spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

جاپان 2026 میں آٹھ لاکھ بیس ہزار مخصوص ہنرمند ورکر کو ویزے دے گا

جاپان میں غیر ملکی افرادی قوت کی ضرورت اب...

برطانیہ پاسپورٹ قوانین 2026: شاہ چارلس سوم کا ڈیزائن، ای ٹی اے اور ای ویزا کی مکمل تفصیلات

برطانیہ کے پاسپورٹ اور امیگریشن قوانین 2026 میں ہونے والی انقلابی تبدیلیاں جیسے شاہ چارلس سوم کا نیا ڈیزائن، ای ٹی اے (ETA) کا لازمی نفاذ اور ای ویزا (eVisa) سسٹم کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے ویزا وگ اردو (Visavlogurdu.com) کی یہ جامع رپورٹ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ برطانوی حکومت کی آفیشل ویب سائٹ GOV.UK کے مطابق ان تبدیلیوں کا بنیادی مقصد ملکی سرحدوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا اور سیکیورٹی کے نظام کو جدید ترین عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اگر آپ برطانیہ میں مقیم ہیں، وہاں کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا اپنی امیگریشن سٹیٹس کے بارے میں فکر مند ہیں، تو یہ بلاگ آپ کو تمام ضروری اور سرکاری معلومات فراہم کرے گا تاکہ آپ کسی بھی سفری دشواری یا قانونی پیچیدگی سے بچ سکیں۔


شاہ چارلس سوم کا نیا پاسپورٹ ڈیزائن اور سیکیورٹی خصوصیات

سال 2026 برطانوی پاسپورٹ کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم سال ہے کیونکہ اب HM Passport Office کی جانب سے جاری کیے جانے والے تمام نئے پاسپورٹس پر شاہ چارلس سوم کا شاہی نشان (Coat of Arms) موجود ہے۔ یہ تبدیلی ملکہ الزبتھ دوم کے سات دہائیوں پر محیط عہد کے خاتمے اور ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔ پاسپورٹ کے بیرونی سرورق پر اب بادشاہ کا آفیشل نشان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پاسپورٹ کے اندرونی پہلے صفحے پر موجود تحریر میں بھی تبدیلی کی گئی ہے اور اب ‘Her Majesty’ کی جگہ ‘His Majesty’ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

اس نئے پاسپورٹ میں صرف ظاہری ڈیزائن ہی تبدیل نہیں ہوا بلکہ سیکیورٹی کے نظام کو بھی دنیا کے بہترین معیار کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس میں پولی کاربونیٹ ڈیٹا پیج کا استعمال کیا گیا ہے جس پر مسافر کی تمام تفصیلات لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے کندہ کی جاتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی پاسپورٹ میں کسی بھی قسم کی جعل سازی یا چھیڑ چھاڑ کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ پاسپورٹ کے اندرونی صفحات پر برطانیہ کے چاروں حصوں یعنی انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے مشہور یونیسکو مناظر دکھائے گئے ہیں جو برطانیہ کے عظیم ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ اپنے پاسپورٹ کی تجدید یا نئے ڈیزائن کے بارے میں مزید تفصیلات آفیشل renewal page پر دیکھ سکتے ہیں۔

حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ تمام پاسپورٹ جو پہلے جاری ہو چکے ہیں اور جن پر ملکہ کا نشان ہے، وہ اپنی میعاد ختم ہونے تک مکمل طور پر قانونی اور کارآمد رہیں گے۔ اس لیے شہریوں کو صرف اس صورت میں نئے پاسپورٹ کے لیے درخواست دینی چاہیے جب ان کا موجودہ پاسپورٹ ختم ہو رہا ہو یا اس کے صفحات بھر چکے ہوں۔ پاسپورٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد اب پہلے سے زیادہ پائیدار ہے اور اس میں بائیومیٹرک چپ کو مزید محفوظ بنایا گیا ہے تاکہ سرحدوں پر موجود ای گیٹس (e-Gates) مسافروں کی شناخت فوری طور پر کر سکیں۔

برطانوی پاسپورٹ کی نئی فیسیں اور آن لائن درخواست کا طریقہ

برطانوی حکومت نے پاسپورٹ پراسیسنگ اور بارڈر سیکیورٹی کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے فیسوں کے ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ 2026 میں پاسپورٹ حاصل کرنے کا سب سے سستا اور تیز ترین طریقہ آن لائن درخواست دینا ہے، کیونکہ کاغذی فارم کے ذریعے درخواست دینا نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ اس کی فیس بھی زیادہ ہے۔ سرکاری ویب سائٹ Passport Fees کے مطابق فیسوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

پاسپورٹ کی قسمآن لائن درخواست کی فیسپوسٹل (کاغذی فارم) فیس
اسٹینڈرڈ بالغ (34 صفحات)94.50 پاؤنڈ107.00 پاؤنڈ
اسٹینڈرڈ بچہ (16 سال سے کم)61.50 پاؤنڈ74.00 پاؤنڈ
فریکوئنٹ ٹریولر بالغ (54 صفحات)107.50 پاؤنڈ120.00 پاؤنڈ

ڈیجیٹل درخواستوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ مسافر اپنے گھر بیٹھے موبائل فون سے تصویر لے کر اپ لوڈ کر سکتے ہیں اور اپنی درخواست کی پیشرفت کو ہر لمحہ ٹریک کر سکتے ہیں۔ حکومت تمام شہریوں کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ کسی بھی تھرڈ پارٹی ایجنٹ کے بجائے براہ راست Apply Online کا آپشن استعمال کریں تاکہ اضافی اخراجات اور دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔ 2026 میں پاسپورٹ کی تیاری کا اوسط وقت تین سے چار ہفتے ہے، لیکن ہنگامی صورتحال میں ‘فاسٹ ٹریک’ سروس بھی حاصل کی جا سکتی ہے جس کی فیس الگ سے ادا کرنی ہوگی۔

الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن (ETA) کا نظام

برطانیہ آنے والے سیاحوں اور زائرین کے لیے سب سے بڑی تبدیلی Electronic Travel Authorisation (ETA) کا نفاذ ہے۔ فروری 2026 سے، ان تمام ممالک کے شہریوں کے لیے ای ٹی اے حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے جنہیں پہلے برطانیہ آنے کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، جن میں یورپی یونین، امریکہ، کینیڈا اور خلیجی ممالک شامل ہیں۔

ای ٹی اے کی فیس 10 پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے اور یہ اجازت نامہ دو سال کے لیے کارآمد ہوتا ہے۔ اس کے تحت مسافر اس مدت کے دوران جتنی بار چاہیں برطانیہ آ سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا مقصد سیاحت، مختصر کاروباری دورہ یا فیملی سے ملاقات ہو۔ ای ٹی اے حاصل کرنے کا طریقہ انتہائی سادہ ہے اور آپ اسے آفیشل پورٹل Apply for an ETA کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایئر لائنز اب سفر سے پہلے مسافروں کا ای ٹی اے چیک کرنے کی پابند ہیں، اور اس کے بغیر آپ کو جہاز پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد، جنہیں برطانیہ کے لیے باقاعدہ ویزا درکار ہوتا ہے، فی الحال اس اسکیم میں شامل نہیں ہیں لیکن ان کے لیے وزٹ ویزا کی شرائط میں بھی کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں جنہیں سرکاری ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ای ویزا (eVisa) اور ڈیجیٹل امیگریشن کا دور

برطانیہ میں مقیم غیر ملکیوں اور تارکین وطن کے لیے 2026 ایک تاریخی تبدیلی کا سال ہے کیونکہ اب فزیکل بائیومیٹرک ریزیڈنس پرمٹ (BRP) کارڈز کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب برطانیہ کا امیگریشن سسٹم مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو گیا ہے جسے ای ویزا (eVisa) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی برطانوی ہوم آفس کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت سرحدوں کو پیپر لیس بنایا جا رہا ہے۔

اس نظام کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ کو اپنے پاس کوئی پلاسٹک کارڈ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کی تمام امیگریشن تفصیلات UKVI Account میں محفوظ ہوتی ہیں۔ اگر آپ اپنا پاسپورٹ تبدیل کرتے ہیں، تو یہ آپ کی قانونی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنے نئے پاسپورٹ کی تفصیلات فوری طور پر Update your UKVI details پر جا کر اپ ڈیٹ کریں تاکہ سرحد پار کرتے وقت ای گیٹس آپ کے نئے پاسپورٹ کو پہچان سکیں۔ ملازمت حاصل کرنے یا گھر کرائے پر لینے کے لیے آپ کو اپنی سٹیٹس ثابت کرنے کے لیے View and Prove service سے ایک شیئر کوڈ حاصل کرنا ہوگا۔ ڈیجیٹل ویزا سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اب دستاویزات کے کھو جانے یا چوری ہونے کا خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔

امیگریشن سیلری تھریشولڈ اور ورک ویزا کے نئے قوانین

برطانوی ہوم آفس نے نیٹ مائیگریشن کو کنٹرول کرنے کے لیے ورک ویزا اور فیملی ویزا کے لیے آمدنی کی شرائط کو مزید سخت کر دیا ہے۔ سکلڈ ورکر ویزا کے لیے اب کم از کم تنخواہ کی حد بڑھا کر 38,700 پاؤنڈ سالانہ کر دی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ برطانیہ صرف ان ہنر مند افراد کو ترجیح دے رہا ہے جو ملکی معیشت میں نمایاں حصہ ڈال سکیں اور ملک پر مالی بوجھ نہ بنیں۔

اسی طرح، وہ برطانوی شہری جو اپنے شریک حیات (Spouse) کو برطانیہ بلانا چاہتے ہیں، ان کے لیے بھی آمدنی کی حد اب 38,700 پاؤنڈ مقرر ہو چکی ہے۔ ان تمام قوانین کی مکمل اور تفصیلی معلومات آپ آفیشل Skilled Worker Visa Guidance پر دیکھ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ قوانین ان تمام نئی درخواستوں پر لاگو ہوتے ہیں جو 2026 میں جمع کروائی جا رہی ہیں۔ ہیلتھ اینڈ کیئر ویزا کے حامل افراد کے لیے کچھ رعایتیں موجود ہیں لیکن ان کے لیے بھی قوانین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ واضح کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا یہ اقدام ملکی وسائل پر دباؤ کم کرنے اور ہنر مند افرادی قوت کو منظم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

یورپی یونین کے سفر کے لیے نئے قواعد (EES)

برطانوی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے اب یورپی یونین کا سفر بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ یورپی یونین نے اپنا نیا انٹری اور ایگزٹ سسٹم (EES) مکمل طور پر نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اب سرحدوں پر پاسپورٹ پر مہر لگانے کے بجائے مسافروں کے فنگر پرنٹس اور چہرے کا ڈیجیٹل اسکین لیا جاتا ہے۔ اس نظام کا مقصد مسافروں کے 90 دن کے قیام کی حد کو خودکار طریقے سے ٹریک کرنا ہے۔ اس حوالے سے مزید سرکاری معلومات آپ GOV.UK Travel Advice پر دیکھ سکتے ہیں۔ برطانیہ کے مسافروں کو اب شینگن ممالک میں داخل ہوتے وقت زیادہ وقت لگ سکتا ہے، اس لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ ائیرپورٹ پر وقت سے پہلے پہنچیں۔

2026 میں ہونے والی یہ تمام تبدیلیاں برطانیہ کے امیگریشن نظام کو ایک نئے اور جدید موڑ پر لے آئی ہیں۔ چاہے آپ ایک برطانوی شہری ہوں یا وہاں مقیم تارکین وطن، ان قوانین کی پاسداری کرنا آپ کے خوشگوار مستقبل اور پریشانی سے پاک سفر کے لیے ناگزیر ہے

برطانیہ پاسپورٹ اور امیگریشن گائیڈ 2026: اہم سوالات
برطانوی حکومت کی آفیشل پالیسی کے مطابق، آپ کو اپنا موجودہ پاسپورٹ تبدیل کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے اگر اس کی میعاد ابھی باقی ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم کے دور میں جاری کردہ تمام پاسپورٹس اپنی آخری تاریخ تک مکمل طور پر قانونی طور پر کارآمد اور قابل قبول ہیں۔ آپ کو شاہ چارلس سوم کے نئے ڈیزائن والا پاسپورٹ اس وقت جاری کیا جائے گا جب آپ اپنے موجودہ پاسپورٹ کی تجدید (Renewal) کے لیے درخواست دیں گے۔ یہ عمل خود بخود ہوگا اور اس کے لیے کسی خاص اضافی درخواست کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنی تجدید کی درخواست براہ راست برطانوی حکومت کی ویب سائٹ GOV.UK پر دے سکتے ہیں۔
ای ٹی اے (Electronic Travel Authorisation) ایک نیا ڈیجیٹل اجازت نامہ ہے جو ان تمام مسافروں کے لیے ہے جنہیں برطانیہ میں داخل ہونے کے لیے باقاعدہ ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس میں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی یونین کے ممالک کے شہری شامل ہیں۔ فروری 2026 سے ان تمام مسافروں کے لیے سفر سے پہلے ای ٹی اے حاصل کرنا قانونی طور پر لازمی ہے۔ اس کی فیس 10 پاؤنڈ ہے اور یہ دو سال کے لیے کارآمد ہوتا ہے۔ تاہم، وہ مسافر جن کے پاس پہلے سے برطانوی ویزا موجود ہے یا وہ برطانوی شہری ہیں، انہیں اس کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مزید تفصیلات کے لیے official ETA guidance دیکھیں۔
برطانیہ اب مکمل طور پر ڈیجیٹل امیگریشن سسٹم یعنی ای ویزا (eVisa) پر منتقل ہو چکا ہے۔ اب آپ کو کسی فزیکل کارڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی ویزا سٹیٹس ثابت کرنے کے لیے آپ کو اپنے یو کے وی آئی (UKVI) اکاؤنٹ میں لاگ ان کرنا ہوگا اور وہاں سے ایک عارضی ‘شیئر کوڈ’ (Share Code) حاصل کرنا ہوگا۔ یہ کوڈ آپ اپنے آجر (Employer) یا گھر کے مالک (Landlord) کو دیں گے، جو برطانوی حکومت کے پورٹل View and Prove پر جا کر آپ کی قانونی حیثیت کی تصدیق کر سکے گا۔
جی ہاں، 2026 میں پاسپورٹ کی فیسوں میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ بارڈر سیکیورٹی اور پاسپورٹ پراسیسنگ کے جدید اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔ آن لائن درخواست کی فیس ایک بالغ کے لیے اب 94.50 پاؤنڈ ہے جبکہ بچوں کے لیے یہ 61.50 پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے۔ اگر آپ کاغذی فارم یا پوسٹل سروس کے ذریعے درخواست دیتے ہیں تو فیس بالترتیب 107 پاؤنڈ اور 74 پاؤنڈ ہوگی۔ آن لائن درخواست کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ سستی ہے اور آپ اپنی درخواست کی پیشرفت کو official fee table کے ذریعے ٹریک کر سکتے ہیں۔
یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔ جی ہاں، اگر آپ کو نیا پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، چاہے وہ شاہ چارلس سوم کے ڈیزائن والا ہو، تو آپ کو اپنی پاسپورٹ تفصیلات فوری طور پر اپنے آن لائن یو کے وی آئی اکاؤنٹ میں اپ ڈیٹ کرنی ہوں گی۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے، تو ہوائی اڈے پر موجود ای گیٹس آپ کے نئے پاسپورٹ کو آپ کے ویزا کے ساتھ لنک نہیں کر پائیں گے اور آپ کو داخلے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ اپ ڈیٹ آپ برطانوی حکومت کی آفیشل سروس Update Your Details کے ذریعے مفت کر سکتے ہیں۔
یورپی یونین (Schengen Area) کے ممالک کا سفر کرنے کے لیے، آپ کا پاسپورٹ اس دن سے جس دن آپ یورپی ملک میں داخل ہو رہے ہیں، 10 سال سے زیادہ پرانا نہیں ہونا چاہیے اور اس کی واپسی کے دن تک کم از کم 3 ماہ کی میعاد باقی ہونی چاہیے۔ اگر آپ کا پاسپورٹ ان شرائط پر پورا نہیں اترتا تو آپ کو ائیرپورٹ سے واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ بریگزٹ کے بعد ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے، لہذا سفر سے پہلے اپنے پاسپورٹ کی تاریخیں لازمی چیک کریں اور مزید معلومات Foreign Travel Advice سے حاصل کریں۔
برطانوی ہوم آفس نے 2026 میں ورک ویزا کے لیے مالی شرائط کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔ اب برطانوی شہری یا وہاں مقیم شخص کے لیے اپنے شریک حیات کو بلانے یا سکلڈ ورکر ویزا اسپانسر کرنے کے لیے کم از کم سالانہ آمدنی 38,700 پاؤنڈ ہونا ضروری ہے۔ اس شرط کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ برطانیہ آنے والے خاندان مالی طور پر خود کفیل ہوں اور سرکاری فنڈز پر بوجھ نہ بنیں۔ ان تمام قوانین کی تفصیلات آپ Skilled Worker Visa Guidance پر دیکھ سکتے ہیں۔
حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں