برطانوی ہوم آفس نے حال ہی میں برطانوی امیگریشن سسٹم میں ایسی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جنہیں گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے اہم اور دور رس تبدیلیاں قرار دیا جا رہا ہے۔ نومبر 2025 سے نافذ ہونے والے ان نئے قوانین کا مقصد نہ صرف تارکین وطن کی تعداد کو کنٹرول کرنا ہے بلکہ برطانیہ آنے والوں کے لیے معیار کو بھی مزید سخت بنانا ہے۔ اگر آپ برطانیہ میں مستقل رہائش، اسکلڈ ورکر ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزا حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یہ کالم آپ کے لیے ایک جامع گائیڈ ثابت ہوگا۔
برطانوی امیگریشن سسٹم میں انقلابی تبدیلیاں
برطانیہ کی موجودہ حکومت، جس میں برطانوی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود جیسے اہم وزراء شامل ہیں، امیگریشن کے نظام کو ڈیجیٹلائزیشن اور معاشی شراکت داری کی طرف موڑ رہی ہے۔ visavlogurdu.com کے تجزیے کے مطابق، یہ تبدیلیاں برطانیہ کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد مقامی معیشت کو ہنر مند افرادی قوت سے بھرنا اور غیر ضروری بوجھ کو کم کرنا ہے۔ برطانیہ کی نئی مائیگریشن حکمت عملی کے تحت اب صرف وہی لوگ مستقل رہائش کے حقدار ہوں گے جو ملک کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔
نیا ارنڈ سیٹلمنٹ ماڈل: مستقل رہائش اب ضمانت نہیں
نومبر 2025 سے، برطانیہ مستقل رہائش (Indefinite Leave to Remain – ILR) کے روایتی 5 سالہ روڈ میپ سے ہٹ کر ایک نیا ارنڈ سیٹلمنٹ (Earned Settlement) ماڈل متعارف کروا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب صرف 5 سال مکمل کر لینا مستقل رہائش کی ضمانت نہیں ہوگا بلکہ آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ نے اس عرصے میں برطانیہ کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔
اس نئے نظام کے تحت دو اہم راستے متعارف کروائے جا رہے ہیں:
- اسٹینڈرڈ روٹ (10 سال): زیادہ ترskilled worker یا فیملی ویزا ہولڈرز کے لیے مستقل رہائش کا وقت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے کی تجویز ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو بنیادی تنخواہ کی حد پر کام کر رہے ہیں۔
- فاسٹ ٹریک روٹ (3 سال): یہ راستہ ان اعلیٰ درجے کے پیشہ ور افراد کے لیے ہے جو سالانہ £125,000 سے زیادہ کماتے ہیں یا جن کے پاس گلوبل ٹیلنٹ ویزا ہے۔
اہم نوٹ: اگر آپ نے 12 ماہ سے زیادہ پبلک فنڈز (سرکاری بینفٹس) استعمال کیے ہیں، تو آپ کے سیٹلمنٹ کے وقت میں 10 سال تک کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظام اب ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرے گا جو برطانوی نظام پر بوجھ بنتے ہیں۔
اسکلڈ ورکر ویزا: تنخواہ کی حد میں غیر معمولی اضافہ
برطانیہ میں ورک ویزا حاصل کرنا اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ 2025 کے آخر تک تنخواہ کے نئے قوانین مکمل طور پر نافذ ہو چکے ہیں۔ اب کسی بھی نئے اسکلڈ ورکر ویزا کے لیے کم از کم تنخواہ کی حد £41,700 سالانہ مقرر کر دی گئی ہے، جو کہ پہلے £38,700 تھی۔ اس اضافے کا براہ راست اثر ان لوگوں پر پڑے گا جو اپنے ویزا میں توسیع کروا رہے ہیں یا اپنا آجر تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اب پرانے کم تنخواہ والے قوانین نئی درخواستوں پر لاگو نہیں ہوں گے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ برطانیہ آنے والا ہر ہنر مند کارکن اپنی زندگی کے اخراجات خود اٹھانے کے قابل ہو اور معیشت میں ٹیکس کے ذریعے حصہ ڈالے۔ یہ سختی صرف قانونی کارکنوں تک محدود نہیں ہے بلکہ برطانوی وزارتِ داخلہ کا پناہ گزینوں کا نیا ماڈل بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ پناہ کے نام پر آنے والوں کو بھی سخت جانچ پڑتال سے گزرنا ہوگا۔
بین الاقوامی طلبا کے لیے بڑھتے ہوئے مالی مطالبات
برطانیہ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا کے لیے بھی حالات بدل چکے ہیں۔ نومبر 2025 کے بعد آنے والے انٹیک کے لیے طلبا کو اپنے بینک اسٹیٹمنٹ میں پہلے سے کہیں زیادہ رقم دکھانی ہوگی۔ یہ فنڈز رہائشی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
| مقام | ماہانہ فنڈز کی ضرورت |
| لندن میں پڑھنے والے طلبا | £1,529 ماہانہ |
| لندن سے باہر پڑھنے والے طلبا | £1,171 ماہانہ |
اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے سٹوڈنٹ اور گریجویٹ ویزا کی پالیسی میں بھی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ جنوری 2027 سے گریجویٹ ویزا کی مدت کو کم کر کے 18 ماہ کر دیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ طلبا کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مستقل ملازمت تلاش کرنے کے لیے اب کم وقت ملے گا۔ موجودہ طلبا اگرچہ فی الحال محفوظ ہیں، لیکن انہیں اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی ابھی سے کرنی ہوگی۔
ای ٹی اے ڈیجیٹل بارڈر اور فیملی ویزا کی موجودہ صورتحال
برطانیہ اپنے بارڈرز کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا رہا ہے۔ الیکٹرانک ٹریول آتھورائزیشن (ETA) اسکیم اب آہستہ آہستہ تمام غیر ویزا ممالک کے لیے لازمی قرار دی جا رہی ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے شہریوں کو 8 جنوری 2025 سے سفر کرنے کے لیے ای ٹی اے کی ضرورت ہوگی، جبکہ یورپی شہریوں کے لیے یہ شرط اپریل 2025 سے لاگو ہوگی۔ اس کی فیس صرف £10 رکھی گئی ہے، لیکن اس کے بغیر برطانیہ میں داخلہ ممکن نہیں ہوگا۔
جہاں تک فیملی ویزا کا تعلق ہے، اس وقت کم از کم آمدنی کی حد £29,000 ہی رکھی گئی ہے۔ تاہم، ارنڈ سیٹلمنٹ کے نئے ماڈل کے تحت، فیملی ممبرز کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے اب طویل انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر اسپانسر کی آمدنی بہت زیادہ نہیں ہے، تو فیملی ممبرز کو 10 سالہ روٹ پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں پناہ کے متلاشیوں کے قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن سے آبادکاری کا عمل مزید طویل ہو گیا ہے۔
تجزیہ اور مستقبل کا روڈ میپ
برطانیہ کی ان نئی پالیسیوں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ آنے والا وقت تارکین وطن کے لیے چیلنجنگ ہوگا۔ حکومت کا فوکس اب کوالٹی پر ہے نہ کہ کوانٹٹی پر۔ ارنڈ سیٹلمنٹ ماڈل کے ذریعے حکومت یہ پیغام دے رہی ہے کہ مستقل رہائش اب کوئی حق نہیں بلکہ ایک اعزاز ہے جسے آپ کو اپنی محنت، بلند تنخواہ اور صاف ستھرے ریکارڈ سے حاصل کرنا ہوگا۔
پاکستانی اور دیگر ایشیائی تارکین وطن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان قوانین کو باریک بینی سے سمجھیں۔ اپنی تنخواہ کے معاہدوں کو £41,700 کی حد کے مطابق ترتیب دیں، اپنی ٹیکس ہسٹری کو شفاف رکھیں اور کسی بھی قسم کے پبلک فنڈز کے استعمال سے گریز کریں تاکہ آپ کی مستقل رہائش کی درخواست میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ visavlogurdu.com آپ کو امیگریشن کی دنیا کی ہر پل بدلتی صورتحال سے باخبر رکھے گا تاکہ آپ اپنے مستقبل کے فیصلے درست معلومات کی بنیاد پر کر سکیں۔
- مزید پڑھئے
- برطانیہ کی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود: میرپور سے وزارتِ داخلہ تک کا سفر
- برطانیہ کی نئی مائیگریشن حکمت عملی-آج تک کی تازہ ترین
- برطانوی وزارتِ داخلہ کا پناہ گزینوں کا نیا ماڈل:کیا تبدیل ہو رہا ہے
- برطانیہ – نئے قوانین کے تحت پناہ کے متلاشیوں کو آبادکاری کے لیے 20 سال انتظار کرنا پڑے گا
- برطانیہ کے سٹوڈنٹ اور گریجویٹ ویزا میں بنیادی تبدیلیوں کا تجزیہ1



