واشنگٹن ڈی سی – ایک ایسے پالیسی فیصلے میں جس نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومت نے افغان شہریوں کے لیے امیگریشن کے عمل کو فوری اور غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ سخت ترین اقدام یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) کی جانب سے جمعرات، 27 نومبر 2025 کو اٹھایا گیا، جو کہ وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والے ایک افسوسناک واقعے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں سامنے آیا۔ اس واقعے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار شدید زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد قومی سلامتی کے خدشات کو بنیاد بنا کر یہ فیصلہ کیا گیا۔
اس واقعے اور اس کے بعد ہونے والے پالیسی شفٹ نے ان ہزاروں افغان اتحادیوں، مترجمین اور پناہ گزینوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے جو 2021 میں کابل سے امریکی انخلا کے بعد سے قانونی پیچیدگیوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ امیگریشن پر پابندی کا فیصلہ اس انکشاف کے بعد کیا گیا کہ مشتبہ حملہ آور، جس کی شناخت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رحمان اللہ لکنوال کے نام سے کی ہے، ایک افغان شہری ہے جو "آپریشن الائیز ویلکم” پروگرام کے تحت امریکہ میں داخل ہوا تھا۔
یہ سارا معاملہ بدھ، 26 نومبر کی سہ پہر کو پیش آیا، جب وائٹ ہاؤس کمپلیکس سے کچھ ہی فاصلے پر واقع فاراگٹ اسکوائر کے قریب ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ کے دو ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ اہلکار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت تعینات تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے ایک ٹارگٹڈ حملہ قرار دیا ہے۔ دونوں فوجی اس وقت تشویشناک حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ جوابی کارروائی میں 29 سالہ مشتبہ ملزم رحمان اللہ لکنوال بھی زخمی ہوا اور اس وقت پولیس کی حراست میں ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، لکنوال ستمبر 2021 میں طالبان کے افغانستان پر دوبارہ قبضے کے فوراً بعد امریکہ پہنچا تھا۔ اسے Operation Allies Welcome کے ذریعے پروسیس کیا گیا تھا، جو کہ تاریخ کا ایک بڑا ہوائی انخلا اور آبادکاری کا آپریشن تھا۔
اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے فلوریڈا سے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اس حملے کی شدید مذمت کی اور اسے "دہشت گردی” اور "برائی کا عمل” قرار دیا۔ انہوں نے براہ راست اس تشدد کا تعلق پچھلی انتظامیہ کے جانچ پڑتال (ویٹنگ) کے طریقہ کار سے جوڑا اور کہا کہ ملزم ان بدنام زمانہ پروازوں کے ذریعے امریکہ آیا تھا۔ نتیجے کے طور پر، صدر نے ان تمام افغان شہریوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے جو اس دوران امریکہ میں داخل ہوئے تھے۔
- مزید پڑھئے
- "ڈیپورٹیشن ٹریپ” کا طریقہ کار: معمول کی عدالتیں کیسے گرفتاری کے مراکز بن گئیں
- امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی نے شمالی کیرولائنا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف "آپریشن شارلٹ ویب” شروع کر دیا
- ٹرمپ انتظامیہ کی سٹوڈنٹ ویزا کی غیر معمولی منسوخیاں اور امریکی کیمپس میں خوف کا ماحول
- امریکہ : ای ایس ٹی اے (ESTA) ٹریول آتھرائزیشن کے بارے میں آپ کی آسان گائیڈ.
صدر کی ہدایت کے بعد، یو ایس سی آئی ایس نے افغان کیسز پر تمام عدالتی کارروائی روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ سرکاری چینلز پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں، ایجنسی نے واضح کیا کہ افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں پر کارروائی فوری طور پر روک دی گئی ہے تاکہ سیکیورٹی اور ویٹنگ پروٹوکول کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکے۔ اس پابندی سے متاثر ہونے والے مخصوص پروگراموں کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے، یو ایس سی آئی ایس نے افغان شہریوں کے لیے ایک خصوصی پورٹل قائم کیا ہے، جس تک رسائی یہاں ممکن ہے: Information for Afghan Nationals۔
اس معطلی کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور یہ امیگریشن کی کئی اہم کیٹیگریز کو متاثر کرے گا۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں اسپیشل امیگرنٹ ویزا (SIVs) کے درخواست گزار شامل ہیں، جو ان افغانوں کے لیے مختص ہے جنہوں نے امریکی فوج یا حکومت کے ساتھ براہ راست کام کیا، اکثر مترجم یا گائیڈ کے طور پر۔ اس کے علاوہ ہیومینٹیرین پیرول، جو کہ ہنگامی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امریکہ میں داخلے کی اجازت دیتا ہے، بھی روک دیا گیا ہے۔ وہ افغان شہری جو پہلے سے امریکہ میں موجود ہیں اور سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروا چکے ہیں کیونکہ انہیں طالبان کے کنٹرول والے افغانستان میں واپسی پر جان کا خطرہ ہے، ان کے کیسز بھی التوا کا شکار ہو گئے ہیں۔ مزید برآں، خاندانی ملاپ (Family Reunification) کی درخواستیں، جن کے ذریعے امریکہ میں مقیم افغان اپنے قریبی رشتہ داروں کو بلانا چاہتے تھے، اب غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہیں۔
اس موجودہ تنازعہ کی جڑ 2021 کے انخلا کے دوران استعمال ہونے والے جانچ پڑتال کے عمل میں پیوست ہے۔ "آپریشن الائیز ویلکم” کا قیام کمزور افغانوں کی پروسیسنگ کو تیز کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ اگرچہ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے مسلسل یہ موقف اختیار کیا ہے کہ تمام آنے والوں کی سخت بائیو میٹرک اور بائیو گرافک اسکریننگ کی گئی تھی، لیکن ناقدین کا طویل عرصے سے یہ کہنا ہے کہ انخلا کی جلد بازی میں انٹیلی جنس کی خلیج رہ گئی ہو گی جس کا فائدہ اٹھایا گیا۔ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی اپنی سرکاری ویب سائٹ پر پیرول کے عمل اور تاریخی سیاق و سباق کی تفصیلات فراہم کرتا ہے: Operation Allies Welcome | DHS۔ تاہم، نئے صدارتی حکم نامے کے ساتھ، اس پروگرام کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ صدر کی جانب سے دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ ان افراد کی بھی دوبارہ چھان بین کی جائے گی جو پچھلے چار سالوں سے امریکہ میں قانونی طور پر مقیم ہیں۔
یہ غیر معینہ مدت کا وقفہ ہزاروں افغانوں کو ایک انتہائی خطرناک پوزیشن میں چھوڑ دیتا ہے۔ بہت سے ایس آئی وی (SIV) درخواست گزار اس وقت تیسرے ممالک میں موجود ہیں اور اپنے کاغذی کارروائی کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ امریکہ کا سفر کر سکیں۔ ان کے لیے یہ خبر کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ (US State Department) طویل عرصے سے امریکی شہریوں اور اتحادیوں کو اغوا اور دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر افغانستان کے سفر کے خلاف خبردار کرتا رہا ہے، اور ان کے ٹریول ایڈوائزری میں اس موقف کو دہرایا گیا ہے: Afghanistan International Travel Information۔ پروسیسنگ منجمند ہونے کے بعد، وہ لوگ جو افغانستان میں یا عارضی ٹرانزٹ مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں، نئی بے یقینی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسپیشل امیگرنٹ ویزا پروگرام، جسے کانگریس نے قانونی طور پر ان لوگوں کے تحفظ کے لیے لازمی قرار دیا تھا جنہوں نے امریکی فوجیوں کے شانہ بشانہ خدمات انجام دیں، اب عملی طور پر غیر فعال ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ کے اپنے جنگی اتحادیوں کے ساتھ وابستگی اور اخلاقی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اس شوٹنگ نے واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے فوجیوں کی موجودگی پر بھی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے دارالحکومت میں جرائم کی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے 2,000 سے زائد فوجی تعینات کیے تھے، جس پر مقامی رہنماؤں، بشمول ڈی سی کی میئر موریل باؤزر، نے تنقید کی تھی اور اسے قانونی چیلنجز کا سامنا تھا۔ حملے کے بعد، انتظامیہ نے اپنی حکمت عملی کو مزید سخت کر دیا ہے اور شہر میں مزید 500 فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔ اس واقعے نے انتظامیہ کو امیگریشن اور داخلی سلامتی دونوں پر سخت موقف اپنانے کے لیے سیاسی جواز فراہم کیا ہے۔ شوٹنگ کو امیگریشن کی جانچ پڑتال کی ناکامی کے طور پر پیش کر کے، توجہ مقامی جرائم کی بحث سے ہٹا کر قومی سلامتی اور سرحدی کنٹرول کی طرف مبذول کر دی گئی ہے۔
آنے والے دنوں میں ایف بی آئی اور مقامی پولیس ملزم لکنوال کے پس منظر اور محرکات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری رکھیں گی، لیکن اس دوران امیگریشن کا نظام ایک پوری قومیت کے لیے رک گیا ہے۔ معطلی کی غیر معینہ مدت کی نوعیت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کوئی عارضی وقفہ نہیں ہے بلکہ ہائی رسک والے خطوں سے امیگریشن کو سنبھالنے کے امریکی طریقہ کار میں ایک ممکنہ بنیادی تبدیلی ہے۔ افغان نژاد قانونی رہائشیوں اور شہریوں کے لیے، 2021 سے اب تک داخل ہونے والے تمام افراد کی دوبارہ جانچ پڑتال کی کال نے بڑے پیمانے پر ملک بدری یا قانونی حیثیت کی منسوخی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں ممکنہ طور پر شدید قانونی لڑائیاں دیکھنے میں آئیں گی کیونکہ وکالت کرنے والے گروہ کانگریس کے منظور کردہ ویزا پروگراموں کی اس بلینکٹ معطلی کو چیلنج کریں گے۔ ان تبدیلیوں کے بارے میں درست اور تازہ ترین معلومات کے لیے، متاثرہ افراد اور قانونی نمائندوں کو ایس آئی وی (SIV) پر محکمہ خارجہ کے سرکاری وسائل سے مشورہ کرنا چاہیے: Special Immigrant Visas for Afghans۔



