بیرون ممالک بالخصوص سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے بھیک مانگنے کے الزام میں ہزاروں پاکستانی شہریوں کی جبری ملک بدری اور 2026 تک ویزا پالیسیوں پر اس کے منفی اثرات کے حوالے سے وزارت سمندر پار پاکستانیز نے ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے۔ Visavlogurdu.com کی اس تفصیلی رپورٹ میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی جانب سے انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن، ہوائی اڈوں پر مسافروں کی کڑی نگرانی اور عالمی سطح پر پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ قانونی طور پر سفر کرنے والے محنت کشوں اور سیاحوں کو مستقبل میں مشکلات سے بچایا جا سکے اور امیگریشن کے عمل میں شفافیت لائی جا سکے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کے حالیہ اجلاس میں وزارتِ سمندر پار پاکستانیز اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کی جانب سے پیش کیے گئے انکشافات نے ویزا پالیسیوں کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ چند سالوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران اور عراق سمیت مختلف ممالک سے ہزاروں پاکستانیوں کو پیشہ ورانہ بھیک مانگنے کے جرم میں ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والے ہنر مند افراد اور مذہبی زائرین کے لیے بھی امیگریشن کے عمل کو انتہائی مشکل بنا رہی ہے۔ سرکاری حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو ہنگامی بنیادوں پر نہ روکا گیا تو 2026 کے اختتام تک پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کا حصول ایک ناممکن مشن بن سکتا ہے۔
سیکرٹری وزارت سمندر پار پاکستانیز نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے یہ تشویشناک انکشاف کیا کہ بیرون ملک، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک میں گرفتار ہونے والے بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ یہ اعداد و شمار بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے ایک بڑا سفارتی چیلنج بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ لوگ زیادہ تر عمرہ ویزا یا وزٹ ویزا پر بیرون ملک جاتے ہیں اور وہاں پہنچتے ہی منظم گروہوں کا حصہ بن کر بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ سعودی عرب کے مقدس مقامات، خاص طور پر حرم پاک کے گرد و نواح میں گرفتار ہونے والے جیب کتروں اور بھکاریوں کی بڑی تعداد بھی پاکستانی شہریوں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے سعودی عرب اور عراق کی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
- مزید پڑھیں
- ملائیشیا کی امیگریشن حکمت عملی اور ہنرمند ورکرز
- جنوبی کوریا E-8 سیزنل ورک ویزا 2026 برائے کسان
- محسن نقوی کی مسافروں کو ادھورے کاغذات پر وارننگ
- پاکستان سے یورپ غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی
- بیرون ملک بھیک مانگنے والے ہزاروں پاکستانی ڈی پورٹ
اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عراق اور سعودی عرب کے سفیروں نے اس معاملے پر حکومت پاکستان سے باضابطہ شکایات درج کرائی ہیں۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ پاکستانی شہری زیارت اور عمرہ جیسے مقدس مقاصد کے لیے جاری کیے گئے ویزوں کا غلط استعمال کر رہے ہیں، جو کہ ان ممالک کے سیکیورٹی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس طرز عمل کی وجہ سے میزبان حکومتیں اب پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے پہلے ہی وزٹ ویزوں کی اسکریننگ کے عمل کو انتہائی سخت کر دیا ہے، اور 2026 میں اسکروٹنی کا یہ عمل مزید سخت ہونے کا قوی امکان ہے، جس کا براہ راست اثر ان جائز مسافروں پر پڑے گا جو علاج، تجارت یا تفریح کے لیے جانا چاہتے ہیں۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ بھکاری انفرادی طور پر نہیں بلکہ منظم مافیا اور انسانی سمگلرز کے نیٹ ورک کے ذریعے بیرون ملک پہنچتے ہیں۔ یہ گروہ غریب اور ناخواندہ افراد کو ویزا اور ٹکٹ فراہم کرتے ہیں اور بدلے میں ان سے بھیک منگوا کر بھاری رقوم وصول کرتے ہیں۔ یہ گروہ پاکستان کے مختلف ہوائی اڈوں سے پروازوں کے ذریعے روانہ ہوتے ہیں اور اکثر اوقات ایئرپورٹ حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ ایف آئی اے نے حال ہی میں ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کا نظام بہتر کیا ہے اور سینکڑوں مشکوک افراد کو جہازوں سے آف لوڈ بھی کیا ہے، لیکن یہ مافیا اب بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے نئے طریقے ڈھونڈ رہا ہے۔ حکومت نے اب ایسے ٹریول ایجنٹس کے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ان غیر قانونی سرگرمیوں میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس مسئلے کا ایک اور المناک پہلو یہ ہے کہ جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے بھی پاکستانی شہریوں کی جانب سے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیکرٹری وزارت سمندر پار پاکستانیز کے مطابق، جاپان نے پاکستان سے 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد ہنر مند افراد کی مانگ کی تھی، لیکن پاکستان اس سنہری موقع سے پورا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ملکی ساکھ کا خراب ہونا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستانی ورکرز پر اعتماد کی کمی ہے۔ جب کسی ملک کے شہری تواتر کے ساتھ دوسرے ممالک میں جا کر قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، تو وہ ممالک ہنر مند افراد کے لیے بھی اپنے قانونی راستے محدود کر دیتے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ ترسیلات زر میں کمی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
حکومت پاکستان نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اب نادرا (NADRA) کے ڈیٹا بیس کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے افراد جو بار بار مشکوک طریقے سے بیرون ملک سفر کرتے ہیں، ان کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔ ہوائی اڈوں پر ایف آئی اے کے "پری ڈیپارچر فیسیلی ٹیشن ڈیسک” کو مزید فعال کر دیا گیا ہے جہاں ہر مسافر کے ہوٹل واؤچر، واپسی کے ٹکٹ اور جیب میں موجود رقم (Show Money) کی مکمل پڑتال کی جاتی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف وہی افراد سفر کریں جو متعلقہ ملک کے قوانین پر پورا اترتے ہوں اور جن کا مقصد واقعی وہ ہے جو ویزا پر درج ہے۔
2026 کے عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو بین الاقوامی سفر کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ یورپی یونین کا نیا ETIAS سسٹم اور خلیجی ممالک کے مشترکہ ویزا پروگرامز میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کلیئرنس کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ اگر پاکستانی شہریوں کا کریمنل ریکارڈ یا ڈی پورٹیشن کی شرح اسی طرح بڑھتی رہی، تو پاکستان ان ممالک کی "ہائی رسک لسٹ” میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان ان ذہین طلباء کو ہوگا جو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور ان تاجروں کو جو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عالمی برادری اب ایسے ممالک کے شہریوں کو ویزا دینے سے کتراتی ہے جن کے بارے میں یہ تاثر ہو کہ وہ وہاں جا کر بوجھ بنیں گے یا غیر قانونی کاموں میں ملوث ہوں گے۔
سمندر پار پاکستانی جو دہائیوں سے بیرون ملک محنت کر رہے ہیں اور قانونی طریقے سے ترسیلات زر بھیج کر ملکی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں، وہ بھی اس صورتحال سے شدید پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چند مفاد پرست گروہوں اور بھکاریوں کی وجہ سے پوری پاکستانی کمیونٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں ایئرپورٹس پر تضحیک آمیز تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سفارتی سطح پر دوست ممالک کو یہ یقین دہانی کرائے کہ پاکستان ان مجرمانہ نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر معاشی حالات کی بہتری اور فنی تعلیم کے فروغ پر بھی توجہ دینا ضروری ہے تاکہ لوگ بھیک مانگنے کے بجائے باعزت روزگار کی طرف راغب ہوں۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ویزا پالیسیاں صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتیں بلکہ یہ دو ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کی علامت ہوتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ 2026 میں پاکستانی شہریوں کو دنیا بھر میں عزت ملے اور انہیں ویزا کے حصول میں دشواری نہ ہو، تو ہمیں ایک قوم کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننا ہوگا۔ حکومت کو بارڈر کنٹرول اور انسانی سمگلنگ کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنی ہوگی، جبکہ شہریوں کو بھی یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ بیرون ملک جا کر اپنے ملک کے وقار کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔ ویزا وگ اردو آپ کو ہمیشہ یہی مشورہ دیتا ہے کہ ویزا کے حصول کے لیے ہمیشہ قانونی اور مستند راستہ اختیار کریں تاکہ آپ کا سفر محفوظ اور کامیاب رہے۔
کثرت سے پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
کیا پاکستانیوں کو صرف سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے؟
سرکاری اعداد و شمار اور حالیہ رپورٹوں کے مطابق، پاکستانی شہریوں کی ملک بدری کے واقعات صرف سعودی عرب تک محدود نہیں ہیں۔ اگرچہ سعودی عرب سے بھیک مانگنے اور عمرہ ویزا کی خلاف ورزی پر سب سے زیادہ افراد ڈی پورٹ کیے گئے ہیں، لیکن متحدہ عرب امارات، عراق، ایران، عمان اور ترکی جیسے ممالک سے بھی ایسی ہی تشویشناک شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان تمام ممالک کی حکومتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اب ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کے خلاف انتہائی سخت رویہ اپنا رہے ہیں۔ Visavlogurdu.com کی تحقیقات کے مطابق، یہ افراد اکثر زیارت یا وزٹ ویزا پر ان ممالک میں داخل ہوتے ہیں اور پھر وہاں انسانی اسمگلروں کے گروہوں کا حصہ بن کر منظم طریقے سے بھیک مانگنے یا غیر قانونی ملازمتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر گرفتار کر کے تاحیات پابندی کے ساتھ ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔
کیا 2026 میں پاکستانیوں کے لیے ویزا حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا؟
جی ہاں، موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سال 2026 تک پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے بین الاقوامی سطح پر ویزا کا حصول مزید پیچیدہ اور مشکل ہو سکتا ہے۔ جب بڑی تعداد میں شہری بیرون ملک جا کر غیر قانونی سرگرمیوں یا بھیک مانگنے میں ملوث ہوتے ہیں، تو متعلقہ ممالک کی امیگریشن ایجنسیاں پاکستانیوں کے لیے اسکریننگ کا عمل انتہائی سخت کر دیتی ہیں۔ 2026 میں ممکنہ طور پر بینک اسٹیٹمنٹ کی گہری جانچ پڑتال، ہوٹل بکنگ کی لازمی تصدیق، اور واپسی کے ٹھوس مالی ثبوتوں کی طلب میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، ایسے منفی واقعات کی وجہ سے پاسپورٹ انڈیکس میں پاکستان کی رینکنگ مزید گر سکتی ہے، جس کا براہ راست نقصان ان حقیقی سیاحوں، طلباء اور کاروباری افراد کو ہوگا جو قانونی طریقے سے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، کیونکہ ان کے ویزا مسترد ہونے کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکومت پاکستان اس مسئلے کو روکنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟
حکومت پاکستان نے بیرون ملک ملک کی ساکھ کو بچانے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی یعنی ایف آئی اے کو خصوصی اختیارات دیے ہیں۔ ملک کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر امیگریشن کا عمل اب پہلے سے کہیں زیادہ سخت کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے اہلکار اب ہر مسافر کے دستاویزات، ہوٹل بکنگ اور ان کے پاس موجود زرمبادلہ کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ ایسے افراد جن کے پاس واپسی کا کنفرم ٹکٹ یا قیام کے لیے مناسب مالی وسائل نہیں ہوتے، انہیں آف لوڈ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت نے ان انسانی اسمگلروں اور ایجنٹوں کے خلاف بھی ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا ہے جو سادہ لوح لوگوں کو بیرون ملک سبز باغ دکھا کر غیر قانونی کاموں کے لیے بھیجتے ہیں۔ وزارت داخلہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ صرف وہی افراد سفر کریں جو متعلقہ ملک کے قوانین کا احترام کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں، تاہم اس کے لیے مزید سخت قانون سازی اور فوری سزاؤں پر کام کیا جا رہا ہے۔
کیا ان واقعات کا اثر عمرہ زائرین پر پڑے گا؟
سعودی حکومت کی جانب سے بار بار ملنے والی شکایات کے بعد عمرہ ویزا کی پالیسیوں پر اس کا گہرا اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سعودی حکام اب عمرہ ویزا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ڈیجیٹل اسکریننگ اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید جدید بنا رہے ہیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ مستقبل میں عمرہ ویزا کے لیے عمر کی حد، گروہ کی صورت میں سفر کرنے کی پابندی، یا مقامی ٹریول ایجنٹ کی طرف سے بھاری ضمانتیں طلب کی جا سکتی ہیں۔ اس کا براہ راست نقصان ان سچے زائرین کو ہوگا جو خالصتاً عبادت کی نیت سے حرمین شریفین جانا چاہتے ہیں۔ سعودی حکومت کی "وژن 2030” پالیسی کے تحت وہ سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں، لیکن سیکیورٹی اور نظم و ضبط ان کی پہلی ترجیح ہے، اس لیے ویزا کے قوانین میں سختی حقیقی زائرین کے لیے طویل انتظار اور اضافی اخراجات کا باعث بن سکتی ہے۔



