکتے ہیں۔ چاہے وہ فیسوں کا معاملہ ہو، سفری دستاویزات کی تیاری ہو یا بچوں کی شہریت، ہر قدم پر احتیاط اور درست معلومات آپ کی کامیابی کی کلید ہیں۔ برطانیہ کی شہریت حاصل کرنا آپ کی زندگی کا ایک نیا باب ثابت ہو سکتا ہے جو آپ کو عالمی سطح پر بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے۔

بار بار پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

جی ہاں، برطانیہ کے قوانین کے مطابق آپ برطانوی شہری بننے کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ برطانوی حکومت آپ کو اپنا اصل پاسپورٹ یا شہریت چھوڑنے پر مجبور نہیں کرتی، بشرطیکہ آپ کا دوسرا ملک بھی اس کی اجازت دیتا ہو۔ اس طرح آپ قانونی طور پر بیک وقت دو پاسپورٹ رکھنے کے حقدار ہو سکتے ہیں اور دونوں ممالک کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستانی شہری جو برطانیہ میں قانونی طور پر مقیم ہیں اور انڈیفینٹ لیو ٹو ریمین (ILR) حاصل کر چکے ہیں، وہ نیچرلائزیشن کے ذریعے برطانوی شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوہری شہریت کا معاہدہ موجود ہے، جس کی وجہ سے پاکستانیوں کو اپنی اصل شہریت چھوڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ شہریت ملنے کے بعد آپ برطانوی پاسپورٹ کے لیے آن لائن یا ڈاک کے ذریعے باآسانی درخواست دے سکتے ہیں۔

سفر کے دوران بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ برطانیہ سے نکلتے اور واپس آتے وقت اپنا برطانوی پاسپورٹ استعمال کریں تاکہ امیگریشن کے مسائل سے بچ سکیں۔ اپنے دوسرے ملک میں داخل ہوتے وقت آپ وہاں کا پاسپورٹ استعمال کر سکتے ہیں تاکہ ویزا کی ضرورت نہ پڑے اور آپ مقامی شہری کی حیثیت سے داخل ہوں۔ تاہم ایئر لائن چیک ان کے وقت ہمیشہ وہ پاسپورٹ دکھائیں جس پر آپ کی منزل مقصود کا ویزا یا داخلے کا قانونی حق موجود ہو۔

اگر آپ اس ملک میں موجود ہیں جس کی آپ کے پاس دوسری شہریت ہے، تو برطانوی حکومت وہاں آپ کو مکمل سفارتی تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق، ایک ملک اپنے اس شہری کو دوسرے ملک سے سفارتی تحفظ نہیں دے سکتا جس کا وہ شخص خود بھی شہری ہو۔ تاہم کسی بھی تیسرے ملک (جہاں کی شہریت آپ کے پاس نہیں) میں آپ کو برطانوی شہری کے طور پر تمام سفارتی مراعات اور ہنگامی امداد حاصل ہوگی۔

برطانوی پاسپورٹ کی فیس اس بات پر منحصر ہے کہ آپ برطانیہ کے اندر سے درخواست دے رہے ہیں یا باہر سے، اور آپ آن لائن اپلائی کر رہے ہیں یا پیپر فارم کے ذریعے۔ عام طور پر آن لائن درخواست پیپر فارم کے مقابلے میں سستی ہوتی ہے اور اس کا عمل بھی کافی تیز ہوتا ہے۔ چونکہ فیسوں میں برطانوی حکومت وقتاً فوقتاً تبدیلی کرتی رہتی ہے، اس لیے درخواست دینے سے پہلے GOV.UK کی آفیشل ویب سائٹ سے تازہ ترین نرخ چیک کرنا سب سے بہتر ہے۔

برطانوی شہریت خود بخود ختم نہیں ہوتی چاہے آپ کسی دوسرے ملک کی شہریت ہی کیوں نہ حاصل کر لیں۔ شہریت صرف اسی صورت میں ختم ہوتی ہے جب آپ خود اسے باقاعدہ ‘Renunciation’ کے عمل کے ذریعے چھوڑنے کی درخواست دیں یا انتہائی غیر معمولی قومی سلامتی کے حالات میں حکومت اسے منسوخ کر دے۔ اس لیے دوہری شہریت رکھنے والوں کو اپنی برطانوی حیثیت کھونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا جب تک وہ خود اس سے دستبردار نہ ہوں۔

برطانیہ میں پیدا ہونے والا ہر بچہ خود بخود برطانوی شہری نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ پیدائش کے وقت والدین میں سے کم از کم ایک برطانوی شہری ہو یا برطانیہ میں سیٹلڈ (ILR) ہو۔ اگر والدین میں سے کوئی بھی برطانوی نہیں ہے تو بچے کی شہریت کے لیے بعد میں مخصوص شرائط کے تحت رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جا سکتا ہے۔ والدین کی شہریت کی بنیاد پر بچہ اپنی اصل سرزمین اور برطانیہ دونوں کی دوہری شہریت کا حقدار ہو سکتا ہے۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں