spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ پر حملے کے مرکزی ملزم رحمان اللہ لکنوال کون ہے – تفصیلی سوانح عمری اور پس منظر

واشنگٹن ڈی سی – 26 نومبر 2025 کو وائٹ ہاؤس کے قریب دو نیشنل گارڈ اہلکاروں پر ہونے والی فائرنگ کے افسوسناک واقعے نے پوری امریکی قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس حملے کے پیچھے 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کی شناخت کی ہے۔ یہ واقعہ جو دن کی روشنی میں فاراگٹ اسکوائر کے قریب پیش آیا، نہ صرف دو فوجیوں کی تشویشناک حالت کا باعث بنا بلکہ اس نے امریکی حکومت کو افغان امیگریشن کی تمام کارروائیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ ذیل میں اس ملزم کی زندگی، پس منظر اور امریکہ آمد کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں جو وفاقی تحقیقاتی اداروں اور سرکاری بیانات کی روشنی میں مرتب کی گئی ہیں۔

ابتدائی زندگی اور افغانستان میں پس منظر

رحمان اللہ لکنوال کی عمر 29 سال بتائی گئی ہے اور اس کا تعلق افغانستان سے ہے۔ اگرچہ اس کی پیدائش کابل میں ہوئی لیکن اس کا آبائی تعلق صوبہ خوست سے بتایا جاتا ہے، جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ایک اہم علاقہ ہے۔ امریکہ آنے سے پہلے، لکنوال افغانستان میں امریکی مشن کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا تھا۔ انٹیلی جنس حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے متعدد امریکی حکومتی ٹھیکیداروں کے لیے کام کیا اور وہ قندھار اسٹرائیک فورس (KPF) کا رکن بھی رہا، جو کہ سی آئی اے کی حمایت یافتہ ایک نیم فوجی یونٹ تھا اور جنوبی افغانستان میں طالبان کے خلاف آپریشنز میں سرگرم تھا۔ اس کے علاوہ، رپورٹس کے مطابق اس نے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (IRC) کے لیے لاجسٹکس کوآرڈینیٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ اس کے سروس ریکارڈ میں امریکی میرینز کی جانب سے تعریفی خطوط بھی شامل تھے، جنہوں نے بعد میں اس کے انخلا میں اہم کردار ادا کیا۔

امریکہ آمد اور آپریشن الائیز ویلکم

اگست 2021 میں کابل سے امریکی انخلا کے دوران پیدا ہونے والی افراتفری میں لکنوال کو بھی وہاں سے نکالا گیا۔ وہ 8 ستمبر 2021 کو Operation Allies Welcome کے تحت ریاستہائے متحدہ امریکہ میں داخل ہوا۔ یہ ایک ہیومینٹیرین پیرول پروگرام تھا جسے خاص طور پر ان کمزور افغان شہریوں کی فوری آبادکاری کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جنہوں نے جنگ کے دوران امریکہ کی مدد کی تھی۔ اس پروگرام کے تحت ہزاروں افغان شہریوں کو امریکہ لایا گیا تھا تاکہ انہیں طالبان کے انتقام سے بچایا جا سکے۔

امریکہ میں زندگی اور قانونی حیثیت

امریکہ پہنچنے کے بعد، لکنوال آخر کار ریاست واشنگٹن کے شہر بیلنگہم میں آباد ہوا، جہاں وہ اپنی بیوی اور پانچ بچوں کے ساتھ مقیم تھا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکہ میں اسے اپنے سابقہ رتبے کے مطابق روزگار تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے گزر بسر کے لیے مختلف چھوٹی موٹیاں نوکریاں کیں، جن میں گودام کے کلرک کے طور پر کام کرنا اور ایمیزون اور رائیڈ شیئر پلیٹ فارمز کے لیے ڈلیوری ڈرائیور کے طور پر گاڑیاں چلانا شامل تھا۔

اس کی قانونی حیثیت کے حوالے سے تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ لکنوال کا ابتدائی پیرول سٹیٹس 2024 کے وسط میں ختم ہو گیا تھا۔ اپنی قانونی حیثیت کھونے کے خوف سے، اس نے دسمبر 2024 میں سیاسی پناہ (Asylum) کے لیے درخواست دائر کی۔ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) کی جانب سے جانچ پڑتال کے عمل کے بعد، اپریل 2025 میں اسے پناہ اور ورک پرمٹ دے دیا گیا۔ اس عمل کی تفصیلات اور افغان شہریوں کے لیے موجودہ ہدایات Information for Afghan Nationals پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

26 نومبر 2025 کا حملہ

محکمہ انصاف اور امریکی اٹارنی جینین پیرو کے بیانات کے مطابق، لکنوال نے ریاست واشنگٹن سے واشنگٹن ڈی سی تک کا طویل سفر گاڑی میں طے کیا، جس کا مقصد مبینہ طور پر اس حملے کو انجام دینا تھا۔ 26 نومبر کی سہ پہر، اس نے وائٹ ہاؤس کے قریب ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ کے دو ارکان، 20 سالہ اسپیشلسٹ سارہ بیکسٹروم اور 24 سالہ اسٹاف سارجنٹ اینڈریو وولف پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ اس نے حملے کے لیے .357 ریوالور کا استعمال کیا۔ جوابی کارروائی میں وہاں موجود فوجیوں نے اسے گولی مار کر زخمی کر دیا اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔

سرکاری ردعمل اور پالیسی میں تبدیلی

اس حملے کے نتیجے میں فوری اور وسیع پیمانے پر پالیسی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) اور USCIS نے افغان امیگریشن کی درخواستوں پر تمام فیصلوں کو روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ موجودہ ویٹنگ سسٹم میں ممکنہ خامیاں موجود ہو سکتی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی افغانستان کے لیے اپنی ٹریول ایڈوائزری میں شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے، جس کی تفصیلات Afghanistan International Travel Information پر دستیاب ہیں۔

تحقیقات کا دائرہ کار

ایف بی آئی اور دیگر وفاقی ادارے اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک شخص جو امریکی فوج کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا اور جس نے حساس ترین یونٹس کے ساتھ کام کیا، وہ اس حد تک کیسے پہنچا کہ اس نے انہی فوجیوں پر ہتھیار اٹھا لیے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک مجرمانہ فعل ہے بلکہ یہ اس پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی دباؤ کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا مہاجرین کو نئی جگہ آبادکاری کے دوران کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، حکام نے واضح کیا ہے کہ تشدد کا کوئی جواز نہیں اور اس عمل نے ہزاروں دیگر پرامن افغان مہاجرین کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں