spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

اٹلی کی 5.4 million غیر ملکی آبادی: اس کے مستقبل کا ناگزیر حصہ

برسوں سے، اٹلی میں امیگریشن سے متعلق بحثیں سرحدوں...

یونان میں پاکستانی تارکین وطن: آبادی، روزگار اور معیار زندگی کا تفصیلی جائزہ

یونان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی ملک کی تارکین وطن...

پرتگال کے جاب سیکر ویزا کے حوالے سے اہم اپ ڈیٹ: 2025 میں بڑی تبدیلیاں

لزبن، پرتگال – ہزاروں تارکین وطن کے لیے ایک...

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پری امیگریشن کا تاریخی معاہدہ

پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے مسافروں کی سہولت کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سسٹم کے ایک دور رس معاہدے پر دستخط کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے جس سے سفری عمل عالمی معیار کے مطابق انتہائی آسان ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے مطابق اس جدید اسٹریٹجک اقدام کے تحت پاکستانی مسافر اپنی پرواز کی روانگی سے قبل ہی پاکستان کے اندر یو اے ای کی تمام امیگریشن کارروائیاں مکمل کر سکیں گے۔ اس نظام کے باقاعدہ نفاذ سے مسافر یو اے ای کے بین الاقوامی ایئرپورٹس پر پہنچ کر لمبی لائنوں میں انتظار کرنے کے بجائے ڈومیسٹک مسافروں کی طرح براہ راست باہر جا سکیں گے جس سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں اضافہ ہوگا بلکہ عوامی آمد و رفت اور تجارت کو بھی نئی وسعتیں ملیں گی۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین سفری سہولیات کا نیا افق

پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مابین تعلقات دہائیوں پر محیط بھائی چارے اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔ ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حال ہی میں ایک ایسے انقلابی سفری نظام پر اتفاق کیا گیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف ثابت ہوگا۔ پری امیگریشن کلیئرنس کے نام سے متعارف کروائے جانے والے اس نظام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مسافروں کو دبئی، ابوظہبی، شارجہ یا راس الخیمہ پہنچ کر گھنٹوں امیگریشن کاؤنٹرز پر انتظار کرنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا ڈیزائن اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ امیگریشن کا تمام تر بوجھ منزل کے بجائے روانگی کے مقام یعنی پاکستان منتقل کر دیا جائے تاکہ مسافروں کا وقت، توانائی اور سرمایہ بچایا جا سکے۔

یہ تاریخی اور اسٹریٹجک فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور متحدہ عرب امارات کے ایک انتہائی اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم ملاقات میں کیا گیا۔ اماراتی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لاہج الفلاسی کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں نہ صرف سفری سہولیات پر بات ہوئی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید جدید بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے اس موقع پر واضح کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مسافروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ سرکاری ویب سائٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے مطابق پاکستان اپنے پاسپورٹ کنٹرول اور امیگریشن کے نظام کو بین الاقوامی ڈیجیٹل معیار کے مطابق ڈھال رہا ہے تاکہ پاکستانی مسافروں کو دنیا بھر میں عزت اور سہولت مل سکے۔

کراچی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ: پائلٹ پروجیکٹ کی تفصیلات

اس جدید اور جدید ترین نظام کا باقاعدہ آغاز ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے کیا جا رہا ہے۔ کراچی کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ پاکستان کا معاشی حب ہے اور یہاں سے خلیجی ممالک، بالخصوص متحدہ عرب امارات کے لیے پروازوں کا حجم ملک کے کسی بھی دوسرے ایئرپورٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ کراچی میں اس نظام کی کامیابی کے بعد اسے لاہور، اسلام آباد، پشاور، ملتان اور فیصل آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں تک مرحلہ وار پھیلایا جائے گا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ماہرین اس منصوبے کی زمینی سطح پر نگرانی کریں گے تاکہ اماراتی حکام کے ساتھ ڈیٹا کے تبادلے کا عمل مکمل طور پر محفوظ اور تیز رفتار ہو۔ اس منصوبے کے تحت کراچی ایئرپورٹ پر خصوصی ‘یو اے ای زونز’ قائم کیے جائیں گے جہاں متحدہ عرب امارات کے امیگریشن افسران خود تعینات ہوں گے۔ یہ افسران مسافروں کے کاغذات، ویزا کی قانونی حیثیت اور بائیومیٹرک ڈیٹا کی تصدیق جہاز پر سوار ہونے سے پہلے ہی مکمل کر لیں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ یہ سہولت ان لاکھوں محنت کشوں کے لیے ایک تحفہ ہے جو اپنی محنت سے پاکستان کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کماتے ہیں۔

