spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

امریکہ میں انٹری ایگزٹ کے لیے لازمی بائیومیٹرک سسٹم: 2026 کی جامع گائیڈ

امریکی حکومت نے تمام غیر ملکی مسافروں اور گرین...

سویڈن میں امیگریشن قوانین کی سختی اور ہنرمندوں کا انخلا: 2026 کا تجزیہ

سویڈن، جو کبھی اپنی فراخدلانہ امیگریشن پالیسیوں کے لیے...

فیملی ری یونین کی بنیاد پر امیگریشن کے لیے سویڈن میں سخت قوانین کا نفاذ

سویڈن نے اپنی امیگریشن پالیسیوں میں ایک ایسی بنیادی...

برطانیہ میں ورک ویزا کے لیے انگریزی زبان کی نئی شرائط: 2026 کا بڑا فیصلہ

برطانیہ میں اسکلڈ ورکر اور اسکیل اپ ویزا کے...

سعودی عرب میں زرعی کارکنان اور چرواہوں کے لیے بڑی خوشخبری: نئے لیبر قوانین 2026 اور سالانہ چھٹیوں کا اعلان

سعودی عرب کی وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے زرعی اور گلہ بانی کے شعبے سے وابستہ کارکنان کے لیے نئے قوانین کا اعلان کیا ہے جو کہ 2025 اور 2026 کے دوران لیبر مارکیٹ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے اور ان قوانین کی تفصیلات وزارت کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں جن کے تحت اب انفرادی آجروں کے پاس کام کرنے والے زرعی کارکنان اور چرواہوں کو سالانہ 30 دن کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی اور ہفتہ وار چھٹی جیسی مراعات حاصل ہوں گی جو کہ ان کے حقوق کے تحفظ اور بہتر کام کے ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بہترین قدم ہے۔

سعودی عرب میں لیبر قوانین میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے اور اسی تناظر میں وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے زرعی اور گلہ بانی کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے ایک جامع ریگولیٹری فریم ورک جاری کیا ہے جس کا مقصد ان کارکنان کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا اور آجر اور اجیر کے تعلقات کو بہتر بنانا ہے اور یہ نئے ضوابط ان تمام کارکنان پر لاگو ہوں گے جو نجی فارمز یا گھروں میں زرعی کاموں یا مویشی پالنے کے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور یہ قوانین اداروں کے بجائے انفرادی آجروں کے لیے وضع کیے گئے ہیں تاکہ اس غیر منظم شعبے کو بھی قانونی دائرہ کار میں لایا جا سکے اور کارکنان کو وہ تمام بنیادی حقوق مل سکیں جو دیگر شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو حاصل ہیں اور ان اصلاحات کو 2026 کے ویژن کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے تاکہ آنے والے سالوں میں سعودی لیبر مارکیٹ کو مزید مستحکم اور شفاف بنایا جا سکے۔

نئے ضوابط کے مطابق جو کہ سعودی لیبر پورٹل پر دیکھے جا سکتے ہیں زرعی اور گلہ بانی کے کارکنان اب ہر سال ملازمت مکمل کرنے پر کم از کم 30 دن کی تنخواہ کے ساتھ سالانہ چھٹی کے حقدار ہوں گے جو کہ پہلے اس شعبے میں ایک غیر واضح معاملہ تھا اور اگر کارکن اپنی سالانہ چھٹی کا استعمال کرنے سے پہلے ہی ملازمت چھوڑ دیتا ہے یا اس کا معاہدہ ختم ہو جاتا ہے تو اسے ان چھٹیوں کے بدلے مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا جو کہ اس بات کی ضمانت ہے کہ کارکن کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی اور اسے اس کا جائز حق ملے گا اور اس کے علاوہ کارکنان کو عید الفطر کی چار چھٹیاں جو کہ 29 رمضان سے شروع ہوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ یوم وطنی اور یوم تاسیس کی سرکاری چھٹیاں بھی تنخواہ کے ساتھ دی جائیں گی۔

کام کے اوقات کار کے حوالے سے بھی سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں جن کی نگرانی مساند پلیٹ فارم کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے اور ان قوانین کے تحت کسی بھی کارکن سے ایک دن میں 8 گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جا سکتا اور اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ کارکنان پر کام کا بے جا بوجھ نہ ڈالا جائے اور اگر کارکن کو ہفتہ وار چھٹی کے دن کام کرنا پڑتا ہے تو اسے اس کے بدلے ایک متبادل آرام کا دن فراہم کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازم قرار دیا گیا ہے کہ کارکنان کو مسلسل پانچ گھنٹے کام کرنے کے بعد آرام اور کھانے کے لیے وقفہ دیا جائے گا جو کہ کم از کم آدھے گھنٹے پر محیط ہوگا اور یہ وقفہ کام کے اوقات میں شمار کیا جائے گا تاکہ کارکنان کی صحت اور تندہی متاثر نہ ہو اور وہ بہتر انداز میں اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔

اوور ٹائم یا اضافی کام کے حوالے سے بھی سرکاری ضوابط میں واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اگر کوئی آجر اپنے کارکن سے مقررہ 8 گھنٹوں سے زیادہ کام لیتا ہے تو اسے اضافی گھنٹوں کے لیے بنیادی تنخواہ کا 50 فیصد اضافی معاوضہ ادا کرنا ہوگا جو کہ کارکنان کے لیے ایک بڑی مالی امداد ثابت ہو سکتا ہے اور اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ چھٹیوں اور سرکاری تعطیلات کے دوران کیے جانے والے کام کو اوور ٹائم نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس کے لیے الگ سے قوانین لاگو ہوں گے اور اس کے علاوہ ہر کارکن کو ہفتے میں کم از کم ایک دن مکمل 24 گھنٹے کی مسلسل چھٹی کا حق حاصل ہوگا جس کے دوران وہ اپنے ذاتی کام کاج نمٹا سکے گا اور آرام کر سکے گا جو کہ اس کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

ملازمت کے معاہدے اور پروبیشن پیریڈ کے حوالے سے بھی نئے اصول وضع کیے گئے ہیں جن کے مطابق آجر اور کارکن کے درمیان اتفاق رائے سے 90 دن تک کا آزمائشی یا پروبیشن پیریڈ مقرر کیا جا سکتا ہے اور اس دوران دونوں فریقین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ملازمت کا معاہدہ ختم کر سکیں اور اگر اس دوران معاہدہ ختم کیا جاتا ہے تو کسی قسم کا معاوضہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی تاہم یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ ایک ہی آجر کے پاس کارکن کو ایک سے زیادہ بار پروبیشن پر نہیں رکھا جا سکتا تاکہ اس قانون کا غلط استعمال نہ ہو اور کارکنان کو غیر ضروری دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

آجر کی ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ وہ کارکن کو رہائش کی مناسب سہولت فراہم کرے گا چاہے وہ کام کی جگہ کے اندر ہو یا باہر اور اس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا انتظام یا اس کے بدلے مالی الاؤنس فراہم کرنا بھی آجر کی ذمہ داری ہوگی اور اگر رہائش کام کی جگہ سے دور ہے تو آجر کو نقل و حمل کی سہولت یا اس کا کرایہ دینا ہوگا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کارکن سے ویزا فیس اقامہ کی تجدید یا خروج و عودہ کے اخراجات وصول نہیں کیے جائیں گے بلکہ یہ تمام اخراجات آجر خود برداشت کرے گا اور آجر کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ کارکن کا پاسپورٹ یا دیگر ذاتی دستاویزات اپنے پاس رکھے جو کہ ماضی میں ایک بڑا مسئلہ رہا ہے اور ان حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں کارکن وزارت کی ہیلپ لائن پر رابطہ کر سکتا ہے۔

نئے قوانین میں کارکنان کی عمر کی حد بھی مقرر کی گئی ہے اور اب 21 سال سے کم عمر افراد کو بطور زرعی کارکن یا چرواہا بھرتی کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے تاکہ کم عمری میں مشقت کے رجحان کو روکا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ آجر کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کارکن سے معاہدے میں درج کام کے علاوہ کوئی اور کام نہیں لے گا اور نہ ہی اسے کسی دوسرے شخص کے پاس کام کرنے پر مجبور کرے گا اور اگر کوئی کارکن بیمار ہو جاتا ہے یا وفات پا جاتا ہے تو آجر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ میت کی تدفین یا اسے آبائی وطن بھجوانے کے تمام اخراجات برداشت کرے اور کارکن کے اہل خانہ سے رابطے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔

دوسری جانب کارکنان پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں جن میں یہ شامل ہے کہ وہ معاہدے کے مطابق اپنے فرائض دیانتداری سے ادا کریں گے اور آجر کی ہدایات پر عمل کریں گے اور کام کے اوقات کی پابندی کریں گے اور آجر کے رازوں کی حفاظت کریں گے اور سب سے اہم یہ کہ وہ اپنے معاہدے کی مدت کے دوران کسی اور جگہ کام نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنا ذاتی کاروبار کریں گے تاکہ آجر کے مفادات کا بھی تحفظ ہو سکے اور یہ قوانین اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سعودی حکومت 2026 تک لیبر مارکیٹ کو مکمل طور پر ریگولیٹ کرنے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کے لیے پرعزم ہے۔

یہ نئے قوانین زرعی شعبے میں کام کرنے والے ہزاروں غیر ملکی کارکنان کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہیں کیونکہ اس سے قبل یہ شعبہ اکثر غیر منظم سمجھا جاتا تھا اور کارکنان کو ان کے بنیادی حقوق حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن اب وزارت انسانی وسائل کی جانب سے ان واضح ضوابط کے بعد کارکنان اپنی تنخواہ چھٹیوں اور دیگر مراعات کے بارے میں زیادہ پر اعتماد ہو سکیں گے اور اگر کوئی آجر ان قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو کارکنان کے پاس قانونی چارہ جوئی کا راستہ موجود ہوگا اور یہ اصلاحات سعودی عرب کے ویژن 2030 کا حصہ ہیں جس کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا اور لیبر مارکیٹ میں انصاف اور مساوات کو فروغ دینا ہے۔

مجموعی طور پر یہ پیشرفت نہ صرف کارکنان کے معیار زندگی کو بہتر بنائے گی بلکہ زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ کرے گی کیونکہ جب کارکنان کو ان کے حقوق ملیں گے اور انہیں کام کا بہتر ماحول میسر آئے گا تو وہ زیادہ دلجمعی اور محنت سے کام کریں گے جس کا براہ راست فائدہ آجروں اور ملکی معیشت کو ہوگا اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کے لیے سخت نگرانی کا نظام بھی وضع کیا جائے گا تاکہ 2026 تک اس شعبے میں مکمل تبدیلی لائی جا سکے اور سعودی عرب کو خطے میں لیبر حقوق کے حوالے سے ایک مثال بنایا جا سکے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

وزارت کے نئے قوانین کے مطابق کارکنان ہر سال ملازمت مکمل کرنے پر 30 دن کی تنخواہ کے ساتھ سالانہ چھٹی کے حقدار ہیں

جی ہاں کارکنان کو ہفتے میں کم از کم ایک دن یعنی مسلسل 24 گھنٹے کی ہفتہ وار چھٹی کا حق حاصل ہے۔

اگر کارکن 8 گھنٹے سے زیادہ کام کرتا ہے تو اسے اضافی گھنٹوں کے لیے بنیادی تنخواہ کا 50 فیصد اضافی معاوضہ دیا جائے گا۔

نہیں سعودی لیبر لا کے مطابق آجر کو کارکن کا پاسپورٹ یا ذاتی شناختی دستاویزات اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

آجر اور کارکن کے درمیان اتفاق رائے سے زیادہ سے زیادہ 90 دن کا پروبیشن پیریڈ مقرر کیا جا سکتا ہے۔

نہیں ویزا فیس اقامہ اور خروج و عودہ کے تمام اخراجات آجر کی ذمہ داری ہوں گے کارکن پر اس کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں