spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

برطانوی وزارتِ داخلہ کا پناہ گزینوں کا نیا ماڈل:کیا تبدیل ہو رہا ہے

برطانوی وزارتِ داخلہ نے پناہ اور امیگریشن کے نظام...

"ڈیپورٹیشن ٹریپ” کا طریقہ کار: معمول کی عدالتیں کیسے گرفتاری کے مراکز بن گئیں

امیگریشن عدالتیں یا ڈیپورٹیشن کا جال؟ تفصیلی جائزہحالیہ رپورٹوں...

اٹلی کی 5.4 million غیر ملکی آبادی: اس کے مستقبل کا ناگزیر حصہ

برسوں سے، اٹلی میں امیگریشن سے متعلق بحثیں سرحدوں...

ایسٹونیا میں جاب ویزا حاصل کرنے کے لیے مرحلہ وار طریقہ کار

ڈیجیٹل گورننس اور جدت میں ایک رہنما، ایسٹونیا بین...

اٹلی میں پاکستانی شخص کا ٹی وی انٹرویو کے دوران خواتین کے خلاف توہین آمیز جملہ: اصل واقعہ، ردعمل اور پاکستانی کمیونٹی کے لیے لمحہ فکریہ

حال ہی میں اٹلی کے ایک مشہور ٹی وی پروگرام میں ایک پاکستانی شخص کے انٹرویو نے پورے ملک میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف اطالوی میڈیا بلکہ وہاں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی شرمندگی اور بحث کا باعث بنا ہے۔ ذیل میں اس واقعے کی مکمل تفصیلات اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق بیان کیے گئے ہیں۔

1. واقعہ کیا تھا؟

یہ واقعہ اٹلی کے مشہور ٹی وی چینل Rete 4 کے پروگرام "Quarta Repubblica” میں پیش آیا۔ پروگرام کی ٹیم اطالوی شہر پورٹومیگیور (Portomaggiore) میں تارکین وطن کی انٹیگریشن (معاشرتی ہم آہنگی) کے موضوع پر رپورٹنگ کر رہی تھی۔ وہاں ان کی ملاقات محمد ارشد نامی ایک پاکستانی شخص سے ہوئی جو 2016 سے اٹلی میں مقیم ہے۔

2. صحافی کا سوال اور متنازعہ جواب

پروگرام کی خاتون صحافی یوجینیا فیور (Eugenia Fiore) نے محمد ارشد سے خواتین کی آزادی کے حوالے سے سوال کیا۔ مکالمہ کچھ یوں تھا:

  • صحافی کا سوال: "کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ عورت کو آزاد ہونا چاہیے؟” (Do you agree that women should be free?)
  • محمد ارشد کا جواب: اس شخص نے ٹوٹی پھوٹی اطالوی زبان میں جواب دیا: "آزاد عورت ایک طوائف کی طرح ہوتی ہے۔” (Free woman is like a whore).

اس جملے نے فوراً ہی وہاں موجود صحافی اور بعد میں ٹی وی ناظرین کو شدید صدمے میں ڈال دیا۔ یہ الفاظ نہ صرف اطالوی ثقافت بلکہ انسانی اقدار اور خواتین کے احترام کے منافی تھے۔

3. عوامی اور سرکاری ردعمل

جیسے ہی یہ انٹرویو نشر ہوا، اٹلی بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا:

  • میئر کا اقدام: پورٹومیگیور کے میئر، ڈاریو برنارڈی (Dario Bernardi) نے فوراً ایکشن لیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ایسے خیالات کو برداشت نہیں کر سکتے جو خواتین کی توہین کرتے ہوں۔” انہوں نے اس شخص کے خلاف پولیس (Carabinieri) میں باقاعدہ شکایت درج کروائی تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا اس نے اطالوی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
  • سوشل میڈیا: یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور لوگوں نے اسے "ناکام انٹیگریشن” کی مثال قرار دیا۔

4. کیا وہ امام مسجد تھے؟

انٹرویو کے دوران یہ تاثر ملا کہ شاید محمد ارشد ایک "امام” ہیں کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ نماز پڑھاتے ہیں۔ تاہم، بعد میں یہ واضح ہوا کہ وہ باقاعدہ امام نہیں ہیں۔

  • فیرارا کی مسلم ایسوسی ایشن کے صدر حسن صمید اور کمیونٹی کے اصل امام شاہد راجہ ظفر اقبال نے فوراً اس شخص کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ "یہ شخص ہماری یا اسلام کی نمائندگی نہیں کرتا اور اس کے الفاظ قابل مذمت ہیں۔”

5. معافی اور وضاحت

معاملہ بگڑنے کے بعد، محمد ارشد نے معافی مانگی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اطالوی زبان کمزور ہے اور وہ اپنی بات درست طریقے سے سمجھا نہیں سکے یا انہیں غلط سمجھا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ امام نہیں ہیں بلکہ صرف کبھی کبھار نماز کی امامت کرتے ہیں۔ تاہم، نقصان ہو چکا تھا اور ان کے الفاظ ریکارڈ پر موجود تھے۔


اٹلی میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم پیغام اور نصیحت

یہ واقعہ اٹلی اور یورپ میں مقیم تمام پاکستانیوں کے لیے ایک سبق ہے۔ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے اور پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے کمیونٹی کو مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کرنا چاہیے:

1. مقامی قوانین اور اقدار کا احترام (Respect for Local Laws and Values):

اٹلی کا قانون خواتین کو مکمل آزادی اور برابری کے حقوق دیتا ہے۔ وہاں رہنے والے ہر غیر ملکی پر لازم ہے کہ وہ ان قوانین کا دل سے احترام کرے۔ کسی عورت کے لباس یا اس کے لائف اسٹائل کی بنیاد پر اس کے کردار پر کیچڑ اچھالنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ قانونی جرم بھی ہو سکتا ہے۔

2. خواتین کے ساتھ عزت اور عاجزی (Respect and Humility towards Women):

اسلام ہمیں خواتین کی عزت کا درس دیتا ہے۔ ایک مسلمان کا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ جب وہ کسی غیر مسلم خاتون سے بات کرے تو اپنی نظریں نیچی رکھے اور الفاظ میں شائستگی لائے۔ "آزادی” کا مطلب "بے حیائی” سمجھنا ایک غلط سوچ ہے۔ اگر آپ کسی کلچر سے متفق نہیں بھی ہیں، تب بھی آپ کو توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

3. زبان سیکھنا (Language Barrier):

اکثر مسائل زبان نہ آنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستانی کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ اطالوی زبان سیکھنے پر محنت کریں تاکہ وہ اپنی بات درست اور شائستہ انداز میں پہنچا سکیں اور غلط فہمیوں سے بچ سکیں۔

4. انٹیگریشن (Integration):

اپنے مذہبی اور ثقافتی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے، اطالوی معاشرے کا مثبت حصہ بنیں۔ مقامی لوگوں کے ساتھ گھلیں ملیں تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ پاکستانی مہذب اور امن پسند لوگ ہیں۔

5. میڈیا سے گفتگو میں احتیاط:

میڈیا کے سامنے بات کرتے ہوئے انتہائی محتاط رہیں۔ یاد رکھیں کہ آپ کے منہ سے نکلا ہوا ایک جملہ پوری قوم اور مذہب کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ کو زبان پر عبور نہیں ہے، تو انٹرویو دینے سے گریز کریں۔

خلاصہ:

محمد ارشد کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ الفاظ کا چناؤ اور دوسروں کا احترام کتنا ضروری ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل اور اخلاق سے ثابت کریں کہ وہ خواتین کی عزت کرنے والے اور قانون پسند شہری ہیں۔


حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں