امریکہ میں امیگریشن اور قومیت کے قوانین (INA) میں ایک ایسی ترمیم پر غور کیا جا رہا ہے جو دہائیوں سے چلی آ رہی دوہری شہریت کی روایت کو ختم کر سکتی ہے۔ 2026 کے آغاز میں سامنے آنے والی ان تجاویز کا بنیادی مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا اور وفاداری کے تضادات کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اگر یہ تجویز قانون کی شکل اختیار کر لیتی ہے، تو ایسے تمام امریکی شہری جو کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں، انہیں ایک مشکل انتخاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: یا تو وہ اپنی امریکی شہریت برقرار رکھیں اور دوسرا پاسپورٹ ترک کر دیں، یا پھر امریکی حیثیت سے دستبردار ہو جائیں۔
اس وقت امریکی قانون (14th Amendment) دوہری شہریت کو واضح طور پر منع نہیں کرتا، لیکن یہ اسے باقاعدہ طور پر "ترجیح” بھی نہیں دیتا۔ نئی تجویز کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ایک سے زائد پاسپورٹ رکھنے والے افراد بعض اوقات سفری اور قانونی معاملات میں امریکی دائرہ اختیار سے باہر نکل جاتے ہیں، جو کہ سیکیورٹی کے نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔
نئی تجویز کے کلیدی نکات اور قانونی ڈھانچہ
اس وقت امریکی ایوانِ نمائندگان میں جس پالیسی پر بحث ہو رہی ہے، اس کے تحت پاسپورٹ کے حصول اور تجدید کے عمل کو مزید سخت بنایا جائے گا۔ اس پالیسی کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
- واحد سفری دستاویز کا لازمی ہونا: ہر امریکی شہری کو حلفاً یہ بیان دینا ہوگا کہ اس کے پاس کسی دوسرے ملک کا کارآمد پاسپورٹ موجود نہیں ہے یا وہ اسے فوری طور پر منسوخ کروا رہا ہے۔
- سفری پابندیاں: اگر کوئی شہری دوسرے ملک کے پاسپورٹ پر سفر کرتے ہوئے پایا گیا، تو اس کا امریکی پاسپورٹ فوری طور پر ضبط یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
- وفاداری کا حلف (Oath of Allegiance): شہریت کے وقت لیے جانے والے حلف کی تشریح کو مزید واضح کیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امریکی شہری کی پہلی اور آخری وفاداری صرف ریاستہائے متحدہ کے ساتھ ہے۔
- مزید پڑھیں
- آسٹریلیا نے اوپن ورک پرمٹ ختم کر دیے: جنوری 2026 سے نئے رولز
- امریکی لازمی بائیومیٹرک انٹری ایگزٹ 2026 کی مکمل گائیڈ
- یونان میں پاکستانی تارکین وطن: آبادی اور ملازمتوں کا جائزہ
- پاکستانی ایئرپورٹس پر مسافروں کی آف لوڈنگ میں اضافہ: نئی وجوہات
- امریکی ESTA ٹریول اتھارٹی تک رسائی حاصل کرنے کا طریقہ
دوہری شہریت رکھنے والوں پر اثرات: ایک موازنہ
پاکستانی، ہندوستانی اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن جو اب امریکی شہری بن چکے ہیں، اس قانون سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ درج ذیل ٹیبل میں موجودہ اور مجوزہ صورتحال کا موازنہ کیا گیا ہے:
| خصوصیت | موجودہ قانون (قبل از 2026) | مجوزہ پالیسی (2026) |
| پاسپورٹس کی تعداد | متعدد (امریکی اور آبائی ملک کا) | صرف ایک (صرف امریکی) |
| سفری آزادی | دونوں پاسپورٹس کا استعمال ممکن ہے | صرف امریکی پاسپورٹ پر سفر لازمی |
| قونصلر تحفظ | دونوں ممالک سے مدد مل سکتی ہے | صرف امریکی حکومت ذمہ دار ہوگی |
| شہریت کی حیثیت | دوہری شہریت کی خاموش اجازت | واحد شہریت پر زور |
"بائٹ اینڈ سوئچ” اور سیکیورٹی کے خدشات
امریکی سیکیورٹی اداروں، بشمول محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS)، کا ماننا ہے کہ "ون پاسپورٹ” پالیسی سے بارڈر کنٹرول اور مسافروں کی ٹریکنگ میں آسانی ہوگی۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے افراد ان ممالک میں داخلے کے لیے اپنے آبائی ملک کا پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں جہاں امریکیوں کے لیے ویزا کی پابندیاں سخت ہیں، جس سے ان کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ امریکی ڈیٹا بیس میں نہیں آ پاتا۔
پاکستانی امریکیوں کے لیے چیلنجز اور انتخاب
پاکستانی امریکی کمیونٹی کے لیے یہ مجوزہ قانون محض ایک سفری دستاویز کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی اور قانونی مسئلہ بن کر ابھر سکتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے دوہری شہریت کا جو توازن برقرار ہے، وہ اس نئی پالیسی کے نفاذ سے بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ذیل میں ان چیلنجز اور ممکنہ انتخاب کا تفصیلی جائزہ پیش ہے:
نائیکوپ (NICOP) بمقابلہ پی او سی (POC): قانونی حیثیت کا انتخاب
پاکستانی نژاد امریکی اس وقت نائیکوپ یعنی نیشنل آئیڈنٹٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز کا استعمال کرتے ہیں، جو انہیں بغیر ویزا پاکستان میں داخلے اور قیام کی اجازت دیتا ہے۔ اگر امریکہ کی "ون پاسپورٹ” پالیسی نافذ ہوتی ہے اور شہری اپنا پاکستانی پاسپورٹ ترک کرنے پر مجبور ہوتا ہے، تو نائیکوپ کی قانونی حیثیت بھی ختم ہو جائے گی۔
ایسی صورت میں ان افراد کو پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ اگرچہ پی او سی بھی ویزا فری انٹری فراہم کرتا ہے، لیکن یہ نائیکوپ کا مکمل متبادل نہیں ہے۔ پی او سی ہولڈرز پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے یا سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے اہل نہیں ہوتے۔ اس تبدیلی سے لاکھوں خاندانوں کو اپنے شناختی دستاویزات کی مکمل تبدیلی کے ایک طویل اور مہنگے انتظامی عمل سے گزرنا پڑے گا۔
وراثت اور جائیداد کی منتقلی کے پیچیدہ مسائل
پاکستان میں جائیداد کی ملکیت اور وراثت کے قوانین دوہری شہریت رکھنے والوں کے لیے نسبتاً آسان ہیں۔ تاہم، اگر کوئی شخص اپنی پاکستانی شہریت مکمل طور پر ترک کر دیتا ہے، تو اسے غیر ملکی شہری کے طور پر دیکھا جائے گا۔
پاکستانی قانون کے تحت غیر ملکیوں کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت اور وراثت کی منتقلی کے ضوابط بہت سخت ہیں۔ جائیداد کی منتقلی کے وقت وزارت داخلہ سے کلیئرنس لینا پڑ سکتی ہے، جس میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وراثت میں ملنے والی زمینوں یا مکانات پر ٹیکس کے ریٹ بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ان لوگوں کے لیے انتہائی پریشان کن ہوگی جن کے والدین یا خاندان کے اثاثے پاکستان میں موجود ہیں اور وہ ان کی دیکھ بھال یا منتقلی کے لیے اکثر پاکستان کا سفر کرتے ہیں۔
ویزا کے اخراجات اور سفری مشکلات
موجودہ نظام میں پاکستانی پاسپورٹ یا نائیکوپ رکھنے والے امریکیوں کو پاکستان جانے کے لیے کسی ویزا فیس یا پیشگی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ "ون پاسپورٹ” پالیسی کے بعد، ہر سفر سے پہلے امریکی پاسپورٹ پر پاکستانی ویزا حاصل کرنا ایک لازمی شرط بن جائے گی۔
پاکستان کے ویزا فیس اور پروسیسنگ کے اخراجات کے ساتھ ساتھ سفارت خانے کے چکر لگانا ان خاندانوں کے لیے بوجھ بن جائے گا جو ہنگامی حالات میں پاکستان جانا چاہتے ہیں۔ ویزا کی محدود مدت (مثلاً 30 یا 90 دن) ان لوگوں کے لیے بھی مسئلہ پیدا کرے گی جو طویل عرصے کے لیے اپنے آبائی گھروں میں رہنا چاہتے ہیں۔ اس سے نہ صرف مالی اخراجات بڑھیں گے بلکہ جذباتی طور پر بھی تارکین وطن خود کو اپنی جڑوں سے دور محسوس کریں گے۔
مالیاتی سرمایہ کاری اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (RDA)
پاکستانی حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ جیسی سہولیات متعارف کرائی ہیں جو کہ نائیکوپ یا پاکستانی پاسپورٹ کی بنیاد پر کھلتے ہیں۔ اگر امریکہ میں دوہری شہریت کے استعمال پر پابندی لگتی ہے، تو ان بینک اکاؤنٹس کی قانونی حیثیت اور ان میں موجود سرمایہ کاری کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
اس کے علاوہ، پاکستان میں بینک اکاؤنٹ چلانے، ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اور مقامی انویسٹمنٹ اسکیموں میں حصہ لینے کے لیے پاکستانی شناخت لازمی ہے۔ غیر ملکی (صرف امریکی) پاسپورٹ رکھنے کی صورت میں ان مالیاتی فوائد تک رسائی انتہائی محدود ہو جائے گی، جو کہ پاکستان میں ترسیلات زر (Remittances) کے بہاؤ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
سیاسی وابستگی اور ووٹنگ کے حقوق کا خاتمہ
پاکستانی سیاست میں اوورسیز پاکستانیوں کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے اور حالیہ برسوں میں انہیں ووٹنگ کے حقوق دینے پر بھی بحث جاری رہی ہے۔ اگر کوئی پاکستانی امریکی اپنا پاکستانی پاسپورٹ اور شہریت ترک کر دیتا ہے، تو وہ مستقل طور پر پاکستان میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہو جائے گا۔
یہ سیاسی علیحدگی صرف ووٹ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ ان افراد کو پاکستان میں کسی بھی عوامی عہدے یا سیاسی جماعت میں فعال کردار ادا کرنے سے بھی روک دے گی۔ یہ ان نوجوان نسل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا جو پاکستان کے مستقبل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں اور اپنی شناخت کو دونوں ممالک کے ساتھ جوڑ کر رکھتے ہیں۔
ایک کٹھن انتخاب
پاکستانی امریکیوں کے لیے اب یہ سوال پیدا ہوگا کہ وہ اپنی معاشی زندگی اور مستقبل کی حفاظت کے لیے امریکی پاسپورٹ کا انتخاب کریں یا اپنی شناخت، جائیداد اور خاندانی رشتوں کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستانی شہریت کو ترجیح دیں۔ ویزا وی لاگ کی رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر لوگ اپنی ملازمتوں اور بچوں کے مستقبل کی وجہ سے امریکی پاسپورٹ کا انتخاب کرنے پر مجبور ہوں گے، لیکن اس کی قیمت انہیں پاکستان کے ساتھ اپنے برسوں پرانے تعلق کی کمزوری کی صورت میں چکانی پڑے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کی آفیشل گائیڈ لائنز 2026
امریکی پاسپورٹ آفس نے ابھی تک اس پالیسی کے حتمی نفاذ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، لیکن اندرونی ذرائع کے مطابق، پاسپورٹ کی درخواست کے فارم (DS-11 اور DS-82) میں نئے کالمز شامل کیے جا سکتے ہیں جہاں دیگر ممالک کی شہریت کی تفصیلات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
محکمہ خارجہ نے مشورہ دیا ہے کہ:
- شہری اپنے پاسپورٹ کی میعاد چیک کریں اور اگر تجدید کی ضرورت ہے تو اسے موجودہ قوانین کے تحت جلد مکمل کریں۔
- کسی بھی دوسرے ملک کی شہریت سے متعلق سرکاری دستاویزات کو سنبھال کر رکھیں کیونکہ سکریننگ کے عمل میں ان کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
- بین الاقوامی سفر کے دوران ہمیشہ امریکی پاسپورٹ ہی استعمال کریں تاکہ مستقبل میں کسی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
قانونی ماہرین کی رائے اور انسانی حقوق کا پہلو
انسانی حقوق کے وکلاء اور امیگریشن ماہرین اس تجویز کو "آئینی حقوق کی خلاف ورزی” قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریت ایک پیدائشی یا قانونی حق ہے جسے پاسپورٹ کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم، سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں (مثلاً Afroyim v. Rusk) کی روشنی میں حکومت کے لیے شہریت چھیننا اتنا آسان نہیں ہوگا، لیکن پاسپورٹ کے استعمال کو محدود کرنا انتظامی طور پر ممکن ہو سکتا ہے۔
مستقبل کی پیش گوئی
امریکہ میں "صرف ایک پاسپورٹ” کی پالیسی 2026 کا سب سے بڑا امیگریشن ایشو بن کر ابھری ہے۔ اگرچہ اس کے نفاذ میں ابھی قانونی رکاوٹیں موجود ہیں، لیکن سیاسی ماحول اس کی حمایت میں نظر آتا ہے۔ تارکین وطن کو چاہیے کہ وہ اپنی قانونی حیثیت کے حوالے سے چوکس رہیں اور صرف سرکاری ویب سائٹس سے رجوع کریں۔ Visavlogurdu.com آپ کو اس معاملے کی ہر پیش رفت سے آگاہ رکھے گا۔