‘روڈ ٹو مکہ’ ماڈل: کامیابی کی ایک مثال

پاکستان کے لیے اس طرح کا نظام نیا نہیں ہے، کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ ‘روڈ ٹو مکہ’ پروجیکٹ پہلے ہی کامیابی سے چل رہا ہے۔ اس منصوبے نے ثابت کیا کہ اگر امیگریشن کا عمل روانگی کے وقت ہی مکمل کر لیا جائے تو اس سے نہ صرف مسافروں کی پریشانی ختم ہوتی ہے بلکہ منزل والے ملک کے ایئرپورٹس پر بھی دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ اسی کامیاب ماڈل کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ متحدہ عرب امارات کے سرکاری پورٹل یو اے ای گورنمنٹ پر دستیاب معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ اماراتی حکومت اپنے ایئرپورٹس کو ‘سمارٹ گیٹس’ اور ڈیجیٹل امیگریشن کی طرف منتقل کر رہی ہے، اور پاکستان کے ساتھ یہ اشتراک اسی عالمی وژن کا حصہ ہے۔

اس نظام کی بدولت مسافروں کی عزتِ نفس میں اضافہ ہوگا کیونکہ انہیں غیر ملکی ایئرپورٹس پر طویل انتظار کے دوران پیش آنے والی تھکاوٹ اور الجھنوں سے چھٹکارا مل جائے گا۔ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا یہ نیا باب دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لائے گا۔ یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات میں 1.5 ملین سے زیادہ پاکستانی مقیم ہیں جو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان مسافروں کے لیے اماراتی وزارت برائے افرادی قوت ایم او ایچ آر ای کے قوانین کے مطابق ورک پرمٹ اور ویزا کی تصدیق کا عمل بھی اب پاکستان میں ہی سہولت کے ساتھ مکمل ہو سکے گا۔

جدید ٹیکنالوجی، نادرا اور سیکیورٹی انٹیگریشن

پری امیگریشن کلیئرنس سسٹم کی بنیاد جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر رکھی گئی ہے۔ اس کے لیے پاکستان کے ادارے نادرا اور یو اے ای کے امیگریشن ڈیٹا بیس کے درمیان ایک محفوظ اور تیز ترین لنک قائم کیا جا رہا ہے۔ جب ایک مسافر کراچی ایئرپورٹ پر مخصوص کاؤنٹر پر پہنچے گا، تو اس کا پاسپورٹ اسکین ہوتے ہی اس کی تمام تفصیلات خود بخود یو اے ای کے مرکزی امیگریشن سسٹم میں اپ ڈیٹ ہو جائیں گی۔ ویزا کی میعاد اور قانونی حیثیت کی تصدیق جی ڈی آر ایف اے دبئی یا آئی سی پی کے ذریعے سیکنڈوں میں مکمل ہو جائے گی۔

اس نظام کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ کسی بھی قسم کے ویزا فراڈ یا جعلی دستاویزات کا حامل شخص پاکستان سے ہی شناخت کر لیا جائے گا، جس سے اسے بیرونِ ملک جا کر پیش آنے والی قانونی پیچیدگیوں اور ڈی پورٹ ہونے کی ذلت سے تحفظ ملے گا۔ یہ سیکیورٹی کا ایک ایسا مربوط نظام ہے جس میں غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ 2026 کے وسط تک اس نظام کو تمام بڑے ایئرپورٹس پر مکمل طور پر فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں باہمی تعاون کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

معاشی اثرات اور دوطرفہ سیاحت کو فروغ

اس معاہدے کے معاشی اثرات بھی دور رس ہوں گے۔ جب سفر آسان ہوگا تو کاروباری افراد کی آمد و رفت بڑھے گی جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ، سیاحت کے شعبے میں بھی بڑی ترقی کی توقع ہے۔ متحدہ عرب امارات پاکستانی سیاحوں کے لیے پسندیدہ ترین مقام ہے، اور امیگریشن کا یہ نیا نظام سیاحوں کے لیے ایک بڑی کشش ثابت ہوگا۔

وزارتِ داخلہ اور یو اے ای کے وفد نے اتفاق کیا ہے کہ انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو مقررہ وقت کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے سفری دستاویزات، پاسپورٹ کی مدتِ میعاد اور ویزا کی شرائط سے آگاہ رہیں۔ کسی بھی الجھن کی صورت میں یو اے ای کی وزارتِ خارجہ کے سرکاری ذرائع سے رجوع کرنا سب سے بہتر ہے۔

اختتامی کلمات: ایک روشن مستقبل کی طرف قدم

یہ اقدام پاکستان کے بین الاقوامی وقار میں اضافے کا باعث بنے گا اور دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ پاکستان کے سیکیورٹی اور امیگریشن کے ادارے جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔ اس معاہدے کا مکمل نفاذ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفری تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گا جہاں سرحدیں محض ایک لکیر ہوں گی اور مسافروں کا سفر ایک خوشگوار تجربہ بن جائے گا۔ حکومتِ پاکستان کی یہ کوشش ملک کے سافٹ امیج کو بہتر بنانے اور سمندر پار پاکستانیوں کی زندگیوں میں آسانی لانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے

پاکستان یو اے ای پری امیگریشن: اہم معلومات
یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس کے تحت پاکستان سے متحدہ عرب امارات جانے والے مسافروں کی امیگریشن اور بائیومیٹرک تصدیق پاکستان کے ایئرپورٹ پر ہی مکمل کر لی جائے گی۔ اس سہولت کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب مسافر دبئی یا ابوظہبی پہنچے گا تو اسے وہاں امیگریشن کی لائنوں میں نہیں لگنا پڑے گا، بلکہ وہ ایک ڈومیسٹک مسافر کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکے گا۔
حکومت کے فیصلے کے مطابق اس منصوبے کا آغاز پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے کیا جا رہا ہے۔ کراچی کا انتخاب اس کی جدید انفراسٹرکچر اور مسافروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ اس کی کامیابی کے بعد اسے لاہور اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس تک بھی پھیلایا جائے گا تاکہ ملک بھر کے مسافروں کو یہ سہولت میسر ہو۔
عام طور پر یو اے ای کے بڑے ایئرپورٹس پر امیگریشن کے لیے ایک سے دو گھنٹے لگ سکتے ہیں، لیکن اس نظام کے تحت یہ وقت بالکل ختم ہو جائے گا۔ مسافر جہاز سے اترتے ہی براہ راست سامان وصول کرنے کے لیے جا سکیں گے۔ یہ سہولت خاص طور پر فیملیز، معمر افراد اور ان محنت کشوں کے لیے انتہائی مفید ہے جو طویل سفر کے بعد مزید انتظار نہیں کرنا چاہتے۔
جی ہاں، ویزا حاصل کرنے کا طریقہ کار بالکل ویسا ہی رہے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ آپ کو اپنا ویزا متحدہ عرب امارات کے سرکاری پورٹلز یا رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے ہی حاصل کرنا ہوگا۔ پری امیگریشن کاؤنٹر صرف آپ کے پاس موجود قانونی ویزا کی تصدیق اور پاسپورٹ پر انٹری کی مہر لگانے کا کام کرے گا تاکہ آپ کا سفر محفوظ اور تیز ترین ہو سکے۔
وفاقی وزیر داخلہ اور اماراتی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں کسی بھی قسم کی اضافی فیس کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ دو طرفہ حکومتی تعاون کا حصہ ہے جس کا مقصد مسافروں کی سہولت اور سفری عمل کو جدید بنانا ہے۔ یہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے اپنے شہریوں کے لیے ایک خصوصی سفری ریلیف ہے۔
ابتدائی طور پر یہ سروس ان تمام بڑی ایئر لائنز کے لیے ہوگی جو کراچی سے یو اے ای کے لیے براہ راست پروازیں چلاتی ہیں۔ پی آئی اے، ایمریٹس اور ایئر عربیہ جیسی ایئر لائنز کے مسافر اس سے مستفید ہو سکیں گے۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ بکنگ کے وقت اپنی ایئر لائن سے اس سہولت کی دستیابی کے بارے میں تصدیق ضرور کر لیں۔
اس نظام کا ایک بڑا فائدہ سیکیورٹی کا استحکام ہے۔ اگر کسی مسافر کے کاغذات میں کوئی مسئلہ ہوا تو اس کی نشاندہی پاکستان میں ہی ہو جائے گی، جس سے وہ یو اے ای پہنچ کر ڈی پورٹ ہونے اور جرمانے جیسی قانونی پیچیدگیوں سے بچ جائے گا۔ یہ نظام صرف ان مسافروں کو آگے بھیجے گا جن کا ریکارڈ یو اے ای کے امیگریشن ڈیٹا بیس میں مکمل طور پر کلیئر ہوگا۔
تصدیق شدہ معلومات بذریعہ: Visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں