spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

جرمنی بلیو کارڈ: اعلیٰ ہنرمندوں کے لیے ترجیحی ویزا کی ایک جامع رہنمائی

یورپی یونین بلیو کارڈ یورپی یونین کی طرف سے...

اٹلی کی 5.4 million غیر ملکی آبادی: اس کے مستقبل کا ناگزیر حصہ

برسوں سے، اٹلی میں امیگریشن سے متعلق بحثیں سرحدوں...

جاپان 2026 میں آٹھ لاکھ بیس ہزار مخصوص ہنرمند ورکر کو ویزے دے گا

جاپان میں غیر ملکی افرادی قوت کی ضرورت اب...

سویڈن سے اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر ملکی ورکرز کا انخلاء: 2025 کے اعداد و شمار اور لیبر مارکیٹ میں تبدیلیاں

سویڈن کے ادارہ شماریات ایس سی بی کے تازہ ترین اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سویڈن چھوڑنے والے غیر ملکی ورکرز کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد پر مشتمل ہے۔ گزشتہ 50 سالوں میں پہلی بار سویڈن میں نیٹ ایمیگریشن یعنی ملک چھوڑنے والوں کی تعداد آنے والوں سے بڑھ گئی ہے جس کی بڑی وجہ تنخواہوں کی بڑھتی ہوئی حد اور نئی امیگریشن پالیسیاں ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا یہ انخلاء سویڈش لیبر مارکیٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ جیسے اہم شعبوں میں ماہرین کی شدید کمی پیدا ہو رہی ہے۔ ویزا ولاگ ڈاٹ کام (VisaVlog.com) پر ہم آپ کو ان تمام تبدیلیوں سے باخبر رکھتے ہیں تاکہ آپ اپنے کیریئر اور رہائش سے متعلق درست فیصلے کر سکیں۔

سویڈن کے ادارہ شماریات ایس سی بی کے تازہ ترین اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سویڈن چھوڑنے والے غیر ملکی ورکرز کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد پر مشتمل ہے۔ 50 سالوں میں پہلی بار نیٹ ایمیگریشن اور تنخواہوں کی بڑھتی ہوئی حد کی وجہ سے یونیورسٹی گریجویٹس ملک چھوڑ رہے ہیں۔


سویڈن کی موجودہ صورتحال اور اعداد و شمار کا تجزیہ

سویڈن جو کہ دہائیوں سے بین الاقوامی ہنرمندوں کے لیے ایک پسندیدہ ملک رہا ہے، اب ایک ایسی تبدیلی سے گزر رہا ہے جس کی مثال نصف صدی میں نہیں ملتی۔ ادارہ شماریات سویڈن (SCB) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2024 کے دوران سویڈن چھوڑنے والے غیر ملکی ورک پرمٹ ہولڈرز میں سے 50 فیصد سے زائد ایسے تھے جنہوں نے یونیورسٹی یا اس کے مساوی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ ان اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سویڈن اپنی لیبر مارکیٹ سے ان لوگوں کو کھو رہا ہے جو ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اگر ہم انفرادی قومیتوں کی بات کریں تو بھارتی شہری سویڈن چھوڑنے والے ہنرمندوں میں سب سے بڑا گروپ ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سویڈن سے جانے والے بھارتی شہریوں میں سے تقریباً دو تہائی تصدیق شدہ گریجویٹس تھے، اور اگر ان افراد کو بھی شامل کیا جائے جن کے تعلیمی ریکارڈ کے اعداد و شمار مکمل نہیں ہیں تو یہ شرح 99 فیصد تک جا پہنچتی ہے۔ اسی طرح سویڈن چھوڑنے والے امریکی شہریوں میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا تناسب 80 فیصد کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ چین، ترکی اور دیگر غیر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی بڑی تعداد میں سویڈن سے دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

تنخواہ کی حد میں اضافہ اور امیگریشن پالیسی

سویڈش حکومت نے نومبر 2023 سے لیبر امیگریشن کے قوانین میں سختی کرنا شروع کی تھی جس کا بنیادی مقصد کم اجرت والے ورکرز کی آمد کو روکنا اور اعلیٰ درجے کے ہنرمندوں کو ترجیح دینا تھا۔ تاہم اس پالیسی کے اثرات اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پر بھی پڑے ہیں۔ 17 جون 2025 سے ورک پرمٹ کے لیے کم از کم ماہانہ تنخواہ کی حد 29,680 سویڈش کرونر مقرر کر دی گئی ہے جو کہ سویڈن کی اوسط تنخواہ کا 80 فیصد بنتی ہے۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جون 2026 تک اس حد کو مزید بڑھا کر اوسط تنخواہ کا 90 فیصد کر دیا جائے گا جس کے بعد کم از کم مطلوبہ تنخواہ تقریباً 33,390 سویڈش کرونر ہو جائے گی۔ اس مسلسل اضافے کی وجہ سے بہت سے جونیئر لیول کے پیشہ ور افراد اور حال ہی میں فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کے لیے ورک پرمٹ کی تجدید ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ سویڈش مائیگریشن ایجنسی (Migrationsverket) اب ورک پرمٹ کی درخواستوں کی جانچ پڑتال میں پہلے سے کہیں زیادہ سختی برت رہی ہے، جس کی وجہ سے بہت سے ماہرین نے سویڈن کے بجائے دیگر یورپی ممالک یا کینیڈا اور امریکہ جیسے ممالک میں منتقل ہونے کو ترجیح دی ہے۔

نیٹ ایمیگریشن: ایک تاریخی موڑ

اگست 2024 میں سویڈش حکومت نے باضابطہ طور پر یہ تسلیم کیا کہ ملک میں نیٹ ایمیگریشن کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سویڈن میں آنے والے لوگوں کے مقابلے میں یہاں سے جانے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے۔ گورنمنٹ آفیسز آف سویڈن نے ایک پریس ریلیز میں اس پیش رفت کو حکومت کی ان کوششوں کا نتیجہ قرار دیا ہے جن کا مقصد امیگریشن کو پائیدار بنانا اور انضمام کے عمل کو بہتر بنانا تھا۔

جہاں حکومت اسے ایک کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے کہ غیر قانونی امیگریشن اور پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، وہیں ماہرین معیشت اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس عمل میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت کا ضیاع ہو رہا ہے۔ سویڈن چھوڑنے والے غیر ملکی نژاد افراد کا تناسب جو 2000 کی دہائی کے آغاز میں 56 فیصد تھا، اب بڑھ کر 78 فیصد ہو چکا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی ہنرمند اب سویڈن میں اپنے مستقل قیام کے حوالے سے پرامید نہیں ہیں۔

انجینئرنگ اور آئی ٹی سیکٹر پر اثرات

اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر ملکیوں کے جانے کا سب سے زیادہ اثر سویڈن کے ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں پر پڑ رہا ہے۔ سویڈش ہائر ایجوکیشن اتھارٹی (UKA) کی رپورٹ کے مطابق سویڈن کو 2040 تک توانائی، الیکٹریکل اور کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماہرین کی شدید کمی کا سامنا ہوگا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سویڈن کو اپنے مقامی انجینئرنگ پروگراموں میں طلباء کی تعداد میں 70 فیصد تک اضافہ کرنا ہوگا، جو کہ موجودہ حالات میں ایک مشکل ہدف نظر آتا ہے۔

آئی ٹی سیکٹر جو کہ روایتی طور پر بھارت اور امریکہ جیسے ممالک کے ماہرین پر انحصار کرتا رہا ہے، اس "برین ڈرین” کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ جب تجربہ کار سافٹ ویئر ڈویلپرز اور سسٹم آرکیٹیکٹس ملک چھوڑ کر جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف موجودہ منصوبوں کی رفتار سست ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سویڈش کمپنیوں کی مسابقت بھی کم ہو جاتی ہے۔

ای یو بلیو کارڈ اور مستقبل کی اصلاحات

اعلیٰ ہنرمندوں کو روکنے کے لیے سویڈن نے یکم جنوری 2025 سے ای یو بلیو کارڈ (EU Blue Card) کے قوانین میں کچھ نرمی کی ہے۔ اس کارڈ کے تحت وہ افراد جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ان کی تنخواہ اوسط سے زیادہ ہے، وہ بہتر سہولیات حاصل کر سکتے ہیں۔ بلیو کارڈ کے نئے قوانین کے مطابق:

1۔ اب بلیو کارڈ کی مدت کو دو سال کے بجائے چار سال تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ 2۔ وہ طلباء جو سویڈن میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کی تلاش میں ہیں، اب وہ ملک سے باہر جائے بغیر بلیو کارڈ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ 3۔ بلیو کارڈ کے لیے تنخواہ کی شرط کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ لچکدار بنایا گیا ہے۔

جولائی 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق بلیو کارڈ کے لیے کم از کم ماہانہ تنخواہ تقریباً 52,000 سویڈش کرونر ہونی چاہیے۔ اگرچہ یہ سہولت موجود ہے، لیکن تنخواہ کی یہ بلند شرح بہت سے نوجوان گریجویٹس کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس کی وجہ سے وہ ورک پرمٹ کے عام زمرے میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں ان کے لیے حالات روز بروز مشکل ہو رہے ہیں۔

مستقبل کی حکمت عملی اور مشورہ

ویزا ولاگ ڈاٹ کام (VisaVlog.com) کے قارئین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ سویڈن کی بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی منصوبہ بندی کریں۔ اگر آپ سویڈن میں ورک پرمٹ پر مقیم ہیں یا یہاں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ کو اپنی توجہ ان ملازمتوں پر مرکوز کرنی چاہیے جہاں تنخواہ کی شرح سویڈش مائیگریشن ایجنسی کی مقرر کردہ حد سے نمایاں طور پر زیادہ ہو۔ جون 2026 میں ہونے والا متوقع اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ آپ اپنی مہارتوں کو مزید بہتر بنائیں تاکہ آپ اعلیٰ تنخواہ والی اسامیوں کے اہل ہو سکیں۔

اس کے علاوہ آجروں کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ مائیگریشن ایجنسی کے پیچیدہ عمل کو سمجھیں اور اپنے غیر ملکی ملازمین کو بہتر سہولیات فراہم کریں تاکہ وہ سویڈن میں طویل عرصے تک قیام کرنے کی طرف مائل ہوں۔ سویڈن اپنی امیگریشن پالیسی کو ایک ایسے ماڈل کی طرف لے جا رہا ہے جہاں صرف انتہائی ہنرمند اور زیادہ کمانے والے افراد کو ہی ترجیح دی جائے گی۔

خلاصہ کلام

سویڈن سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ورکرز کا انخلاء ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کے اثرات سویڈن کی معیشت پر طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ جہاں حکومت ایک منظم اور کنٹرولڈ امیگریشن سسٹم چاہتی ہے، وہیں اسے اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ سویڈن بین الاقوامی ماہرین کے لیے اپنی کشش نہ کھو دے۔ ویزا ولاگ اردو ڈاٹ کام پر ہم آپ کو مائیگریشن ایجنسی اور ادارہ شماریات کی تمام اپ ڈیٹس فراہم کرتے رہیں گے تاکہ آپ بدلتے ہوئے قوانین سے باخبر رہ سکیں۔

سویڈن مائیگریشن 2026: اکثر پوچھے گئے سوالات

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مائیگریشن قوانین میں حالیہ سختی اور تنخواہ کی حد میں مسلسل اضافے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ورکرز سویڈن چھوڑ رہے ہیں۔ بہت سے ماہرین کو محسوس ہوتا ہے کہ دیگر یورپی ممالک میں ان کے لیے بہتر مواقع اور آسان امیگریشن قوانین موجود ہیں جو انہیں مستقل قیام کی ضمانت دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سویڈن میں رہائشی مسائل اور بڑھتے ہوئے اخراجات بھی ان ہنرمندوں کو اپنا مستقبل کہیں اور تلاش کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

سویڈش مائیگریشن ایجنسی کے تازہ ترین قوانین کے مطابق جون 2025 سے ورک پرمٹ کے لیے کم از کم ماہانہ تنخواہ 29,680 سویڈش کرونر مقرر کی گئی ہے۔ یہ حد سویڈن کی اوسط تنخواہ کا 80 فیصد ہے جو کہ تمام نئے درخواست گزاروں اور تجدید کروانے والوں پر لاگو ہوتی ہے۔ مزید برآں حکومت نے تجویز دی ہے کہ جون 2026 تک اس حد کو بڑھا کر اوسط تنخواہ کا 90 فیصد یعنی تقریباً 33,390 کرونر کر دیا جائے گا تاکہ صرف اعلیٰ ہنرمند ہی ملک میں رہ سکیں۔

نیٹ ایمیگریشن کا مطلب ہے کہ سویڈن میں آنے والوں کے مقابلے میں ملک چھوڑنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے جو کہ گزشتہ 50 سالوں میں پہلی بار ہوا ہے۔ اس رجحان کی وجہ سے سویڈن کی لیبر مارکیٹ، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں ہنرمند افرادی قوت کی شدید کمی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سویڈن کی معاشی ترقی کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور بین الاقوامی کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری دوسرے ممالک میں منتقل کر سکتی ہیں۔

یکم جنوری 2025 سے لاگو ہونے والے ای یو بلیو کارڈ کے نئے قوانین کے تحت اب ماہرین کو سویڈن میں چار سال تک قیام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تنخواہ کی مطلوبہ حد کو اوسط تنخواہ کے 1.25 گنا تک کم کر دیا گیا ہے جس سے زیادہ لوگوں کے لیے اس کارڈ کا حصول ممکن ہو گیا ہے۔ یہ کارڈ ہولڈرز کو دیگر یورپی ممالک میں کام کرنے کی بہتر سہولیات اور فیملی ری یونین کے معاملات میں بھی زیادہ آسانیاں فراہم کرتا ہے۔

ادارہ شماریات سویڈن کے مطابق ملک چھوڑنے والے ورک پرمٹ ہولڈرز میں سب سے بڑی تعداد بھارتی شہریوں کی ہے جن میں سے اکثریت آئی ٹی اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کے ماہرین کی ہے۔ اس کے بعد امریکی، چینی اور ترک شہریوں کا نمبر آتا ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سویڈن کے سخت قوانین کی وجہ سے وطن واپس جا رہے ہیں یا دوسرے ممالک منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ سویڈن اپنے سب سے قیمتی انسانی سرمائے کو کھو رہا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔

مائیگریشن ایجنسی اب ورک پرمٹ کی تجدید کے وقت اس بات پر سختی سے عمل کرتی ہے کہ ملازم کی تنخواہ حکومت کی مقرر کردہ نئی حد یعنی 29,680 کرونر سے کم نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ آجر کی جانب سے تمام لازمی انشورنس بشمول پنشن، لائف اور ہیلتھ انشورنس کی موجودگی کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی قانونی کوتاہی یا تنخواہ میں کمی کی صورت میں ورک پرمٹ کی تجدید مسترد کر دی جاتی ہے، اس لیے ویزا ولاگ ڈاٹ کام پر اپ ڈیٹ رہنا ضروری ہے۔

سویڈن میں اپنے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ورکرز کو چاہیے کہ وہ ایسی ملازمتیں حاصل کریں جہاں تنخواہ کی شرح موجودہ اور مستقبل کی ممکنہ حدود سے نمایاں طور پر زیادہ ہو۔ اپنی مہارتوں کو مسلسل اپ گریڈ کرنا اور سویڈش زبان سیکھنا بھی مستقل رہائش اور شہریت کے حصول میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ باقاعدگی سے سرکاری ویب سائٹس اور ویزا ولاگ ڈاٹ کام (VisaVlog.com) کا مطالعہ کریں تاکہ آپ کسی بھی قانونی تبدیلی کے لیے وقت سے پہلے تیار رہ سکیں۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں