spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

"ڈیپورٹیشن ٹریپ” کا طریقہ کار: معمول کی عدالتیں کیسے گرفتاری کے مراکز بن گئیں

امیگریشن عدالتیں یا ڈیپورٹیشن کا جال؟ تفصیلی جائزہحالیہ رپورٹوں...

سویڈن ورک پرمٹ تنخواہ کی شرط 2025-2026: مکمل تفصیلات

اگر آپ سویڈن میں نوکری کے لیے جانے کا...

عالمی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیاں: نومبر 2025 کا خلاصہ اور ٹائم لائن

نومبر 2025 کے لیے تازہ ترین رپورٹس اور حکومتی...

دنیا کا کونسا ملک آسانی سے گولڈن ویزا دے سکتا ہے ؟

جب سرمایہ کار دوسرا پاسپورٹ منتخب کرتے ہیں، تو...

"ڈیپورٹیشن ٹریپ” کا طریقہ کار: معمول کی عدالتیں کیسے گرفتاری کے مراکز بن گئیں

امیگریشن عدالتیں یا ڈیپورٹیشن کا جال؟ تفصیلی جائزہ

حالیہ رپورٹوں اور پالیسی میں تبدیلیوں نے امریکی Immigration Courts (امیگریشن عدالتوں) کے کردار پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ وہ عدالتیں جو کبھی تارکین وطن کو اپنی قانونی حیثیت درست کرنے اور انصاف فراہم کرنے کا موقع دیتی تھیں، اب مبینہ طور پر "گرفتاری کے مراکز” میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ ذیل میں ان اقدامات کی مکمل تفصیلات اور تارکین وطن پر ان کے اثرات بیان کیے گئے ہیں۔

1. گرفتاری کا نیا طریقہ کار: "بائٹ اینڈ سوئچ” (Bait and Switch)

اس نئی حکمت عملی کے تحت، ICE (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) اور سرکاری وکلاء کے درمیان گہری ہم آہنگی دیکھی گئی ہے۔ یہ عمل محض اتفاقی نہیں ہوتا بلکہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیا جاتا ہے:

  • پیشگی منصوبہ بندی: سرکاری وکلاء اپنی لسٹوں (Dockets) کا جائزہ لیتے ہیں اور ان کیسز کو نشان زد کرتے ہیں جنہیں تکنیکی بنیادوں پر خارج کیا جا سکتا ہے۔
  • عدالت میں حاضری: جب تارکین وطن اپنی مقررہ تاریخ پر عدالت پہنچتے ہیں—یہ سوچ کر کہ وہ اپنے کاغذی معاملات درست کروائیں گے—تو انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی گرفتاری کا انتظام پہلے سے ہو چکا ہے۔
  • خفیہ رابطہ: رپورٹس کے مطابق، سرکاری وکلاء عدالتی کارروائی ختم ہوتے ہی باہر موجود ICE agents کو اشارہ دیتے ہیں، جو فوری طور پر تارک وطن کو حراست میں لے لیتے ہیں۔

2. مقدمات کا اخراج: قانونی ڈھال کا خاتمہ

یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ عدالت میں مقدمہ خارج ہونا (Dismissal) تارکین وطن کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان دہ کیسے ثابت ہو رہا ہے:

  • جب تک کسی شخص کا کیس EOIR (امیگریشن کورٹ) میں زیر سماعت ہوتا ہے، اسے عام طور پر ڈیپورٹ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اسے عدالتی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
  • حکومتی وکلاء اب ججوں سے درخواست کرتے ہیں کہ کیس کو خارج کر دیا جائے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ تارک وطن آزاد ہو گیا ہے، لیکن درحقیقت اس سے وہ "قانونی ڈھال” چھین لی جاتی ہے۔
  • کیس خارج ہوتے ہی وہ شخص دوبارہ DHS کے دائرہ اختیار میں آ جاتا ہے، اور چونکہ اس کے پاس کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، ICE اسے فوراً گرفتار کر کے ڈیپورٹ کر سکتی ہے۔

3. ججوں پر دباؤ اور عدالتی آزادی

Department of Justice کے تحت کام کرنے والے امیگریشن ججوں پر کیسز کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے شدید دباؤ ہے۔

  • اسمبلی لائن انصاف: ججوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کیسز کی تفصیل میں جانے کے بجائے رفتار کو ترجیح دیں۔ اسے ناقدین "اسٹاپ واچ جسٹس” کہتے ہیں۔
  • کوٹہ سسٹم: ججوں کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے کتنے کیسز نمٹائے، نہ کہ اس بات پر کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوئے یا نہیں۔ اس جلد بازی میں Asylum Seekers (پناہ کے متلاشی افراد) کے پیچیدہ کیسز کو بھی منٹوں میں نمٹا دیا جاتا ہے۔

4. تارکین وطن کے لیے خطرناک "کیچ-22” (Catch-22)

یہ صورتحال تارکین وطن کو ایک ناممکن انتخاب پر مجبور کر دیتی ہے:

  • اگر وہ عدالت جائیں: تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ ایک "ٹریپ” ہو اور انہیں وہیں گرفتار کر لیا جائے۔
  • اگر وہ عدالت نہ جائیں: تو جج ان کی غیر موجودگی میں (In Absentia) فیصلہ سناتے ہوئے خودکار طور پر ان کی ڈیپورٹیشن کا حکم جاری کر دیتے ہیں۔ اس حکم کے بعد وہ کسی بھی وقت گرفتار ہو سکتے ہیں اور انہیں اپیل کا حق بھی نہیں ملتا۔

نتیجہ

یہ پالیسیاں ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح انتظامیہ قانونی راستوں کو ہی انفورسمنٹ کے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ وہ افراد جو قانون کا احترام کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہوتے ہیں، انہیں ہی سب سے پہلے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں