spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

IELTS ا سکینڈل: دو سال تک غلط سکور فراہم کرتا رہا

انٹرنیشنل انگلش لینگویج ٹیسٹنگ سسٹم (IELTS) کی تنظیم—جو دنیا...

اٹلی میں پناہ یا بین الاقوامی تحفظ-اسائلم کے لیے کیسے درخواست دیں؟

اٹلی کا بین الاقوامی تحفظ کا نظام ان افراد...

برطانیہ کی نئی مائیگریشن حکمت عملی-آج تک کی تازہ ترین

نظم و ضبط کی بحالی: برطانوی سیاست میں ایک...

کینیڈا کے امیگریشن نظام میں 2026 سے آنے والی بڑی تبدیلیاں اور ان کے اثرات: خصوصی رپورٹ

کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی، رہائشی مسائل اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے 2026 کے لیے امیگریشن پالیسیوں میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد امیگریشن کے عمل کو زیادہ مستحکم اور پائیدار بنانا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کے تحت جہاں مستقل رہائشیوں (PR) کی تعداد کو محدود کیا جا رہا ہے وہیں عارضی رہائشیوں بشمول بین الاقوامی طلبہ اور ورک پرمٹ ہولڈرز کے لیے قوانین کو پہلے سے کہیں زیادہ سخت کر دیا گیا ہے۔ ویزا ولاگ اردو کی اس تفصیلی رپورٹ میں ہم ان تمام تبدیلیوں کا احاطہ کریں گے جو 2026 سے لاگو ہونے والی ہیں تاکہ آپ بروقت اپنی منصوبہ بندی کر سکیں۔

امیگریشن لیولز پلان 2026: ایک نئی حکمت عملی

کینیڈا کی حکومت نے ماضی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی امیگریشن پالیسی کو ترک کرتے ہوئے اب "استحکام” کی پالیسی اپنا لی ہے۔ امیگریشن ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 میں کینیڈا صرف 3 لاکھ 80 ہزار نئے مستقل رہائشیوں کو خوش آمدید کہے گا۔ یہ تعداد گزشتہ سالوں کے مقابلے میں واضح کمی کو ظاہر کرتی ہے جس کا مقصد ملک کے ہاؤسنگ مارکیٹ اور صحت کے نظام پر بوجھ کو کم کرنا ہے۔

حکومت نے پہلی بار اپنی حکمت عملی میں عارضی رہائشیوں کی تعداد کے لیے بھی باقاعدہ اہداف مقرر کیے ہیں۔ اب امیگریشن کا مطلب صرف نئے لوگوں کو لانا نہیں بلکہ ملک کی گنجائش کے مطابق توازن برقرار رکھنا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ آبادی میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے کرایوں میں اضافہ اور ہسپتالوں میں جگہ کی کمی جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں، جنہیں حل کرنے کے لیے یہ سخت فیصلے ضروری تھے۔

عارضی رہائشیوں کی تعداد میں کمی اور 5 فیصد کا ہدف

2026 میں آنے والی سب سے اہم تبدیلی عارضی رہائشیوں (Non-Permanent Residents) کی مجموعی آبادی میں کمی ہے۔ کینیڈین حکومت نے یہ ہدف مقرر کیا ہے کہ 2026 کے اختتام تک عارضی رہائشیوں کی تعداد کینیڈا کی کل آبادی کے صرف 5 فیصد تک محدود کر دی جائے۔ اس مقصد کے لیے عارضی غیر ملکی ورکر پروگرام کے تحت آنے والے افراد اور بین الاقوامی طلبہ کی تعداد پر سخت پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔

2026 کے لیے نئے عارضی رہائشیوں کی آمد کا ہدف صرف 3 لاکھ 85 ہزار رکھا گیا ہے جس میں سے 2 لاکھ 30 ہزار ورک پرمٹ ہولڈرز اور 1 لاکھ 55 ہزار نئے اسٹڈی پرمٹ ہولڈرز شامل ہوں گے۔ یہ کمی خاص طور پر ان لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو صرف ورک پرمٹ کے سہارے کینیڈا آنے کا سوچ رہے ہیں۔ حکومت کا پیغام واضح ہے کہ اب صرف وہی لوگ آئیں گے جن کی کینیڈا کی معیشت کو اشد ضرورت ہے۔

انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ پروگرام میں بنیادی اصلاحات

بین الاقوامی طلبہ کے لیے 2026 کا سال کافی چیلنجنگ ثابت ہونے والا ہے۔ حکومت نے اسٹڈی پرمٹ کے اجرا کے لیے ایک قومی حد (National Cap) مقرر کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اب صرف وہی تعلیمی ادارے غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دے سکیں گے جو معیار پر پورا اترتے ہوں گے۔

ماسٹرز اور پی ایچ ڈی طلبہ کے لیے رعایت

خوش قسمتی سے حکومت نے اعلیٰ تعلیم کو ترجیح دی ہے۔ 2026 میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح کے طلبہ کو صوبائی تصدیقی خط (PAL) کی ضرورت نہیں ہوگی بشرطیکہ وہ کسی تسلیم شدہ نامزد تعلیمی ادارے میں داخلہ لیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ پی ایچ ڈی یا ریسرچ کی سطح پر کینیڈا آنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے راستے اب بھی کھلے ہیں۔

مالی ضروریات میں اضافہ اور رہائشی اخراجات

اب کینیڈا آنے والے طلبہ کو اپنی مالی حیثیت پہلے سے زیادہ مضبوط دکھانی ہوگی۔ ایک طالب علم کے لیے رہنے کے اخراجات کی مد میں رقم بڑھا کر 22,895 ڈالر کر دی گئی ہے جو کہ ٹیوشن فیس کے علاوہ ہوگی۔ حکومت نے یہ قدم اس لیے اٹھایا ہے کیونکہ بہت سے طلبہ کینیڈا پہنچنے کے بعد مالی مشکلات کا شکار ہو کر غیر قانونی طریقوں سے کام کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ اب یہ یقینی بنایا جائے گا کہ طالب علم کے پاس اپنی پڑھائی اور رہائش کے لیے کافی فنڈز موجود ہوں۔

پوسٹ گریجویشن ورک پرمٹ (PGWP) کے نئے کڑے قوانین

کالج سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے لیے اب ورک پرمٹ حاصل کرنا اتنا آسان نہیں رہا۔ 2026 سے صرف ان پروگراموں کے طلبہ PGWP کے اہل ہوں گے جن کا تعلق کینیڈا میں افرادی قوت کی کمی والے شعبوں سے ہوگا جیسے کہ صحت، ٹیکنالوجی (STEM)، زراعت اور ہنر مند پیشے۔ اگر آپ کا کورس ان مخصوص شعبوں میں نہیں ہے تو آپ کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد ورک پرمٹ نہیں مل سکے گا۔

اس کے علاوہ زبان کی مہارت (Language Proficiency) کے نئے معیار بھی مقرر کیے گئے ہیں:

  • یونیورسٹی گریجویٹس (بیچلرز، ماسٹرز، پی ایچ ڈی) کے لیے CLB لیول 7 لازمی ہوگا۔
  • کالج گریجویٹس کے لیے CLB لیول 5 ہونا ضروری ہوگا۔

یہ تبدیلیاں اس لیے کی گئی ہیں تاکہ صرف وہی لوگ کینیڈا کی ورک فورس کا حصہ بنیں جو مقامی معیشت میں فوری طور پر اپنا حصہ ڈال سکیں اور جنہیں زبان کی وجہ سے کام میں دشواری نہ ہو۔

"ان کینیڈا” ٹرانزیشن پر خصوصی توجہ اور مواقع

2026 کی پالیسی کا ایک بہت بڑا اور مثبت پہلو یہ ہے کہ حکومت اب باہر سے نئے لوگوں کو لانے کے بجائے ان لوگوں کو مستقل رہائش دینے پر توجہ دے رہی ہے جو پہلے سے کینیڈا میں عارضی طور پر موجود ہیں۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ 2026 میں تقریباً 33 ہزار عارضی ورکرز کو ایک خاص پروگرام کے تحت مستقل رہائشی درجہ دیا جائے تاکہ وہ یہاں کے معاشرے کا مستقل حصہ بن سکیں۔ اگر آپ پہلے سے کینیڈا میں ورک پرمٹ پر ہیں تو آپ کے لیے پی آر حاصل کرنے کے مواقع بڑھ گئے ہیں۔

فرانسیسی زبان بولنے والوں کے لیے انقلابی مراعات

کینیڈا کی حکومت اپنی ثقافتی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے فرانسیسی زبان (French) کو بہت اہمیت دے رہی ہے۔ 2026 کے لیے ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ کیوبیک سے باہر امیگریشن کا 9 فیصد حصہ فرانسیسی بولنے والے تارکین وطن پر مشتمل ہو۔ اگر آپ فرنچ زبان جانتے ہیں تو ایکسپریس انٹری کے مخصوص ڈراز (Category-based selection) کے ذریعے آپ کے پی آر حاصل کرنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ حکومت فرنچ بولنے والوں کو دور دراز علاقوں میں بسانے کے لیے خصوصی فنڈز بھی فراہم کر رہی ہے۔

فیملی اسپانسرشپ اور شریک حیات کا ورک پرمٹ

فیملی کلاس کے تحت 2026 میں 84 ہزار افراد کو لانے کا منصوبہ ہے لیکن اسپاؤسل اوپن ورک پرمٹ کے قوانین اب بہت سخت ہو چکے ہیں۔ اب صرف ماسٹرز، پی ایچ ڈی یا مخصوص پیشہ ورانہ ڈگریوں (جیسے طب یا قانون) کے طلبہ کے شریک حیات ہی ورک پرمٹ کے اہل ہوں گے۔ عام انڈر گریجویٹ یا کالج طلبہ کے پارٹنرز کو اب ورک پرمٹ نہیں ملے گا۔ اس پابندی کا مقصد عارضی رہائشیوں کی تعداد کو کنٹرول کرنا ہے۔

صوبائی نامزدگی پروگرام (PNP) کی بڑھتی ہوئی اہمیت

صوبائی حکومتوں کو اپنے علاقوں کی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے پروونشل نامزدگی پروگرام کے تحت 91,500 افراد کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اونٹاریو، برٹش کولمبیا اور البرٹا جیسے صوبے اب ان لوگوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو ان کے صوبے کے دیہی علاقوں میں جا کر کام کرنے پر آمادہ ہوں۔ اگر آپ کا تعلق کسی ہنرمند پیشے سے ہے تو پی این پی آپ کے لیے کینیڈا میں داخلے کا بہترین راستہ ہو سکتا ہے۔

ہاؤسنگ اور انفراسٹرکچر پر اثرات

حکومت کی ان تبدیلیوں کا ایک بڑا سبب کینیڈا میں ہاؤسنگ کا بحران ہے۔ نئے آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے گھروں کی قیمتیں اور کرائے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ 2026 میں امیگریشن کی تعداد میں کمی کرنے سے حکومت کا مقصد یہ ہے کہ تعمیراتی صنعت کو وقت مل سکے تاکہ نئے گھر بنائے جا سکیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے طلبہ کے لیے ہاسٹلز اور رہائش کا بندوبست خود کریں تاکہ مقامی مارکیٹ پر بوجھ نہ پڑے۔

افرادی قوت کی کمی اور مخصوص پیشوں کا انتخاب

اگرچہ مجموعی طور پر تعداد کم کی گئی ہے، لیکن کینیڈا کو اب بھی مخصوص شعبوں میں ورکرز کی سخت ضرورت ہے۔ ان شعبوں میں ہیلتھ کیئر (ڈاکٹرز، نرسز، لیب ٹیکنیشنز)، ٹریڈز (پلمبرز، الیکٹریشنز، کارپینٹرز) اور ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ 2026 میں ان پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ویزا پراسیسنگ زیادہ تیز ہوگی۔ حکومت نے ان شعبوں کے لیے خصوصی پاتھ ویز بنائے ہیں تاکہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے۔

ویزا ولاگ اردو کی رائے: حکمت عملی بدلنے کا وقت

ویزا ولاگ اردو کے نزدیک کینیڈا کی یہ نئی امیگریشن پالیسی ایک واضح پیغام ہے کہ اب "کینیڈین خواب” صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو مکمل تیاری، درست معلومات اور صحیح ہنر کے ساتھ آئیں گے۔ ماضی میں کینیڈا آنا شاید آسان تھا، لیکن 2026 کا کینیڈا صرف کوالٹی امیگریشن پر یقین رکھتا ہے۔

حکومت کا یہ اقدام جہاں مقامی لوگوں کے لیے رہائشی اور طبی سہولیات بہتر بنائے گا، وہی نئے آنے والوں کے لیے مقابلہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت کر دے گا۔ اب وہ وقت گزر گیا جب کوئی بھی عام ڈگری لے کر کینیڈا آ کر سیٹل ہونا ممکن تھا۔ 2026 میں کامیابی کا فارمولا صرف تین چیزیں ہیں:

  1. متعلقہ اور ہائی ڈیمانڈ شعبے میں تعلیم۔
  2. زبان پر مکمل عبور (انگریزی کے ساتھ ساتھ اگر فرانسیسی بھی ہو تو سونے پر سہاگہ)۔
  3. کینیڈا کی لیبر مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق عملی تجربہ اور ہنر۔

ہماری تجویز ہے کہ اپنی درخواست جمع کرانے سے پہلے ان تمام نئے قوانین کا بغور مطالعہ کریں اور صرف انہی پروگراموں کا انتخاب کریں جن کا مستقبل کینیڈا کی نئی پالیسیوں میں روشن ہے۔ Visavlogurdu.com آپ کو ہر مرحلے پر درست معلومات فراہم کرتا رہے گا تاکہ آپ کا مستقبل محفوظ رہ سکے

کینیڈا امیگریشن 2026: آپ کے تمام سوالات کے تفصیلی جوابات

کینیڈا کی وفاقی حکومت نے سال 2026 کے لیے مستقل رہائشیوں کا ہدف کم کر کے 3 لاکھ 80 ہزار مقرر کیا ہے۔ اس کمی کا بنیادی مقصد ملک میں موجود ہاؤسنگ بحران، کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ اور صحت و تعلیم کے نظام پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنا ہے۔ حکومت اب "تیزی سے ترقی” کے بجائے "پائیدار استحکام” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ جو لوگ کینیڈا آئیں انہیں رہائش اور روزگار کی بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات آپ آفیشل گورنمنٹ اعلامیہ میں پڑھ سکتے ہیں۔
کینیڈا نے پہلی بار عارضی رہائشیوں (Non-Permanent Residents) کی تعداد پر ایک سخت حد مقرر کی ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ 2026 کے اختتام تک ملک میں موجود کل عارضی رہائشیوں کی تعداد کینیڈا کی مجموعی آبادی کے 5 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ورک پرمٹ اور اسٹڈی پرمٹ کے اجرا میں نمایاں کمی کی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب بیرون ملک سے نئے لوگوں کو بلانے کے بجائے ان لوگوں کو ترجیح دی جائے گی جو پہلے سے کینیڈا میں موجود ہیں اور یہاں کی معیشت میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
سال 2026 میں نئے اسٹڈی پرمٹ کے لیے صرف 1 لاکھ 55 ہزار کی حد مقرر کی گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر (توسیع شدہ پرمٹس سمیت) یہ تعداد 4 لاکھ 8 ہزار تک رہے گی۔ اب صرف وہی طلبہ کینیڈا آ سکیں گے جن کے پاس صوبائی تصدیقی خط (PAL) موجود ہوگا۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے طلبہ کی رہائش کا مناسب انتظام کریں تاکہ مقامی کمیونٹی پر بوجھ نہ پڑے۔ حکومت صرف ان طلبہ کو ترجیح دے رہی ہے جو اعلیٰ تعلیم اور ریسرچ کے شعبوں میں آنا چاہتے ہیں۔
پہلے PGWP حاصل کرنے کے لیے زبان کا ٹیسٹ لازمی نہیں تھا، لیکن 2026 سے تمام گریجویٹس کو اپنی مہارت ثابت کرنی ہوگی۔ یونیورسٹی سے بیچلرز، ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کرنے والوں کے لیے CLB لیول 7 اور کالج ڈپلومہ کرنے والوں کے لیے CLB لیول 5 ضروری ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ زبان پر عبور کے بغیر غیر ملکی گریجویٹس کو کینیڈا کی لیبر مارکیٹ میں اچھی ملازمتیں حاصل کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ یہ نیا قانون ان طلبہ کی مدد کرے گا تاکہ وہ پی آر (PR) کی دوڑ میں بہتر اسکور حاصل کر سکیں۔ اس کی مزید تفصیل IRCC کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔
اب ہر کالج کورس آپ کو ورک پرمٹ کی ضمانت نہیں دے گا۔ 2026 میں صرف ان کالج گریجویٹس کو پوسٹ گریجویشن ورک پرمٹ ملے گا جن کا تعلیمی پروگرام کینیڈا کی معیشت میں افرادی قوت کی کمی والے شعبوں سے منسلک ہوگا۔ ان شعبوں میں ہیلتھ کیئر، ٹیکنالوجی (STEM)، زراعت، ٹرانسپورٹ اور تعمیراتی شعبے (Trades) شامل ہیں۔ اگر آپ کسی ایسے شعبے میں ڈپلومہ کر رہے ہیں جس کی کینیڈا کو ضرورت نہیں ہے، تو آپ کو تعلیم کے بعد ورک پرمٹ نہیں مل سکے گا۔
کینیڈا کی حکومت اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو ملک میں روکنے کے لیے کوشاں ہے۔ اسی لیے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کو صوبائی تصدیقی خط (PAL) کی شرط سے آزاد کر دیا گیا ہے، یعنی ان کا ویزا پراسیس زیادہ تیز اور آسان ہوگا۔ اس کے علاوہ ان کے شریک حیات (Spouse) بھی اوپن ورک پرمٹ کے اہل ہوں گے۔ حکومت کا مقصد دنیا بھر سے بہترین ٹیلنٹ کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے جو کینیڈا کی ریسرچ اور انوویشن میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
کینیڈا نے 2026 کے لیے فرانسیسی زبان بولنے والوں کا کوٹہ بڑھا کر 9 فیصد کر دیا ہے (کیوبیک کے علاوہ)۔ ایکسپریس انٹری سسٹم میں اب فرانسیسی زبان کی مہارت رکھنے والوں کے لیے مخصوص ڈراز نکالے جا رہے ہیں جن میں کٹ آف اسکور بہت کم ہوتا ہے۔ اگر آپ بنیادی فرنچ بھی سیکھ لیتے ہیں، تو آپ کے مستقل رہائشی بننے کے امکانات انگریزی بولنے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو جائیں گے۔ حکومت کینیڈا بھر میں فرانسیسی کمیونٹیز کو دوبارہ آباد کرنا چاہتی ہے۔
حالیہ تبدیلیوں کے بعد اب ہر طالب علم اپنے شریک حیات کو ورک پرمٹ پر نہیں بلا سکے گا۔ 2026 میں اسپاؤسل اوپن ورک پرمٹ صرف ان لوگوں کو ملے گا جن کے پارٹنرز ماسٹرز، پی ایچ ڈی یا مخصوص پیشہ ورانہ پروگراموں (جیسے میڈیسن، نرسنگ، لاء یا انجینئرنگ) میں زیر تعلیم ہوں گے۔ عام انڈر گریجویٹ یا ڈپلومہ کرنے والے طلبہ کے شریک حیات اب صرف وزٹ ویزا پر آ سکتے ہیں اور انہیں کینیڈا میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مزید معلومات یہاں دیکھیں۔
کینیڈا میں مہنگائی اور رہائش کے اخراجات میں اضافے کے بعد حکومت نے بینک بیلنس کی شرط بڑھا کر 22,895 ڈالر کر دی ہے۔ پہلے یہ رقم صرف 10 ہزار ڈالر تھی جو کہ موجودہ دور میں کینیڈا میں رہنے کے لیے ناکافی تھی۔ اس اضافے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ طالب علم کینیڈا پہنچنے کے بعد مالی مشکلات کا شکار نہ ہو اور اسے کھانے پینے یا رہائش کے لیے فوڈ بینکوں یا غیر قانونی کاموں کا سہارا نہ لینا پڑے۔ یہ رقم ٹیوشن فیس کے علاوہ ہونی چاہیے۔
جی ہاں، 2026 میں صوبائی نامزدگی پروگرام (PNP) کے لیے 91,500 کا ہدف رکھا گیا ہے جو اسے ایک بہت بڑا راستہ بناتا ہے۔ حکومت اب صوبوں کو زیادہ اختیارات دے رہی ہے تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق لوگوں کو منتخب کریں۔ اگر آپ کے پاس ایسا ہنر ہے جس کی کسی مخصوص صوبے (جیسے ساسکچیوان یا نووا اسکوٹیا) میں ضرورت ہے، تو آپ کو وفاقی ایکسپریس انٹری کے مقابلے میں یہاں سے جلدی پی آر مل سکتی ہے۔ اس کے لیے آپ کو متعلقہ صوبے کی آفیشل ویب سائٹ پر نظر رکھنی چاہیے۔
حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں