spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

سویڈن میں پرمیننٹ ریذیڈنس (PR) حاصل کرنا کیوں مشکل ہو رہا ہے؟

سویڈن کی حکومت نے 2026 میں اپنی امیگریشن پالیسیوں...

پرتگال کی شہریت کا گیم چینجر: "5 سالہ گنتی” اب پہلی درخواست جمع کروانے سے شروع ہو گی

پرتگال طویل عرصے سے تارکین وطن، ایکسپیٹس (expats) اور...

کینیڈا کا امیگریشن کریک ڈاؤن 2026: شریک حیات کے ویزے بند اور پی آر کوٹہ میں تاریخی کمی

کینیڈا جو کبھی تارکین وطن کے لیے جنت سمجھا جاتا تھا اب 2026 میں اپنی تاریخ کے سب سے سخت ترین امیگریشن دور میں داخل ہو چکا ہے۔ جسٹن ٹروڈو کی حکومت نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور رہائش کے بحران اور بے روزگاری کو جواز بنا کر امیگریشن پالیسیوں میں ڈرامائی تبدیلیاں کی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا براہ راست اثر ان ہزاروں پاکستانیوں پر پڑا ہے جو کینیڈا جانے کے خواب دیکھ رہے تھے یا جو وہاں پہلے سے موجود ہیں اور اپنی فیملی کو بلانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ غور کریں تو کینیڈا کی امیگریشن پالیسی میں بڑا دھچکا لگنے کی بنیادی وجہ وہاں کے مقامی وسائل پر پڑنے والا بوجھ ہے۔ اس مضمون میں ہم کینیڈا کی نئی پالیسیوں کا گہرائی سے جائزہ لیں گے اور یہ بھی بتائیں گے کہ ان سخت حالات میں اب آپ کے پاس کیا آپشنز بچے ہیں۔

شریک حیات کے اوپن ورک پرمٹ پر پابندی

سب سے بڑا جھٹکا ان لوگوں کو لگا ہے جو کینیڈا میں طالب علم ہیں یا کم سکل والی نوکری کر رہے ہیں۔ ماضی میں اگر کوئی شخص کینیڈا میں پڑھنے جاتا تھا تو اس کا شریک حیات اوپن ورک پرمٹ پر وہاں جا سکتا تھا اور کسی بھی جگہ کام کر سکتا تھا۔ لیکن 2026 کے نئے قوانین کے تحت اب یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ اب صرف ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کرنے والے طلباء یا پھر انتہائی ہائی سکلڈ پروفیشنلز کے شریک حیات کو ہی ورک پرمٹ ملے گا۔ اگر آپ کسی کالج میں ڈپلومہ کر رہے ہیں تو آپ کی بیگم یا شوہر کو اب ورک ویزا نہیں ملے گا بلکہ وہ صرف وزیٹر ویزا پر جا سکیں گے جس پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ فیصلہ ان پاکستانیوں کے لیے بہت پریشان کن ہے جو میاں بیوی دونوں مل کر کمانے اور یونیورسٹی کی فیس ادا کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

پی آر کوٹہ میں تاریخی کمی

کینیڈا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 میں مستقل رہائش یعنی پی آر دینے کی تعداد میں نمایاں کمی کرے گا۔ پہلے ہدف پانچ لاکھ سالانہ تھا جسے کم کر کے اب تین لاکھ پچانوے ہزار کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مقابلہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو گیا ہے۔ جو لوگ کینیڈا ایکسپریس انٹری 2025 کیٹیگری کی بنیاد پر اپلائی کر رہے تھے ان کے لیے سی آر ایس سکور بہت اوپر چلا گیا ہے۔ اب صرف ان لوگوں کو دعوت نامے مل رہے ہیں جن کے پاس فرانسیسی زبان کی مہارت ہے یا جو ہیلتھ کیئر اور ٹریڈز یا سٹیم کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔ عام گریجویٹس یا آرٹس کے مضامین میں تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے پی آر لینا اب تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

طلباء کے لیے مشکلات

کینیڈا نے بین الاقوامی طلباء کی تعداد پر بھی کیپ لگا دی ہے۔ چونکہ کینیڈا نے 2028 تک نئے سٹوڈنٹ پرمٹ کیپ کا اطلاق کیا ہے اس کے بعد ویزا منظوری کی شرح میں پچاس فیصد تک کمی آئی ہے۔ اب صرف ان یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباء کو ویزا مل رہا ہے جن کے پاس رہائش کی سہولت موجود ہے۔ اس کے علاوہ پوسٹ گریجویٹ ورک پرمٹ کے قوانین بھی بدل گئے ہیں۔ اب پرائیویٹ کالجوں سے پڑھنے والوں کو ڈگری کے بعد ورک پرمٹ نہیں ملے گا۔ یہ پاکستانی طلباء کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اکثر طلباء سستے پرائیویٹ کالجوں کا رخ کرتے تھے۔

عارضی غیر ملکی ورکرز پروگرام میں تبدیلیاں

وہ پاکستانی جو ایل ایم آئی اے کی بنیاد پر کینیڈا جاتے تھے ان کے لیے بھی بری خبر ہے۔ حکومت نے عارضی غیر ملکی ورکرز کی تعداد کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب کمپنیاں صرف اسی صورت میں باہر سے بندہ بلا سکیں گی جب انہیں کینیڈا کے اندر کوئی ورکر نہ ملے۔ کم اجرت والی نوکریوں کے لیے ویزا جاری کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے خاص طور پر ان شہروں میں جہاں بے روزگاری کی شرح چھ فیصد سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹورنٹو اور وینکوور جیسے بڑے شہروں میں اب لیبر کیٹیگری کا ویزا ملنا بہت مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہاں سے کینیڈا کا برین ڈرین اعلیٰ ہنرمند تارکین وطن کے انخلاء کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جو بہتر مواقع کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

اب راستہ کیا ہے؟

ان تمام تر سختیوں کے باوجود کینیڈا ابھی بھی ہنر مند افراد کو لے رہا ہے۔ اگر آپ ڈاکٹر یا نرس یا انجینئر یا آئی ٹی ماہر ہیں تو آپ کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ حکومت نے کینیڈا کا نیا تیز رفتار مستقل رہائش کا راستہ متعارف کروایا ہے جو مخصوص شعبوں کے لیے ہے۔ اب آپ کو صوبائی نامینیشن پروگرام یعنی پی این پی پر توجہ دینی چاہیے جو کہ فیڈرل سسٹم سے ہٹ کر ہے۔ البرٹا اور ساسکیچیوان جیسے صوبے ابھی بھی لوگوں کو بلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فرانسیسی زبان سیکھنا اب کینیڈا جانے کا شارٹ کٹ بن چکا ہے۔ اگر آپ فرانسیسی زبان کا ٹیسٹ پاس کر لیتے ہیں تو آپ کا سی آر ایس سکور بہت بڑھ جاتا ہے اور پی آر ملنے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔

متبادل کی تلاش

اگر کینیڈا کا دروازہ بند ہو رہا ہے تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یورپ میں ابھی بھی مواقع موجود ہیں۔ جرمنی کا اپرچونٹی کارڈ اور سویڈن کا جاب سیکر ویزا بہترین متبادل ہو سکتے ہیں۔ دنیا وسیع ہے اور رزق دینے والی ذات اللہ کی ہے۔ کینیڈا کے پیچھے اپنا وقت اور پیسہ برباد کرنے کی بجائے ان ممالک کا رخ کریں جہاں قوانین نرم ہیں اور جہاں آپ کی قدر کی جاتی ہے

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں