spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

امریکہ کا : بی-1/بی-2 وزیٹر ویزا ( visitor visa B1-B2)کس طریقہ سے حاصل کریں

ریاست ہائے متحدہ امریکہ عارضی داخلے کے خواہشمند افراد...

پاکستان سے جرمنی ویزا کا نیا طریقہ کار اور 2025 کی تبدیلیاں

جرمنی ویزا کا نیا طریقہ کار اور 2025 کی...

سویڈن ورک پرمٹ تنخواہ کی شرط 2025-2026: مکمل تفصیلات

اگر آپ سویڈن میں نوکری کے لیے جانے کا...

2025 میں برطانیہ میں نیٹ مائگریشن 204,000 تک گر گئی: سرکاری ONS ڈیٹا کی تفصیل

2025 میں برطانیہ میں نیٹ مائگریشن میں ریکارڈ کمی: سرکاری اعداد و شمار اور نئی حکومتی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ

لندن، برطانیہ – آفس فار نیشنل سٹیٹسٹکس (ONS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار نے برطانیہ کے امیگریشن کے منظر نامے میں ایک ڈرامائی تبدیلی کی تصدیق کر دی ہے۔ 27 نومبر 2025 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، جون 2025 کو ختم ہونے والے سال کے لیے برطانیہ کی نیٹ مائگریشن (ملک میں آنے اور جانے والوں کا فرق) گر کر 204,000 کی سطح پر آ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار پچھلے سال کے ریکارڈ 649,000 کے مقابلے میں ایک غیر معمولی کمی کو ظاہر کرتے ہیں، جو کہ حکومت کی جانب سے نافذ کی گئی سخت ویزا پالیسیوں اور امیگریشن اصلاحات کے براہ راست اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ تفصیلی کالم ان سرکاری اعداد و شمار کا گہرائی سے جائزہ لیتا ہے، کمی کی وجوہات کا تجزیہ کرتا ہے، اور ہوم آفس کی جانب سے اعلان کردہ مستقبل کی سخت ترین سیٹلمنٹ پالیسیوں پر روشنی ڈالتا ہے۔

اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ اور کمی کے اسباب

آفس فار نیشنل سٹیٹسٹکس کے بلیٹن Long-term international migration, provisional: year ending June 2025 کے مطابق، نیٹ مائگریشن میں یہ کمی بنیادی طور پر دو اہم عوامل کی وجہ سے ہوئی ہے: اول، غیر یورپی یونین (Non-EU) کے شہریوں کی آمد میں کمی، اور دوم، برطانیہ سے واپس جانے والے تارکین وطن (Emigration) کی تعداد میں اضافہ۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ مجموعی طور پر امیگریشن میں کمی آئی ہے، لیکن سب سے زیادہ اثر ان افراد پر پڑا ہے جو پہلے اپنے خاندان کے افراد (ڈیپنڈنٹس) کو ساتھ لانے کے اہل تھے۔ حکومتی پالیسیوں میں تبدیلیوں نے خاص طور پر ہیلتھ اینڈ کیئر ویزا اور اسٹوڈنٹ ویزا کے راستوں کو متاثر کیا ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ویزا ہولڈرز کے ساتھ برطانیہ آنے والے انحصار کنندگان کی تعداد میں 70 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ یہ ان اصلاحات کا براہ راست نتیجہ ہے جن کے تحت بین الاقوامی طلباء (سوائے ریسرچ اور پی ایچ ڈی کے) اور کیئر ورکرز پر فیملی لانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

اس رحجان کو مزید سمجھنے کے لیے ONS نے ایک تجزیاتی بلاگ شائع کیا ہے جس کا عنوان What is driving the current fall in net migration? ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ غیر یورپی یونین کی امیگریشن، جو کہ گزشتہ سالوں میں آبادی میں اضافے کا بنیادی محرک تھی، اس میں 394,000 افراد کی کمی آئی ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 37 فیصد کم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، غیر یورپی یونین کے طلبا کی اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی ممالک کو واپسی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس نے نیٹ مائگریشن کے اعداد و شمار کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

حکومتی ردعمل اور سیٹلمنٹ کے نئے اور سخت قوانین

ان اعداد و شمار کے پس منظر میں، حکومت نے امیگریشن کے نظام کو مزید سخت کرنے اور اسے معاشی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ہوم آفس کی جانب سے 20 نومبر 2025 کو ایک اہم پالیسی بیان جاری کیا گیا جس کا عنوان A fairer pathway to settlement ہے، اور یہ بیان شبانہ محمود ایم پی کی طرف سے دیا گیا۔

اس سرکاری بیان میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ امیگریشن کی پچھلی سطحیں غیر مستحکم تھیں اور عوامی خدمات پر دباؤ کا باعث بن رہی تھیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے، حکومت نے شہریت اور مستقل رہائش (Indefinite Leave to Remain – ILR) کے حصول کے لیے ایک نیا ماڈل متعارف کرانے کا منصوبہ پیش کیا ہے جسے "ارنڈ سیٹلمنٹ” (Earned Settlement) کا نام دیا گیا ہے۔

اس مجوزہ نظام کے تحت، برطانیہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے کا راستہ اب پہلے سے کہیں زیادہ طویل اور مشکل ہو سکتا ہے۔ روایتی طور پر، ورک ویزا پر آنے والے افراد 5 سال کے بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوتے تھے، لیکن نئے منصوبے کے تحت یہ دورانیہ بڑھا کر 10 سال تک کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ شہریت ایک استحقاق ہے، حق نہیں، اور یہ ان لوگوں کو ملنی چاہیے جو برطانیہ میں ایک طویل عرصے تک قانونی طور پر مقیم رہے ہوں، ٹیکس ادا کرتے رہے ہوں، اور برطانوی اقدار اور معاشرے میں مکمل طور پر ضم ہو چکے ہوں۔ اس طویل عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف وہی لوگ یہاں مستقل طور پر بسیں جو ملک کی معیشت میں دیرپا اور مثبت شراکت کر سکتے ہیں۔

یورپی یونین اور برطانوی شہریوں کی نقل مکانی کا رجحان

سرکاری اعداد و شمار صرف غیر یورپی شہریوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ یورپی یونین (EU) اور خود برطانوی شہریوں کے بدلتے ہوئے رجحانات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ بریگزٹ کے بعد کے اثرات اب بھی نمایاں ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، یورپی یونین کے شہریوں کی نیٹ مائگریشن منفی 70,000 رہی ہے، جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ برطانیہ آنے والے یورپی شہریوں کی نسبت یہاں سے جانے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ رجحان لیبر مارکیٹ، خاص طور پر ہاسپیٹلیٹی اور زراعت جیسے شعبوں میں تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

اسی طرح، برطانوی شہریوں کی نقل مکانی کے اعداد و شمار بھی منفی رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، برطانوی شہریوں کی نیٹ مائگریشن منفی 109,000 ریکارڈ کی گئی، یعنی بڑی تعداد میں برطانوی شہری روزگار یا طرز زندگی کی وجوہات کی بنا پر دوسرے ممالک منتقل ہو رہے ہیں۔

شماریاتی طریقہ کار اور آبادی کے تخمینے

ان اعداد و شمار کی تیاری میں ONS نے روایتی سروے کے طریقوں سے ہٹ کر جدید انتظامی ڈیٹا کا استعمال کیا ہے۔ اس طریقہ کار کی تفصیلات Admin-based long-term international migration estimates QMI میں فراہم کی گئی ہیں۔ اس نئے نظام کے تحت، ہوم آفس کے ویزا ڈیٹا اور ڈیپارٹمنٹ فار ورک اینڈ پنشنز (DWP) کے ریکارڈز کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ درست اور بروقت اعداد و شمار مرتب کیے جاتے ہیں، جس سے حکومتی پالیسی سازوں کو فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

امیگریشن کے یہ اعداد و شمار برطانیہ کی کل آبادی کے تخمینے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ONS نے ان اعداد و شمار کے ساتھ ہی Provisional population estimate for the UK: mid-2025 بھی جاری کیا ہے، جس کے مطابق برطانیہ کی موجودہ آبادی تقریباً 69.5 ملین ہے۔ اگرچہ آبادی میں اضافہ جاری ہے، لیکن نیٹ مائگریشن میں کمی کی وجہ سے اضافے کی شرح میں سست روی آئی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

ماہرین اور سرکاری حکام کا خیال ہے کہ آنے والے سالوں میں نیٹ مائگریشن کی سطح میں مزید استحکام آئے گا۔ حکومت کی جانب سے اسکلڈ ورکر ویزا کے لیے تنخواہ کی حد (Salary Threshold) میں اضافے اور "امیگریشن سیلری لسٹ” میں تبدیلیوں کے مکمل اثرات ابھی پوری طرح سے اعداد و شمار میں ظاہر ہونا باقی ہیں۔ مزید برآں، "ارنڈ سیٹلمنٹ” کی مجوزہ پالیسی ممکنہ طور پر ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے جو برطانیہ کو ایک قلیل مدتی معاشی منزل کے بجائے طویل مدتی گھر کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن طویل انتظار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

یہ اعداد و شمار اور نئی پالیسیاں واضح کرتی ہیں کہ برطانیہ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں سرحدوں کا کنٹرول اور امیگریشن کی تعداد کو کم رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے طلباء، ورکرز اور ان کے خاندانوں کے لیے برطانیہ کا سفر اور یہاں بسنا اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور سخت شرائط کا حامل ہو چکا ہے۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں