سویڈن کی حکومت اور سویڈن امیگریشن ایجنسی نے سال 2026 کے لیے ملک کی امیگریشن پالیسی میں ایک تاریخی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ہنر مند افرادی قوت کو ترجیح دینا اور قومی سماجی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ سویڈن امیگریشن 2026 کے اس نئے روڈ میپ کے تحت جہاں ورک پرمٹ کے لیے تنخواہ کی حد بڑھا کر 33,390 کرون کر دی گئی ہے، وہاں رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والوں کے لیے 350,000 سویڈش کرون کی خطیر رقم کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ان اصلاحات کے بارے میں تازہ ترین اور درست معلومات حاصل کرنا ان تمام تارکین وطن کے لیے ضروری ہے جو Visavlogurdu.com کے ذریعے اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، کیونکہ ان قوانین کا براہ راست اثر آپ کی رہائشی مدت، شہریت کے حصول اور سویڈن میں کام کرنے کی اجازت پر پڑے گا۔
سویڈن امیگریشن 2026: ورک پرمٹ، شہریت اور واپسی کی گرانٹ کے لیے نئے سرکاری قوانین کا روڈ میپ
سویڈن کی حکومت اور سویڈن امیگریشن ایجنسی نے سال 2026 کے لیے ملک کی امیگریشن پالیسی میں ایک تاریخی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ہنر مند افرادی قوت کو ترجیح دینا اور قومی سماجی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ سویڈن امیگریشن 2026 کے اس نئے روڈ میپ کے تحت جہاں ورک پرمٹ کے لیے تنخواہ کی حد بڑھا کر 33,390 کرون کر دی گئی ہے، وہاں رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والوں کے لیے 350,000 سویڈش کرون کی خطیر رقم کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ان اصلاحات کے بارے میں تازہ ترین اور درست معلومات حاصل کرنا ان تمام تارکین وطن کے لیے ضروری ہے جو Visavlogurdu.com کے ذریعے اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، کیونکہ ان قوانین کا براہ راست اثر آپ کی رہائشی مدت، شہریت کے حصول اور سویڈن میں کام کرنے کی اجازت پر پڑے گا۔
سویڈن امیگریشن سروسز میں بڑی تبدیلی: ڈراپ ان سروس کا خاتمہ
سویڈن کی موجودہ حکومت نے ایک ایسی پالیسی وضع کی ہے جسے "پیراڈائم شفٹ” یا نظام کی تبدیلی کا نام دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے پہلا اور فوری اثر سویڈن امیگریشن ایجنسی کے کام کرنے کے طریقے پر پڑے گا۔ یکم جنوری 2026 سے سویڈن بھر کے تمام سروس سینٹرز میں "ڈراپ ان” سروسز کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی سائل پیشگی بکنگ کے بغیر امیگریشن کے دفاتر میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
یہ فیصلہ سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور فائل پروسیسنگ کے وقت کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ وہ تمام افراد جنہیں اپنے فنگر پرنٹس دینے ہیں یا شناختی دستاویزات کی جانچ کروانی ہے، انہیں اب لازمی طور پر سویڈن امیگریشن ایجنسی کی ویب سائٹ کے ذریعے اپائنٹمنٹ بک کرنی ہوگی۔ اگر آپ کو ڈیجیٹل درخواستوں میں مدد کی ضرورت ہے تو حکومت نے اس مقصد کے لیے نیشنل گورنمنٹ سروس سینٹر کے نیٹ ورک کو وسعت دی ہے جہاں سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
- یہ بھی پڑھئیے
- سویڈن میں پرمیننٹ ریذیڈنس (PR) حاصل کرنا کیوں مشکل ہوتا جا رہا ہے؟
- سویڈن فیملی ری یونین 2025: آمدنی اور رہائش کی ضروریات کی گائیڈ
- 2015 کے پناہ گزین بحران کے 10 سال بعد سویڈن کی امیگریشن پالیسی کہاں کھڑی ہے؟
- سویڈن ورک پرمٹ تنخواہ کی شرط 2025-2026: مکمل تفصیلات
- سویڈن کا ہنرمندوں کا انخلا: ڈاکٹر کو نوکری کے باوجود رہائش سے انکار
رضاکارانہ واپسی کے لیے 350,000 سویڈش کرون کی گرانٹ
ایک اور انتہائی اہم خبر ان لوگوں کے لیے ہے جو سویڈن چھوڑ کر اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔ حکومت سویڈن نے واپسی کی گرانٹ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ نئے قوانین کے مطابق اب ایک بالغ فرد جو سویڈن میں تحفظ کی بنیاد پر مقیم تھا، وہ واپس جاتے وقت 350,000 کرون کی مالی امداد حاصل کر سکتا ہے۔
یہ رقم پہلے دی جانے والی امداد سے کئی گنا زیادہ ہے اور اس کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو سویڈن کے معاشرے میں ضم نہیں ہو سکے یا جو اپنے ملک میں دوبارہ زندگی شروع کرنے کے خواہش مند ہیں۔ تاہم، یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ گرانٹ حاصل کرنے کے بعد آپ کا سویڈن کا رہائشی پرمٹ منسوخ کر دیا جائے گا اور اگر آپ مستقبل میں دوبارہ سویڈن آنا چاہیں گے تو یہ پوری رقم واپس کرنی ہوگی۔ اس حوالے سے مزید شرائط سرکاری ریپیٹریشن پورٹل پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
ورک پرمٹ کے لیے تنخواہ کی نئی حد اور جون 2026 کی ڈیڈ لائن
لیبر مائیگریشن یا ورک پرمٹ پر آنے والے افراد کے لیے جون 2026 کا مہینہ بہت اہم ثابت ہوگا۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ورک پرمٹ کے لیے تنخواہ کی کم از کم حد کو سویڈن کی اوسط تنخواہ کے 90 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ جون 2026 سے ورک پرمٹ کے حصول یا اس کی تجدید کے لیے آپ کی ماہانہ تنخواہ کم از کم 33,390 سویڈش کرون ہونا ضروری ہے۔
اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی ورکرز کو سویڈن میں معقول اجرت ملے اور مقامی مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔ وہ تمام ملازمین جو اس وقت اس حد سے کم تنخواہ لے رہے ہیں، انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مالکان سے ابھی سے بات کریں تاکہ تجدید کے وقت ان کی درخواست مسترد نہ ہو۔ آپ اپنی تنخواہ کے معیار کی جانچ ورک پرمٹ مینٹیننس پیج پر کر سکتے ہیں۔
سویڈش شہریت کے حصول کے لیے 8 سالہ رہائش کی شرط
شہریت کے حوالے سے بھی سویڈن کی پارلیمنٹ میں سخت قوانین کی تجاویز زیر غور ہیں جن کے جون 2026 تک نافذ ہونے کا قوی امکان ہے۔ ان تجاویز کے مطابق سویڈش شہریت کے لیے درکار رہائشی مدت کو 5 سال سے بڑھا کر 8 سال کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریت کی درخواست دینے والوں کے لیے سویڈش زبان کا امتحان اور معاشرتی علم کا ٹیسٹ پاس کرنا بھی لازمی قرار دیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ شہریت ایک انعام ہے جو صرف ان لوگوں کو ملنا چاہیے جو سویڈن کے نظام اور زبان کو پوری طرح اپنا چکے ہوں۔ شہریت کی درخواست کے لیے خود کفالت کی شرط بھی رکھی جا رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ درخواست گزار کا گزشتہ چند سالوں کے دوران معاشی طور پر مستحکم ہونا اور سرکاری امداد پر انحصار نہ کرنا ضروری ہوگا۔ تازہ ترین پیشرفت کے لیے گورنمنٹ آف سویڈن کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
افغان شہریوں کے لیے ٹریول ڈاکومنٹس کے نئے ضوابط
افغان شہریوں کے لیے بھی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ سویڈن امیگریشن ایجنسی کے تازہ ترین جائزے کے مطابق اب افغان شہریوں کو "ایلین پاسپورٹ” خود بخود جاری نہیں کیا جائے گا۔ اب ہر درخواست گزار کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے اپنے ملک کے سفارت خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ ناکام رہا ہے۔
یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ اب افغانستان کے سفارت خانے پاسپورٹ جاری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، خواتین اور بچوں کے لیے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نرمی برتی جا سکتی ہے لیکن عام حالات میں اب قومی پاسپورٹ کو ترجیح دی جائے گی۔ اس فیصلے کی مکمل تفصیلات امیگریشن ایجنسی کے نیوز آرکائیو میں موجود ہیں۔
خلاصہ اور تارکین وطن کے لیے اہم مشورہ
سویڈن کا یہ نیا امیگریشن روڈ میپ واضح کرتا ہے کہ ملک اب صرف ان لوگوں کو خوش آمدید کہنا چاہتا ہے جو اعلیٰ ہنر مند ہیں یا جو سویڈن کے سماجی اور معاشی نظام میں بھرپور حصہ ڈال سکتے ہیں۔ حکومت سویڈن کا یہ سخت موقف پورے یورپ میں امیگریشن کے بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ تارکین وطن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تمام سرکاری تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور اپنی دستاویزات کو نئے قوانین کے مطابق ترتیب دیں تاکہ انہیں مستقبل میں کسی قانونی پیچیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (Detailed FAQ Section)



