spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

برطانیہ کی نئی مائیگریشن حکمت عملی-آج تک کی تازہ ترین

نظم و ضبط کی بحالی:

برطانوی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے تحت، وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے برطانیہ کے مائیگریشن اور اسائلم (پناہ) کے نظام میں ایک جامع اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ اسے "نصف صدی میں قانونی مائیگریشن کے نظام کی سب سے بڑی تبدیلی” قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد برطانیہ کی سرحدی سکیورٹی کو عالمی حالات کے مطابق سخت اور محفوظ بنانا ہے۔

ذیل میں ان نئے اقدامات کی تفصیلات، ان کے کام کرنے کا طریقہ، اور سرکاری میکانزم کا مرحلہ وار جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

پہلا مرحلہ: "گینگز کا خاتمہ” (Smash the Gangs)

نئی پالیسی کا بنیادی ستون صرف تارکین وطن کو روکنا نہیں بلکہ ان نیٹ ورکس کو توڑنا ہے جو انہیں لانے میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک نئی بارڈر سکیورٹی کمانڈ (BSC) تشکیل دی گئی ہے۔

  • قیادت: اس کی قیادت مارٹن ہیوٹ کر رہے ہیں۔ یہ کمانڈ انٹیلی جنس ایجنسیوں، پولیس، اور امیگریشن انفورسمنٹ کو ایک جگہ اکٹھا کرتی ہے تاکہ منظم جرائم پیشہ گروہوں کو روکا جا سکے۔
  • دہشت گردی مخالف اختیارات: حکومت قانون سازی کر رہی ہے تاکہ BSC کو "دہشت گردی کے خلاف استعمال ہونے والے اختیارات” دیے جائیں۔ اس میں سرحد پر مشتبہ سمگلروں کی تلاشی لینا، ان کے مالی اثاثے ضبط کرنا، اور منظم امیگریشن کرائم میں ملوث افراد کے سفر پر پابندی لگانا شامل ہے۔
  • فنڈنگ: ان آپریشنز کے لیے 150 ملین پاؤنڈز مختص کیے گئے ہیں، جس کا مقصد فرانسیسی ساحلوں تک پہنچنے سے پہلے ہی کشتیوں اور انجنوں کی سپلائی چین کو روکنا ہے۔

دوسرا مرحلہ: قانونی مائیگریشن اور سیٹلمنٹ (رہائش) میں تبدیلی

حکومت نے ان لوگوں کے لیے سخت معیارات متعارف کرائے ہیں جو برطانیہ کو اپنا مستقل گھر بنانا چاہتے ہیں۔ پہلے جو لوگ برطانیہ پہنچ کر خود بخود سیٹلمنٹ کی طرف بڑھتے تھے، اب وہ راستہ ختم کیا جا رہا ہے۔

  • کوالیفائنگ پیریڈ میں اضافہ: مستقل رہائش (Indefinite Leave to Remain) کے لیے انتظار کا وقت دوگنا کر دیا گیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت، کوالیفائنگ پیریڈ 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کر دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف وہی لوگ یہاں بسیں جو طویل عرصے تک برطانیہ کی خدمت کریں۔
  • کام اور تعلیم کا راستہ: پناہ گزینوں (Refugees) کے لیے نظام کو "ورک اینڈ اسٹڈی” (کام اور تعلیم) کے راستے کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے سیٹلمنٹ کا تیز راستہ فراہم کرے گا جو معیشت میں حصہ ڈالیں گے، جبکہ صرف ریاستی امداد پر انحصار کرنے والوں کے لیے مشکلات بڑھیں گی۔
  • فیملی ری یونین پر پابندی: "چین مائیگریشن” (Chain Migration) کو کم کرنے کے لیے، فیملی ری یونین کی تعریف کو محدود کر دیا گیا ہے، جس میں اب صرف والدین اور ان کے بچے شامل ہوں گے۔ دور کے رشتہ داروں کو بلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

تیسرا مرحلہ: روک تھام اور بین الاقوامی تعاون

برطانیہ کو تارکین وطن کے لیے کم پرکشش بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ اس کے لیے سخت اقدامات اور سفارتی دباؤ کا استعمال کیا جائے گا۔

  • ویزا سزائیں (Visa Penalties): ہوم آفس نے واضح طور پر ان ممالک کو خبردار کیا ہے جو اپنے ڈیپورٹ کیے گئے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کرتے ہیں۔ انگولا، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، اور نمیبیا جیسے ممالک کو نوٹس دیا گیا ہے کہ اگر وہ تعاون نہیں کریں گے تو انہیں ویزا کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
  • فاسٹ ٹریک واپسی: قانونی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے اسائلم کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔ "محفوظ ممالک” (جیسے البانیہ) سے آنے والے افراد کے لیے اپیل کا حق صرف ایک بار ہوگا تاکہ انہیں جلد از جلد واپس بھیجا جا سکے۔
  • اثاثوں کی ضبطگی: اخراجات کو پورا کرنے کے لیے، حکومت ان تارکین وطن کے اثاثے ضبط کرے گی جو بھاری رقم لے کر آتے ہیں، تاکہ وہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کے بجائے اپنی رہائش کا خرچہ خود اٹھائیں۔

سرکاری حوالہ جات (Official References)

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں