spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

2025 میں برطانیہ میں نیٹ مائگریشن 204,000 تک گر گئی: سرکاری ONS ڈیٹا کی تفصیل

2025 میں برطانیہ میں نیٹ مائگریشن میں ریکارڈ کمی:...

سویڈن میں امیگریشن قوانین کی سختی اور ہنرمندوں کا انخلا: 2026 کا تجزیہ

سویڈن، جو کبھی اپنی فراخدلانہ امیگریشن پالیسیوں کے لیے...

IELTS ا سکینڈل: دو سال تک غلط سکور فراہم کرتا رہا

انٹرنیشنل انگلش لینگویج ٹیسٹنگ سسٹم (IELTS) کی تنظیم—جو دنیا...

جنوبی کوریا ای-8 سیزنل ورک ویزا 2026: کسانوں اور زرعی ورکرز کے لیے مکمل گائیڈ

سال 2026 کی آمد کے ساتھ ہی جنوبی کوریا کو اپنے زرعی اور ماہی گیری کے شعبوں میں شدید لیبر کی کمی کا سامنا ہے۔ دیہاتوں میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کی وجہ سے کوریائی وزارت انصاف اور وزارت زراعت نے ای-8 سیزنل ورکر پروگرام کے کوٹے میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک خاص طور پر پاکستان اور انڈیا کے کسانوں کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کیونکہ ای-8 ویزا آپ کو پانچ سے آٹھ ماہ تک کوریا میں قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس کی تنخواہ آپ کے اپنے ملک کے مقابلے میں پانچ سے دس گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ تاہم ای-8 ویزا کا طریقہ کار عام ورک ویزوں سے مختلف ہے اور اکثر لوگ غلط معلومات کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ یہ گائیڈ آپ کو 2026 کے سرکاری قوانین اور ایم او یو سسٹم کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرے گی۔

ای-8 سیزنل ورکر ویزا کیا ہے؟ ای-8 ویزا ایک قلیل مدتی ورک پرمٹ ہے جو خاص طور پر فصلوں کی کٹائی اور بوائی کے موسم میں کوریائی کسانوں کی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی ابتدائی مدت پانچ ماہ ہوتی ہے جسے کچھ شرائط کے تحت آٹھ ماہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ ویزا صرف زراعت یعنی کھیتی باڑی، گرین ہاؤسز اور ماہی گیری یعنی سی فوڈ پروسیسنگ کے لیے ہے۔ اس ویزا کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ای-9 ویزا یا جنوبی کوریا کے-سٹار ویزا کے برعکس اس کے لیے کسی ڈگری یا کوریائی زبان کے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف جسمانی فٹنس ہی سب سے بڑا معیار ہے۔

2026 کا کوٹہ اور تنخواہ جنوبی کوریا نے غیر ملکی موسمی ورکرز کے کوٹے میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ موجودہ رجحانات کے مطابق 2026 میں یہ کوٹہ پچاس ہزار ورکرز سے تجاوز کر سکتا ہے۔ تنخواہ کی بات کی جائے تو ورکرز کو جنوبی کوریا کی کم از کم اجرت کے مطابق ادائیگی کی جاتی ہے۔ 2026 کے تخمینے کے مطابق ماہانہ تنخواہ تقریبا اکیس لاکھ کوریائی وان بنتی ہے جو کہ پاکستانی روپوں میں تقریبا چار سے ساڑھے چار لاکھ روپے کے برابر ہے۔ اوور ٹائم کے لیے ڈیڑھ گنا زیادہ ادائیگی کی جاتی ہے۔ رہائش عام طور پر کسان فراہم کرتا ہے جس کی معمولی کٹوتی تنخواہ سے کی جا سکتی ہے۔

اہلیت کی شرائط 2026 میں ای-8 ویزا کے لیے اہل ہونے کے لیے آپ کی عمر 18 سے 55 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔ آپ کو تپ دق یعنی ٹی بی، ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں سے پاک ہونا چاہیے۔ کوریا میں منشیات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اس لیے ویزا جاری ہونے سے پہلے اور وہاں پہنچنے پر آپ کا ڈرگ ٹیسٹ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ آپ کا کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی آپ کبھی کوریا میں غیر قانونی طور پر مقیم رہے ہوں۔ اگرچہ زراعت کا تجربہ لازمی نہیں ہے لیکن جن لوگوں کے پاس کھیتی باڑی کا تجربہ ہوتا ہے انہیں ترجیح دی جاتی ہے۔

درخواست دینے کے دو سرکاری طریقے یہ سب سے اہم حصہ ہے جسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ آپ انفرادی طور پر ای-8 ویزا کے لیے براہ راست سفارت خانے میں درخواست نہیں دے سکتے۔ 2026 میں اس پروگرام میں شامل ہونے کے صرف دو قانونی طریقے ہیں۔ پہلا اور سب سے عام طریقہ ایم او یو روٹ یعنی حکومتی سطح پر معاہدہ ہے۔ اس میں جنوبی کوریا کی کوئی مقامی حکومت یا ضلع آپ کے ملک کے کسی مخصوص شہر یا ضلع کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے۔ آپ کو اپنی درخواست اپنے مقامی سرکاری دفتر میں جمع کروانی ہوتی ہے نہ کہ کوریائی ایمبیسی میں۔ اگر آپ کا شہر یا ضلع کوریا کے ساتھ معاہدے میں شامل نہیں ہے تو آپ اس طریقے سے اپلائی نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں او ای سی یعنی اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن وقتاً فوقتاً ایسے مواقع کا اعلان کرتی ہے۔

دوسرا طریقہ رشتہ داروں کی دعوت کا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کا کوئی قریبی رشتہ دار جیسے کہ بہن یا بیٹی پہلے سے کوریا میں شادی کر کے مقیم ہو۔ وہ وہاں کے کسانوں کی ضمانت پر اپنے آبائی ملک سے اپنے رشتہ داروں کو موسمی کام کے لیے بلا سکتی ہیں۔ اس صورت میں کوریائی شریک حیات گارنٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔

ضروری دستاویزات اور فیس جب آپ کی مقامی حکومت یا رشتہ دار آپ کی فائل کوریا امیگریشن سروس کو جمع کرواتے ہیں تو آپ کو ان کاغذات کی ضرورت ہوگی۔ کم از کم چھ ماہ کی میعاد والا پاسپورٹ، ای-8 ویزا کا فارم، لیبر کنٹریکٹ جس پر کوریائی کسان کے دستخط ہوں، ہیلتھ سرٹیفکیٹ بشمول ڈرگ ٹیسٹ اور پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ جو کہ تصدیق شدہ ہو۔ ویزا جاری ہونے کا نمبر ملنے کے بعد ایمبیسی عام طور پر دو سے تین ہفتوں میں پاسپورٹ پر سٹیکر لگا دیتی ہے۔ ویزا فیس تقریبا پچاس سے ساٹھ ڈالر ہے جبکہ میڈیکل کا خرچہ الگ ہوتا ہے۔ ہوائی جہاز کا ٹکٹ عام طور پر ورکر کو خود برداشت کرنا پڑتا ہے۔

فراڈ سے بچیں ای-8 ویزا کے نام پر 2025 اور 2026 میں بہت زیادہ فراڈ ہونے کا خدشہ ہے۔ یاد رکھیں کہ پرائیویٹ ایجنٹس یا دلالوں کے ذریعے ای-8 ویزا حاصل کرنا غیر قانونی ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارت انصاف نے نجی بروکرز پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اگر کوئی ایجنٹ آپ سے پیسے مانگے اور ویزا کی گارنٹی دے تو وہ یقیناً فراڈ ہے۔ صرف آپ کی مقامی ضلعی حکومت یا او ای سی ہی بھرتی کا اختیار رکھتی ہے۔

مستقبل کے امکانات اگرچہ ای-8 ویزا عارضی ہے لیکن اگر آپ اپنا کنٹریکٹ ایمانداری سے پورا کرتے ہیں اور وقت پر واپس آتے ہیں تو آپ کو ایک وفادار موسمی ورکر قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اگلے سال آپ کو دوبارہ بلائے جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور مستقبل میں اگر آپ کسی اور ویزا کیٹیگری جیسے کہ ای-7-4 ویزا کے لیے اپلائی کرتے ہیں تو آپ کو اضافی پوائنٹس مل سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

جی نہیں، یہ ممکن نہیں ہے۔ ای-8 ویزا صرف اپنے ملک سے اپلائی کیا جا سکتا ہے اور وزٹ ویزا کو اس میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

نہیں۔ ای-8 ویزا کے تحت آپ اس کسان یا فارم کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں جس نے آپ کو بلایا ہے۔ اگر آپ بھاگ کر کہیں اور کام کریں گے تو آپ فوراً غیر قانونی ہو جائیں گے۔

جواب: عام طور پر فلپائن، ویتنام، نیپال، منگولیا اور کمبوڈیا کے ساتھ معاہدے زیادہ ہیں۔ پاکستان کے ساتھ بھی پائلٹ پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں اس لیے او ای سی کی ویب سائٹ دیکھتے رہیں۔

جی ہاں، اس ویزا کے لیے تعلیم کی کوئی قید نہیں ہے۔ صرف آپ کا جسمانی طور پر مضبوط ہونا اور بیماریوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں