فن لینڈ کی حکومت نے حال ہی میں شہریت کے قوانین میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 2027 سے شہریت حاصل کرنے کے لیے ایک باقاعدہ شہریت کا ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہوگا۔ یہ فیصلہ فن لینڈ کی موجودہ حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک میں آنے والے تارکین وطن کی بہتر طریقے سے معاشرے میں شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔ آج کل پوری دنیا اور بالخصوص یورپ میں تارکین وطن کے لیے قوانین میں سخت تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جیسا کہ آپ حالیہ عالمی امیگریشن نیوز میں دیکھ سکتے ہیں۔ فن لینڈ کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ اب شہریت کا حصول صرف وقت گزارنے پر مبنی نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے ملک کی اقدار اور نظام کو سمجھنا بھی ضروری ہوگا۔
فن لینڈ کی وزارت داخلہ کے مطابق اس نئے ٹیسٹ کا مقصد یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو فن لینڈ کا پاسپورٹ حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے ملک کی تاریخ، سیاسی ڈھانچے، جمہوری اقدار اور فن لینڈ کے شہریوں کے بنیادی حقوق و فرائض کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہوں۔ اس وقت فن لینڈ میں شہریت حاصل کرنے کے لیے بنیادی طور پر فنش یا سویڈش زبان کا آنا ضروری ہے، لیکن 2027 سے اس میں ایک نیا مرحلہ شامل کر دیا جائے گا۔ اس طرح کی تبدیلیاں فن لینڈ کو دیگر یورپی ممالک جیسے کہ جرمنی اور ڈنمارک کے صف میں لا کھڑا کریں گی جہاں پہلے ہی اس طرح کے ٹیسٹ رائج ہیں۔ اگر ہم پڑوسی ممالک کی بات کریں تو سویڈن میں امیگریشن قوانین کی سختی کے بعد اب فن لینڈ نے بھی اپنے شہریوں کے لیے معیار بلند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
- یہ بھی پڑھئیے
- جنوبی ایشیائی 2041 تک کینیڈا کی سب سے بڑی تارکین وطن ورک فورس بن جائیں گے
- کینیڈا نے کینیڈین تجربہ رکھنے والے ڈاکٹروں کے لیے نئی ایکسپریس انٹری کیٹیگری کا آغاز کر دیا
- کینیڈا نے 6000 ایکسپریس انٹری دعوت نامے جاری کیے، اونٹاریو نے ٹریڈز اسٹریم معطل کر دی
- کینیڈا کا امیگریشن کریک ڈاؤن 2026: شریک حیات کے اوپن ورک پرمٹ پر فوری کیپ
- کینیڈا ایکسپریس انٹری 2025: کیٹیگری کی بنیاد پر قرعہ اندازی اور اسکور میں تبدیلیاں
اس قانون کی سب سے اہم کڑی رہائش کی مدت میں اضافہ ہے۔ پہلے غیر ملکی پانچ سال کی مسلسل رہائش کے بعد شہریت کے لیے درخواست دے سکتے تھے، لیکن ستمبر 2024 سے اسے بڑھا کر آٹھ سال کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ آٹھ سال کا عرصہ ایک تارک وطن کو فن لینڈ کے کلچر میں ڈھلنے اور زبان سیکھنے کے لیے کافی وقت دیتا ہے۔ یہ ایک عالمی رجحان ہے جس کے تحت اب شہریت کو ایک انعام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو صرف ان لوگوں کو دیا جائے گا جو ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ جرمنی میں شہریت کے قوانین میں بھی اسی طرح کی اصلاحات کی گئی ہیں جہاں شہریت کے عمل کو شفاف اور میرٹ پر مبنی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
نئے قوانین کے تحت صرف ٹیسٹ پاس کرنا ہی کافی نہیں ہوگا بلکہ درخواست گزار کی مالی حیثیت اور روزگار کی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھی جائے گی۔ حکومت چاہتی ہے کہ نئے شہری معاشی طور پر خود کفیل ہوں اور سرکاری امداد پر بوجھ نہ بنیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہریت کی درخواست دیتے وقت آپ کے پاس مستحکم روزگار اور آمدنی کا ریکارڈ ہونا ضروری ہے۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو ہنرمند ورکر کے طور پر فن لینڈ میں مقیم ہیں۔ چونکہ فن لینڈ میں رہن سہن کے اخراجات زیادہ ہیں، اس لیے اچھی آمدنی کا ہونا ضروری ہے، بالکل اسی طرح جیسے یورپ میں سب سے زیادہ تنخواہیں حاصل کرنے والے ممالک میں شہریوں کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔
سیکیورٹی اور دیانتداری کے حوالے سے بھی شرائط کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ اگر کسی درخواست گزار کا مجرمانہ ریکارڈ پایا گیا یا وہ ملک کے امن و امان کے لیے خطرہ سمجھا گیا، تو اس کی درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔ فن لینڈ کی حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے درخواست گزاروں کے ڈیٹا کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔ اس سلسلے میں یورپ کا ڈیجیٹل بارڈر سسٹم امیگریشن حکام کو ویزہ کی مدت اور رہائشی ریکارڈ کو ٹریک کرنے میں مدد فراہم کرے گا، جس سے شہریت کے عمل میں دھوکہ دہی کا امکان ختم ہو جائے گا۔
2027 میں متعارف کرائے جانے والے ٹیسٹ میں فن لینڈ کے آئین، انسانی حقوق، صنفی برابری اور پارلیمانی نظام کے بارے میں سوالات شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ فن لینڈ کی تاریخ، اہم جنگیں اور ملک کی آزادی کے سفر کے بارے میں بھی معلومات پوچھی جائیں گی۔ ٹیسٹ کی تیاری کے لیے حکومت کی جانب سے اسٹڈی مٹیریل بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ لوگ پہلے سے خود کو تیار کر سکیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ٹیسٹ سے معاشرے میں ہم آہنگی پیدا ہوگی کیونکہ ہر شہری کو معلوم ہوگا کہ اس کے ملک کے بنیادی اصول کیا ہیں۔
تارکین وطن کے لیے مشورہ یہ ہے کہ وہ ابھی سے زبان سیکھنے پر توجہ دیں کیونکہ زبان ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے آپ ٹیسٹ کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور پاس کر سکتے ہیں۔ فن لینڈ میں زبان کا امتحان جسے وائی کے آئی (YKI) کہا جاتا ہے، پہلے ہی ایک لازمی شرط ہے اور اب شہریت کا ٹیسٹ اس کے ساتھ ایک اضافی چیلنج بن کر سامنے آئے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ فن لینڈ اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں شہریت کا حصول محنت اور ملک سے وفاداری کے ثبوت کا متقاضی ہوگا۔ اگر آپ فن لینڈ میں طویل عرصے سے مقیم ہیں یا وہاں منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ کو ان بدلتے ہوئے قوانین کے مطابق اپنی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ آٹھ سال کی رہائش، معاشی استحکام، صاف مجرمانہ ریکارڈ اور شہریت کا ٹیسٹ اب وہ بنیادی ستون ہیں جن پر آپ کی فنش شہریت کی عمارت کھڑی ہوگی۔



