برطانیہ کی تاریخ میں امیگریشن کے نظام میں گزشتہ 50 سالوں کی سب سے بڑی اور بنیادی تبدیلی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ برطانوی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے پارلیمنٹ میں "ارنڈ سیٹلمنٹ” (Earned Settlement) نامی نیا ماڈل پیش کیا ہے، جس نے برطانیہ میں مقیم تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش (ILR) حاصل کرنے کے قوانین کو جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا ہے۔
یہ خبر ان لاکھوں پاکستانیوں اور ایشیائی باشندوں کے لیے انتہائی اہم ہے جو برطانیہ میں مقیم ہیں یا وہاں جانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ حکومت کا پیغام صاف ہے: "برطانیہ میں رہنا اب ایک حق نہیں، بلکہ ایک ایسا اعزاز ہے جسے کمانا پڑے گا”۔
اس نئے نظام کے تحت عام تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش کا انتظار 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کر دیا گیا ہے، جبکہ امیر اور زیادہ تنخواہ لینے والوں کے لیے ایک "فاسٹ ٹریک” متعارف کروایا گیا ہے۔ ذیل میں ہم ان قوانین کا اے ٹو زیڈ (A to Z) جائزہ لیتے ہیں۔
1. پانچ سالہ روٹ کا خاتمہ اور نیا "ارنڈ سیٹلمنٹ” ماڈل
ماضی میں، برطانیہ کا نظام بہت سادہ تھا۔ اگر آپ اسکلڈ ورکر ویزا پر 5 سال گزار لیتے تھے، تو آپ خود بخود Indefinite Leave to Remain (ILR) کے اہل ہو جاتے تھے۔ لیکن اب یہ دور ختم ہو رہا ہے۔
نئی تجویز کے تحت، جو فروری 2026 تک مشاورت کے عمل میں رہے گی، حکومت نے مستقل رہائش حاصل کرنے کا معیاری وقت دوگنا کر دیا ہے۔ اب ایک عام ورکر کو برطانیہ میں پکی مہر لگوانے کے لیے کم از کم 10 سال انتظار کرنا ہوگا۔
حکومت کا استدلال ہے کہ پرانا نظام بہت نرم تھا اور اس سے تارکین وطن کو معاشرے میں ضم ہونے (Integration) کی ترغیب نہیں ملتی تھی۔ نئے نظام میں صرف وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو طویل عرصے تک برطانیہ کی معیشت میں حصہ ڈالیں گے اور قانون کی پاسداری کریں گے۔
2. امیروں کے لیے خوشخبری: 3 سال میں پکی رہائش (فاسٹ ٹریک)
اس نئے قانون کا سب سے زیادہ زیر بحث پہلو وہ "وی آئی پی” راستہ ہے جو زیادہ کمائی کرنے والوں کے لیے کھولا گیا ہے۔ حکومت نے واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ عالمی ایلیٹ کلاس، امیر بینکرز اور ہائی لیول پروفیشنلز کو برطانیہ میں رکھنا چاہتے ہیں۔
- شرائط: اگر آپ کی سالانہ ٹیکس ایبل آمدنی 125,140 پاؤنڈ یا اس سے زیادہ ہے، تو آپ کو 10 سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ آپ صرف 3 سال کے اندر Settlement کے لیے اپلائی کر سکیں گے۔
- گلوبل ٹیلنٹ: اسی طرح، وہ لوگ جو Global Talent Visa یا Innovator Founder Visa پر موجود ہیں، انہیں بھی یہ رعایت دی جائے گی کہ وہ 3 سال بعد مستقل ہو سکتے ہیں۔
یہ برطانیہ کی امیگریشن تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ "پیسے” کو براہ راست ویزا کی مدت سے جوڑا گیا ہے۔ جتنی زیادہ آپ کی تنخواہ، اتنی جلدی آپ کو شہریت ملے گی۔

3. درمیانی راستہ: 5 سالہ روٹ کن کے لیے بچا ہے؟
عام مڈل کلاس پروفیشنلز کے لیے اب بھی امید کی کرن باقی ہے۔ حکومت نے کچھ مخصوص گروپس کے لیے پرانا 5 سالہ روٹ برقرار رکھا ہے۔
- درمیانی آمدنی والے: وہ لوگ جن کی تنخواہ 50,270 پاؤنڈ سے لے کر 125,140 پاؤنڈ کے درمیان ہے، وہ پرانے قانون کے مطابق 5 سال بعد سیٹلمنٹ حاصل کر سکیں گے۔ یہ تکنیکی طور پر نئے 10 سالہ قانون سے رعایت ہے۔
- ہیلتھ کیئر ورکرز: برطانیہ کا این ایچ ایس (NHS) غیر ملکی عملے کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اسی لیے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر فرنٹ لائن ورکرز جو Health and Care Worker Visa پر ہیں، ان کے لیے 5 سالہ روٹ برقرار رہے گا، چاہے ان کی تنخواہ 50 ہزار پاؤنڈ سے کم ہی کیوں نہ ہو۔
- فیملی ویزا: برطانوی شہریوں کے شریک حیات (Spouse) اور والدین کے لیے بھی 5 سالہ روٹ کو نہیں چھیڑا گیا۔
- مزید پڑھئے
- برطانیہ کی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود: میرپور سے وزارتِ داخلہ تک کا سفر
- برطانیہ کی نئی مائیگریشن حکمت عملی-آج تک کی تازہ ترین
- برطانوی وزارتِ داخلہ کا پناہ گزینوں کا نیا ماڈل:کیا تبدیل ہو رہا ہے
- برطانیہ – نئے قوانین کے تحت پناہ کے متلاشیوں کو آبادکاری کے لیے 20 سال انتظار کرنا پڑے گا
- برطانیہ کے سٹوڈنٹ اور گریجویٹ ویزا میں بنیادی تبدیلیوں کا تجزیہ1
4. غریب اور کم ہنر مند ورکرز کے لیے 15 سالہ سزا
نئے نظام کا سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہوگا جو کم تنخواہ والی نوکریوں میں ہیں۔
حکومت کی تجویز کے مطابق، وہ نوکریاں جو "RQF Level 6” (ڈگری لیول) سے نیچے ہیں، جیسے کہ کیئر ہومز میں کام کرنے والے عام ورکرز، شاپ اسسٹنٹس یا ہاسپٹیلٹی کا عملہ، ان کے لیے سیٹلمنٹ کا راستہ انتہائی طویل کر دیا گیا ہے۔ ان بیچاروں کو اب پکی رہائش کے لیے 15 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کا مالی بوجھ ناقابل برداشت ہوگا۔ 15 سال تک ہر 2 یا 3 سال بعد ویزا رینیو کروانا اور ہزاروں پاؤنڈز کا Immigration Health Surcharge (IHS) ادا کرنا ایک عام آدمی کی کمر توڑ دے گا۔
5. بینفٹس لینے والوں اور غیر قانونی تارکین کے لیے سخت سزائیں
"ارنڈ سیٹلمنٹ” ماڈل میں سزاؤں کا بھی ایک پورا نظام رکھا گیا ہے۔
- سرکاری فنڈز پر پابندی: اگر کسی تارک وطن نے ویزا کے دوران 12 مہینے سے زیادہ Public Funds (سرکاری امداد) استعمال کی، تو اس کی سیٹلمنٹ میں مزید 10 سال کی تاخیر کر دی جائے گی۔ یعنی اگر آپ کی نوکری چلی گئی اور آپ نے حکومت سے مدد مانگی، تو آپ کی شہریت کا خواب مزید دور ہو جائے گا۔
- غیر قانونی داخلہ: وہ لوگ جو غیر قانونی طریقے سے (مثلاً چھوٹی کشتیوں کے ذریعے) برطانیہ آئے یا ویزا ختم ہونے کے بعد "اوور اسٹے” (Overstay) کر گئے، ان کے لیے مستقل رہائش کا وقت بڑھا کر 30 سال کر دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ قانون توڑنے والوں کو برطانیہ میں کبھی سکون نہیں ملے گا۔
6. سرکاری مراعات اب صرف "شہریوں” کے لیے
یہ شاید سب سے بڑی اور خاموش تبدیلی ہے۔ ماضی میں، جیسے ہی آپ کو ILR ملتا تھا، آپ کے ویزا سے "No Recourse to Public Funds” کی شرط ہٹ جاتی تھی اور آپ برطانوی شہریوں کی طرح بینفٹس کے حقدار ہو جاتے تھے۔
نئے قانون کے تحت، ILR ملنے کے بعد بھی آپ کو سرکاری مدد (Benefits) یا سوشل ہاؤسنگ نہیں ملے گی۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ یہ مراعات صرف اور صرف British Citizens کے لیے مختص کر دی جائیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو پہلے 10 سال ILR کے لیے انتظار کرنا ہوگا، اور پھر مزید 1 یا 2 سال شہریت لینے کے لیے۔ یعنی تقریباً 12 سال تک آپ برطانوی ٹیکس دہندہ ہونے کے باوجود سرکاری مدد سے محروم رہیں گے۔
7. انگریزی زبان اور کردار کی سخت جانچ
صرف وقت ہی نہیں بڑھایا گیا، بلکہ ٹیسٹ بھی مشکل کیے جا رہے ہیں۔
- انگریزی: اب درخواست دہندگان کو "Level B1” کے بجائے "Level B2” کی انگریزی مہارت ثابت کرنی ہوگی جو کہ کافی اونچا معیار ہے۔
- کریکٹر سرٹیفکیٹ: اگر آپ کا کوئی بھی مجرمانہ ریکارڈ ہوا، یا آپ پر حکومت کا کوئی قرضہ (جیسے ٹیکس یا NHS کا بل) باقی ہوا، تو آپ کی درخواست فوراً مسترد کر دی جائے گی۔
8. اب آگے کیا ہوگا؟
یہ قوانین ابھی حتمی نہیں ہیں۔ ہوم آفس نے ان تجاویز پر 12 فروری 2026 تک مشاورت (Consultation) کا آغاز کیا ہے۔ توقع ہے کہ حتمی قوانین کا اطلاق اپریل 2026 سے ہوگا۔
تاہم، سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ یہ قوانین "ریٹروسپیکٹیو” (Retrospective) ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ اس وقت برطانیہ میں 5 سالہ روٹ کی امید پر بیٹھے ہیں، انہیں بھی اچانک کہا جا سکتا ہے کہ اب آپ کو 10 سال پورے کرنے ہوں گے۔
ایڈیٹر کا نوٹ: ذاتی رائے اور مشورہ
ایک مبصر کی حیثیت سے، میں یہ دیکھ سکتا ہوں کہ برطانیہ اب اپنی "فلاحی ریاست” (Welfare State) کے دروازے تارکین وطن پر بند کر رہا ہے۔ یہ نیا نظام خالصتاً سرمایہ دارانہ سوچ پر مبنی ہے: "اگر آپ کے پاس پیسہ ہے، تو آپ کا استقبال ہے، ورنہ آپ قطار کے آخر میں کھڑے رہیں۔”
وہ پاکستانی جو اس وقت برطانیہ میں ہیں، ان کے لیے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اگر آپ 5 سال کے قریب پہنچ چکے ہیں، تو اپریل 2026 کا انتظار کیے بغیر فوراً Indefinite Leave to Remain کے لیے اپلائی کر دیں۔ یہ وقت سستی دکھانے کا نہیں ہے۔ جو لوگ ابھی پاکستان سے برطانیہ جانے کا سوچ رہے ہیں، وہ اپنی کیلکولیشن دوبارہ کریں، کیونکہ اب وہاں سیٹل ہونا ایک انتہائی مہنگا اور طویل سفر بن چکا ہے۔
دستبرداری (Disclaimer)
ویزا وی لاگ اردو (Visavlogurdu.com) عالمی ویزوں اور امیگریشن پالیسیوں سے متعلق خبریں اور تجزیے فراہم کرتا ہے۔ اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والا مواد صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور یہ قانونی مشورہ (Legal Advice) نہیں ہے۔ امیگریشن کے قوانین تیزی سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ہم تجویز کرتے ہیں کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے آپ سرکاری ویب سائٹ یا کسی مستند امیگریشن وکیل سے رجوع کریں۔ ہم آپ کی درخواستوں کے نتائج کے ذمہ دار نہیں ہیں۔



