کینیڈا کا اعلیٰ تعلیم کا شعبہ اس وقت ایک غیر معمولی بحران سے گزر رہا ہے، جو اس کی تاریخ میں شاید ہی کبھی دیکھا گیا ہو۔ بین الاقوامی طلباء، جو کبھی کینیڈا کی تعلیمی اور معاشی ترقی کا انجن سمجھے جاتے تھے، اب تیزی سے اس نظام سے دور ہو رہے ہیں۔ گلوبل انرولمنٹ بینچ مارک سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار نے ایک لرزہ خیز حقیقت کا انکشاف کیا ہے کہ کینیڈا کی 75 فیصد یونیورسٹیوں میں بین الاقوامی داخلوں میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ کینیڈا کی عالمی ساکھ، اس کی لیبر مارکیٹ اور یونیورسٹیوں کے مالیاتی ماڈل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ یونیورسٹیوں کے کیمپس جو کبھی غیر ملکی طلباء سے بھرے رہتے تھے، اب ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں، اور انتظامیہ بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہو رہی ہے۔
یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کینیڈا کی تقریباً 82 فیصد یونیورسٹیوں نے 2025 کے تعلیمی سال کے لیے انڈرگریجویٹ داخلوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی ہے۔ بیچلر ڈگری کے پروگراموں میں 36 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ ماسٹرز کی سطح پر بھی 35 فیصد گراوٹ آئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف کسی ایک سطح یا ایک صوبے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس نے پورے تعلیمی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کمی عارضی نہیں ہے بلکہ یہ کینیڈا کی امیگریشن پالیسیوں میں ہونے والی بنیادی تبدیلیوں کا براہ راست نتیجہ ہے، جس نے بین الاقوامی طلباء کے لیے کینیڈا کو ایک مشکل اور مہنگی منزل بنا دیا ہے۔
- یہ بھی پڑھئیے
- برطانیہ یورپی ممالک کے ساتھ شامل: انسانی حقوق کے قوانین میں تبدیلی اور تیز ڈیپورٹیشن
- برطانیہ بی آر پی (BRP) کارڈ کا خاتمہ: 2026 تک ای ویزا کا مکمل نفاذ
- سویڈن نے بارڈرز سخت کر دیے: فیملی امیگریشن کے لیے آمدنی کی شرائط 30 فیصد بڑھ گئیں
- سویڈن کی 2027 کی تجویز: پناہ گزینوں کی مستقل رہائش منسوخ کرنے کا تجزیہ
- سویڈن نے ورک پرمٹ تنخواہ کا بل فائنل کر لیا: 2026 تک تنخواہ 33,390 کرون
حکومتی پالیسیاں اور امیگریشن کا بدلتا منظرنامہ
اس بحران کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے امیگریشن قوانین میں کی جانے والی سختیاں ہیں۔ رہائش کی کمی اور عوامی خدمات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر، حکومت نے بین الاقوامی اسٹڈی پرمٹ پر دو سالہ کیپ (حد) نافذ کر دی۔ اس اقدام کا مقصد عارضی رہائشیوں کی تعداد کو کنٹرول کرنا تھا، لیکن اس کے غیر ارادی نتائج نے یونیورسٹیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم، صرف تعداد میں کمی ہی اصل مسئلہ نہیں تھی، بلکہ قوانین کی نوعیت میں تبدیلی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ سب سے زیادہ نقصان دہ فیصلہ شریک حیات (Spouse) کے اوپن ورک پرمٹ کی اہلیت کو محدود کرنا تھا۔
ماضی میں، کینیڈا ان بالغ اور پیشہ ور طلباء کے لیے پہلی پسند تھا جو اپنے خاندان کے ساتھ منتقل ہونا چاہتے تھے، کیونکہ ان کے شریک حیات کو کام کرنے کی اجازت ہوتی تھی، جس سے خاندان کا خرچ چلانا آسان ہوتا تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ حکومت کی نئی پالیسیوں کے تحت کینیڈا کا امیگریشن کریک ڈاؤن 2026: شریک حیات کے اوپن ورک پرمٹ پر فوری کیپ نافذ کر دی گئی ہے، جس نے بہت سے خاندانوں کے لیے کینیڈا کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ اس پالیسی نے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ کینیڈا اب فیملی فرینڈلی امیگریشن کی منزل نہیں رہا۔ اس کے نتیجے میں، وہ طلباء جو اپنی فیملی کے ساتھ ہجرت کرنا چاہتے تھے، اب برطانیہ یا جرمنی جیسے متبادل ممالک کا رخ کر رہے ہیں، جہاں قوانین اب بھی نسبتاً سازگار ہیں۔
کینیڈا اور امریکہ: ایک تقابلی جائزہ
اگرچہ پوری دنیا میں بین الاقوامی داخلوں میں کمی کا رجحان پایا جاتا ہے، لیکن کینیڈا اس معاملے میں تنہا کھڑا ہے کیونکہ یہاں گراوٹ کی شدت بہت زیادہ ہے۔ کینیڈا کا سب سے بڑا حریف، ریاستہائے متحدہ امریکہ، بھی کمی کا شکار ہے لیکن وہاں حالات اتنے خراب نہیں ہیں۔ جہاں کینیڈا کی 82 فیصد یونیورسٹیوں نے داخلوں میں کمی رپورٹ کی، وہاں امریکہ میں یہ شرح صرف 48 فیصد تھی۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ کینیڈا کا مسئلہ صرف عالمی معاشی حالات نہیں ہیں، بلکہ اس کی اپنی سخت پالیسیاں ہیں۔ امریکہ میں سیاسی تبدیلیاں بھی طلباء کو اتنا نہیں روک رہیں جتنا کہ کینیڈا کے ویزا کے سخت قوانین اور مہنگائی روک رہی ہے۔
کینیڈا کا یہ تاثر کہ وہ ایک خوش آمدید کہنے والا اور کثیر الثقافتی ملک ہے، اب تبدیل ہو رہا ہے۔ ویزا مسترد ہونے کی شرح میں اضافہ، پروسیسنگ میں تاخیر اور غیر یقینی صورتحال نے "کینیڈین برانڈ” کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا ملک چھوڑ کر جانا بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ خبریں عام ہیں کہ کینیڈا کا برین ڈرین: اعلیٰ ہنرمند تارکین وطن ریکارڈ تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ رجحان نئے آنے والے طلباء کے لیے انتہائی حوصلہ شکن ہے، کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ پہلے سے موجود ہنرمند افراد بھی بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں، تو وہ کینیڈا میں اپنے مستقبل کے بارے میں مزید محتاط ہو جاتے ہیں اور سرمایہ کاری کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
آبادیاتی تبدیلیاں اور مستقبل کی لیبر مارکیٹ
موجودہ بحران کے باوجود، کینیڈا کی آبادیاتی حقیقت یہ ہے کہ اسے اپنی معیشت چلانے کے لیے تارکین وطن کی ضرورت رہے گی۔ کینیڈا کی آبادی تیزی سے بوڑھی ہو رہی ہے اور ریٹائر ہونے والے افراد کی جگہ لینے کے لیے نوجوان ہنرمندوں کی اشد ضرورت ہے۔ تاریخی طور پر، جنوبی ایشیا، خاص طور پر بھارت، کینیڈا کے لیے طلباء کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوبی ایشیائی 2041 تک کینیڈا کی سب سے بڑی تارکین وطن ورک فورس بن جائیں گے
یہ پیشین گوئی امید کی ایک کرن ہے کہ موجودہ کشیدگی اور پالیسی کی سختیاں شاید عارضی ہوں اور طویل مدت میں کینیڈا اور جنوبی ایشیا کے تعلقات برقرار رہیں گے۔ لیکن موجودہ سفارتی تنازعات اور ویزا کی سختیوں نے اس "پائپ لائن” کو شدید متاثر کیا ہے۔ یونیورسٹیوں کو اب یہ احساس ہو چکا ہے کہ صرف ایک خطے یا ملک پر انحصار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے اب کینیڈین ادارے افریقہ، لاطینی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی نئے طلباء کی تلاش میں ہیں تاکہ مستقبل میں کسی ایک ملک پر انحصار کم کیا جا سکے اور داخلوں میں تنوع لایا جا سکے۔
ہیلتھ کیئر اور مخصوص شعبوں میں مواقع
جہاں عام آرٹس اور بزنس کی ڈگریوں میں داخلے کم ہو رہے ہیں، وہیں کچھ مخصوص شعبے اب بھی ترقی کر رہے ہیں۔ کینیڈا میں ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کی شدید کمی ہے، اور حکومت اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ہیلتھ کیئر کے شعبے میں امیگریشن کو آسان بنایا ہے اور اسے اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ ایک حالیہ اور اہم پیش رفت میں کینیڈا نے کینیڈین تجربہ رکھنے والے ڈاکٹروں کے لیے نئی ایکسپریس انٹری کیٹیگری کا آغاز کر دیاا ہے۔
یہ ان طلباء کے لیے ایک بہترین موقع ہے جو طبی شعبے میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نئی کیٹیگری اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر آپ کا شعبہ کینیڈا کی ضرورت کے مطابق ہے، تو آپ کے لیے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔ طلباء کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ کینیڈا میں کامیابی کا راستہ اب جنرل آرٹس یا بزنس کی ڈگری نہیں، بلکہ نرسنگ، فارمیسی، میڈیکل ٹیکنالوجی یا انجینیئرنگ جیسی خصوصی ڈگریاں ہیں۔ جو طلباء ان شعبوں کا انتخاب کریں گے، ان کے لیے مستقبل روشن ہے، جبکہ دیگر شعبوں کے طلباء کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایکسپریس انٹری سسٹم اور پی آر کی غیر یقینی صورتحال
بین الاقوامی طلباء کے لیے تعلیم کے بعد سب سے اہم مرحلہ مستقل رہائش (PR) کا حصول ہوتا ہے۔ لیکن یہ راستہ اب پہلے جیسا سیدھا اور آسان نہیں رہا۔ ایکسپریس انٹری سسٹم، جو پی آر کے لیے امیدواروں کا انتخاب کرتا ہے، انتہائی غیر متوقع اور مسابقتی ہو چکا ہے۔ کبھی ڈرا کا سائز بہت بڑا ہوتا ہے اور کبھی مہینوں تک خاموشی چھائی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر، حال ہی میں ایک عجیب صورتحال دیکھی گئی جب کینیڈا نے 6000 ایکسپریس انٹری دعوت نامے جاری کیے، اونٹاریو نے ٹریڈز اسٹریم معطل کر دی۔
یہ تضاد طلباء کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔ ایک طرف وفاقی حکومت لوگوں کو بلا رہی ہے، دوسری طرف صوبائی حکومتیں اپنے دروازے بند کر رہی ہیں۔ خاص طور پر وہ طلباء جو ٹریڈز یا ووکیشنل کورسز کر رہے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال بہت خطرناک ہے۔ وہ ہزاروں ڈالر فیس ادا کرتے ہیں اس امید پر کہ تعلیم کے بعد انہیں صوبائی نامزدگی ملے گی، لیکن اچانک پروگرام کی معطلی ان کے خواب چکنا چور کر دیتی ہے۔ یہی غیر یقینی صورتحال 75 فیصد داخلوں میں کمی کا سبب بن رہی ہے کیونکہ طلباء اپنی محنت کی کمائی ایسے نظام میں نہیں لگانا چاہتے جہاں قوانین راتوں رات بدل جائیں۔
مستقبل کی تیاری: کیٹیگری بیسڈ سلیکشن کا دور
مستقبل قریب میں کینیڈا کا امیگریشن سسٹم مزید پیچیدہ اور ٹارگٹڈ ہونے جا رہا ہے۔ اب "پہلے آئیے پہلے پائیے” کا دور ختم ہو رہا ہے۔ حکومت اب صرف ان لوگوں کو بلائے گی جن کی اسے معیشت کے لیے ضرورت ہے۔ اس حوالے سے اہم تبدیلیاں متوقع ہیں، جیسا کہ کینیڈا ایکسپریس انٹری 2025: کیٹیگری کی بنیاد پر قرعہ اندازی اور اسکور میں تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں۔
نئے نظام کے تحت، فرانسیسی زبان جاننے والوں، یا STEM، زراعت، ٹرانسپورٹ اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں تجربہ رکھنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔ یونیورسٹیاں اب اپنے نصاب کو ان زمروں کے مطابق ڈھالنے پر مجبور ہیں۔ جو طلباء ان شعبوں میں Co-op یا انٹرنشپ کے ساتھ ڈگری حاصل کریں گے، ان کے لیے پی آر حاصل کرنا آسان ہوگا، جبکہ روایتی ڈگری ہولڈرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یونیورسٹیوں کا مالی بحران اور تعلیمی معیار
داخلوں میں اس بڑے پیمانے پر کمی نے کینیڈا کی یونیورسٹیوں کو مالی طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بین الاقوامی طلباء سے حاصل ہونے والی بھاری فیسیں اب بند ہو رہی ہیں، جس سے یونیورسٹیوں کے بجٹ کا توازن بگڑ گیا ہے۔ یہ فیسیں گھریلو طلباء کی تعلیم اور تحقیق کو سبسڈی دینے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق 60 فیصد یونیورسٹیاں بجٹ میں کٹوتی کر رہی ہیں اور نصف کے قریب عملے کو نکالنے کا سوچ رہی ہیں۔
یہ صورتحال تعلیم کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے، کلاسوں کا سائز بڑھ سکتا ہے اور طلباء کے لیے سہولیات میں کمی آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، تحقیق کے لیے فنڈز کی کمی بھی کینیڈا کی علمی ترقی کو روک سکتی ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بحران چھوٹے اداروں کے لیے وجود کا خطرہ بن سکتا ہے، اور انہیں بند ہونا پڑ سکتا ہے یا بڑے اداروں میں ضم ہونا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، ایک امید کی کرن یہ ہے کہ حکومت نے کچھ نئے پروگراموں کا عندیہ دیا ہے، جیسے کہ کینیڈا کا نیا تیز رفتار مستقل رہائش کا پروگرام برائے عارضی ورکرز (2026-2027)، جو مستقبل میں لیبر مارکیٹ کے مسائل کو حل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
کینیڈا کی یونیورسٹیوں میں 75 فیصد کمی صرف ایک اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کینیڈا میں بین الاقوامی تعلیم کا "بزنس ماڈل” اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ طلباء کو اب بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ جو لوگ درست شعبے کا انتخاب کریں گے، لیبر مارکیٹ کی ضروریات کو سمجھیں گے اور بدلتے ہوئے قوانین سے باخبر رہیں گے، صرف وہی اب کینیڈین ڈریم کو پورا کر سکیں گے۔ کینیڈا اب بھی مواقع کی سرزمین ہے، لیکن یہ مواقع اب صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ آنے والے سالوں میں ہمیں تعلیمی اداروں اور امیگریشن پالیسیوں میں مزید ہم آہنگی دیکھنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اس بحران پر قابو پایا جا سکے۔



