spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

سویڈن نے فیملی ریذیڈنٹ کارڈز کے انتظار کا وقت 50 فیصد کم کر دیا:

اسٹاک ہوم، سویڈن - ایک اہم ڈویلپمنٹ میں جو...

پاکستان سے جرمنی ویزا کا نیا طریقہ کار اور 2025 کی تبدیلیاں

جرمنی نے پاکستان میں ویزا حاصل کرنے کے خواہشمند...

پاکستان ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن: ملائیشیا جانے والے 23 مسافر کراچی سے آف لوڈ

ایف آئی اے نے کراچی ایئرپورٹ سے ملائیشیا جانے والے 23 مسافروں کو آف لوڈ کر دیا۔ وزٹ ویزے پر غیر قانونی ملازمت کی کوشش اور شو منی نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی۔ مکمل تفصیلات اور پس منظر جانیں

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف جاری اپنے ملک گیر آپریشن میں ایک اور نمایاں اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ملائیشیا جانے والے 23 مسافروں کو پرواز سے اتار دیا ہے۔ یہ کارروائی جمعہ کے روز عمل میں آئی جب ایف آئی اے کے امیگریشن عملے نے شک کی بنیاد پر مسافروں کی سخت جانچ پڑتال کی۔ یہ اقدام حکومت پاکستان کی ان سنجیدہ کوششوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد ملک سے غیر قانونی امیگریشن کا خاتمہ کرنا، انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنا اور پاکستانی شہریوں کو بیرون ملک جا کر قانونی پیچیدگیوں، جیل اور ڈی پورٹیشن جیسی ذلت آمیز صورتحال سے محفوظ رکھنا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں، خاص طور پر 2023 کے بعد سے، پاکستان نے بارڈر کنٹرول اور ایئرپورٹس پر اسکریننگ کا نظام انتہائی سخت کر دیا ہے تاکہ انسانی سمگلروں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا سکے۔

کراچی ایئرپورٹ پر کارروائی کی مکمل تفصیلات

جمعہ کی علی الصبح وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن ونگ نے کراچی ایئرپورٹ پر تعیناتی کے دوران ملائیشیا جانے والی پرواز نمبر D7-109 کے مسافروں کی اسکریننگ شروع کی۔ اس دوران مسافروں کا ایک گروپ، جن کی تعداد 23 تھی، امیگریشن حکام کو مشکوک معلوم ہوا۔ یہ مسافر بظاہر سیاحت کے ویزے (Visit Visa) پر سفر کر رہے تھے، لیکن ان کا حلیہ، سامان اور باڈی لینگویج سیاحوں والی نہیں تھی۔ ایف آئی اے حکام نے انہیں کاؤنٹر پر روکا اور تفصیلی پوچھ گچھ (Interrogation) کا آغاز کیا۔

دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ ان مسافروں کے پاس سفر کے لیے درکار بنیادی شرائط مکمل نہیں تھیں۔ سب سے اہم مسئلہ "شو منی” (Show Money) کا تھا، یعنی وہ زرمبادلہ جو کسی بھی ملک میں داخل ہونے کے لیے دکھانا ضروری ہوتا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ مسافر وہاں اپنے قیام کے دوران اخراجات خود برداشت کر سکتا ہے۔ ان مسافروں کے پاس نہ تو کافی ڈالر تھے اور نہ ہی ملائیشیا کے ویزے کے لیے لازمی قرار دی گئی بینک اسٹیٹمنٹس موجود تھیں۔ مزید تحقیق پر انکشاف ہوا کہ ان میں سے کئی مسافروں کے پاس ہوٹل کی کنفرم بکنگ بھی نہیں تھی۔ جب دباؤ بڑھایا گیا تو مسافروں نے اعتراف کر لیا کہ وہ سیاحت کے لیے نہیں بلکہ روزگار کی تلاش میں جا رہے ہیں اور ان کا ارادہ ملائیشیا پہنچ کر روپوش ہونے کا ہے۔

انسانی سمگلرز اور ایجنٹ مافیا کا جال

اس واقعے نے پاکستان میں سرگرم انسانی سمگلروں اور دھوکے باز ایجنٹوں کے طریقہ واردات کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ ایجنٹ اکثر دیہاتی اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو سنہرے مستقبل کے خواب دکھاتے ہیں۔ وہ انہیں یقین دلاتے ہیں کہ "وزٹ ویزا” دراصل باہر جا کر کام کرنے کا سب سے آسان اور سستا راستہ ہے، حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ یہ ایجنٹ ان غریب شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں، انہیں جعلی دستاویزات تھماتے ہیں اور یہ کہہ کر ایئرپورٹ بھیج دیتے ہیں کہ وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں امیگریشن قوانین سخت ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور پر، سویڈن کا امیگریشن کریک ڈاؤن اور دیگر یورپی و ایشیائی ممالک کی پالیسیاں اس بات کی غماز ہیں کہ اب غیر قانونی امیگریشن کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ ملائیشیا نے بھی اپنی سرحدوں پر نگرانی سخت کر دی ہے اور ایسے مسافروں کو ایئرپورٹ سے ہی ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے جو وہاں کے امیگریشن معیار پر پورا نہیں اترتے۔ ایف آئی اے کی یہ کارروائی دراصل ان مسافروں کو وہاں جا کر ذلیل و خوار ہونے اور ڈی پورٹ ہونے سے بچانے کے لیے ایک حفاظتی اقدام بھی تھا۔

آف لوڈ ہونے والے مسافروں کا جغرافیائی پس منظر

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق، آف لوڈ کیے گئے ان 23 مسافروں کا تعلق پاکستان کے مختلف علاقوں سے تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانی سمگلنگ کا نیٹ ورک کسی ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ ان مسافروں میں خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور، لوئر دیر، مردان، سوات، باجوڑ اور بنوں کے رہائشی شامل تھے، جبکہ پنجاب کے ضلع گجرات (جو روایتی طور پر بیرون ملک سفر کے لیے مشہور ہے) اور سندھ کے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس گروپ کا حصہ تھے۔ یہ لوگ اپنے خاندانوں کا معاشی بوجھ بانٹنے کی امید لے کر نکلے تھے لیکن ایجنٹوں کے غلط مشوروں کی وجہ سے قانونی شکنجے میں آ گئے۔

وزٹ ویزا بمقابلہ ورک ویزا: ایک اہم قانونی فرق

پاکستانی شہریوں کو یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ "وزٹ ویزا” اور "ورک ویزا” دو بالکل مختلف کیٹیگریز (Categories) ہیں۔ وزٹ ویزا صرف سیر و تفریح یا مختصر ملاقات کے لیے ہوتا ہے اور اس پر کام کرنا قانونی جرم ہے۔ اس کے برعکس، ورک ویزا یا ایمپلائمنٹ ویزا حاصل کرنے کے لیے ایک مخصوص قانونی طریقہ کار ہوتا ہے، جس میں میڈیکل ٹیسٹ، بائیو میٹرک اور پروٹیکٹر کی مہر شامل ہوتی ہے۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے ویزا طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ورکرز قانونی راستے سے آئیں۔

جب کوئی شخص وزٹ ویزے پر جا کر کام کرتا ہے، تو وہ غیر قانونی تارک وطن کہلاتا ہے۔ ایسے لوگوں کا آجر استحصال کرتے ہیں، انہیں کم اجرت دیتے ہیں اور وہ کسی بھی قانونی فورم پر شکایت نہیں کر سکتے۔ اگر وہ پکڑے جائیں تو انہیں جیل اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایف آئی اے اسی لیے ایئرپورٹس پر اتنی سختی کر رہی ہے تاکہ لوگوں کو اس دلدل میں گرنے سے بچایا جا سکے۔

اعداد و شمار: پاکستان کا امیگریشن کریک ڈاؤن اور اس کے اثرات

سال 2023 میں یونان کے ساحل کے قریب ہونے والے المناک کشتی حادثے کے بعد، جس میں سینکڑوں پاکستانی غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے تھے، ریاست پاکستان نے اس مسئلے کو قومی ترجیح کے طور پر لیا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ انسانی سمگلنگ کو ہر قیمت پر روکا جائے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ان سخت اقدامات اور نگرانی کے نتیجے میں یورپ کی جانب غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایف آئی اے کی حکمت عملی کامیاب ہو رہی ہے۔

رواں سال 2025 کے دوران اب تک کی کارکردگی کے اعداد و شمار انتہائی حیران کن ہیں۔ پاکستانی ایئرپورٹس سے 66,154 مسافروں کو مختلف وجوہات کی بنا پر آف لوڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 35,000 تھی۔ یہ دوگنا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسکریننگ کا نظام کتنا سخت کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس سال کے دوران انسانی سمگلنگ میں ملوث 1,700 سے زائد ایجنٹوں اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ستمبر میں ایف آئی اے نے "موسٹ وانٹڈ” سمگلروں کی فہرست جاری کی تھی جس کے بعد سے بڑے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

ڈی پورٹیشن، بھیک مانگنا اور پاکستان کی ساکھ

غیر قانونی امیگریشن کا ایک اور تاریک پہلو بیرون ملک جا کر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونا ہے۔ حالیہ کچھ عرصے میں خلیجی ممالک اور دیگر ریاستوں سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے، جن میں سے کئی بھیک مانگنے یا چھوٹے جرائم میں ملوث تھے۔ ان واقعات نے پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پاکستانیوں کی ڈی پورٹیشن اور بھیک مانگنے کے کیسز کی وجہ سے ویزا پالیسیاں متاثر ہو رہی ہیں، جس سے ان لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں جو واقعی تعلیم، کاروبار یا سیاحت کے لیے جانا چاہتے ہیں۔

جعلی دستاویزات کا استعمال بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ رواں ہفتے ہی کراچی ایئرپورٹ پر تین ایسے مسافروں کو گرفتار کیا گیا جو جعلی کاغذات پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملک کی بدنامی کا بھی باعث ہے۔ ایف آئی اے ان جعل سازوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہی ہے۔

مستقبل کے حفاظتی اقدامات: آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال

انسانی سمگلنگ کے نت نئے طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق، جنوری 2025 سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی ایک جدید ترین امیگریشن اسکریننگ سسٹم نصب کیا جائے گا۔ یہ سسٹم جدید الگورتھم اور ڈیٹا بیس کے ذریعے کام کرے گا اور جعلی پاسپورٹ، چھیڑ چھاڑ شدہ ویزا اور مشکوک سفری دستاویزات کی فوراً شناخت کر سکے گا۔ اس سے انسانی غلطی کی گنجائش ختم ہو جائے گی اور ایئرپورٹس پر سمگلنگ کی روک تھام میں بے پناہ مدد ملے گی۔

اس سسٹم کے نفاذ سے پاکستان کا بارڈر مینجمنٹ سسٹم عالمی معیار کے مطابق ہو جائے گا، جس سے نہ صرف غیر قانونی امیگریشن رکے گی بلکہ قانونی مسافروں کے لیے بھی آسانی پیدا ہوگی۔ دنیا بھر میں ہونے والی عالمی امیگریشن پالیسیوں میں تبدیلیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ پاکستان بھی اپنے سسٹم کو اپ ڈیٹ رکھے۔

ایف آئی اے کی جانب سے 23 مسافروں کو آف لوڈ کرنا ایک بروقت اور قابل ستائش اقدام ہے، جس نے ان شہریوں کو ممکنہ تباہی سے بچا لیا۔ تمام آف لوڈ کیے گئے مسافروں کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے معلومات حاصل کر کے اصل ملزمان یعنی ایجنٹوں تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔

عوام کے لیے پیغام یہ ہے کہ وہ بیرون ملک جانے کے لیے شارٹ کٹ تلاش نہ کریں۔ غیر قانونی راستہ اختیار کرنا نہ صرف پیسے کا ضیاع ہے بلکہ یہ آپ کی زندگی بھی برباد کر سکتا ہے۔ ہمیشہ اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC) یا لائسنس یافتہ پروموٹرز کے ذریعے ہی ویزا حاصل کریں۔ یاد رکھیں، ایجنٹ آپ کو صرف سبز باغ دکھا سکتا ہے، لیکن جیل کی ہوا آپ کو اکیلے کھانی پڑے گی۔ قانونی راستہ ہی محفوظ اور عزت والا راستہ ہے۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں