نیوزی لینڈ کی حکومت نے حال ہی میں بین الاقوامی طلبا کے لیے ایک ایسی خوشخبری سنائی ہے جس نے اس ملک کو عالمی تعلیمی نقشے پر ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ اگر آپ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا پہلے ہی نیوزی لینڈ میں مقیم ہیں، تو آپ جانتے ہوں گے کہ وہاں کی زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنا کتنا بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اسی چیلنج کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے 3 نومبر 2025 سے ایک انقلابی فیصلہ نافذ کیا ہے جس کے تحت سٹوڈنٹ ویزا ہولڈرز کے کام کرنے کے اوقات میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اس پالیسی کے تحت، تعلیمی سیشن کے دوران جز وقتی کام کرنے کی قانونی حد کو ہفتہ وار 20 گھنٹے سے بڑھا کر 25 گھنٹے کر دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی محض پانچ گھنٹوں کا اضافہ نہیں ہے بلکہ یہ طلبا کی مالی خودمختاری کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ visavlogurdu.com کے تجزیے کے مطابق، یہ اقدام نیوزی لینڈ کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی طلبا کو صرف ایک ذریعہ آمدن نہیں سمجھتا بلکہ انہیں اپنی معیشت اور معاشرت کا ایک اہم حصہ تسلیم کرتا ہے۔ اس پالیسی کے بارے میں مزید تفصیلات آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں: نیوزی لینڈ میں طلبا کے کام کرنے کے اوقات میں اضافہ۔
- یہ بھی پڑھئیے
- جنوبی ایشیائی 2041 تک کینیڈا کی سب سے بڑی تارکین وطن ورک فورس بن جائیں گے
- کینیڈا نے کینیڈین تجربہ رکھنے والے ڈاکٹروں کے لیے نئی ایکسپریس انٹری کیٹیگری کا آغاز کر دیا
- کینیڈا نے 6000 ایکسپریس انٹری دعوت نامے جاری کیے، اونٹاریو نے ٹریڈز اسٹریم معطل کر دی
- برطانیہ بی آر پی (BRP) کارڈ کا خاتمہ: 2026 تک ای ویزا کا مکمل نفاذ
- برطانیہ میں غیر قانونی ڈیلیوری ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن: 60,000 پاؤنڈ جرمانہ
اس فیصلے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ہم دیگر بڑے ممالک کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہیں۔ ایک طرف جہاں کینیڈا جیسے ممالک اپنی پالیسیوں میں سختی لا رہے ہیں اور کینیڈا کی نئی سٹوڈنٹ ویزا پالیسی کے تحت سٹوڈنٹ پرمٹ کی تعداد میں کمی کی تجاویز دی جا رہی ہیں، وہیں نیوزی لینڈ نے طلبا کو ریلیف دینے کا راستہ اپنایا ہے۔ اسی طرح، برطانیہ کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو وہاں بھی قوانین میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں، جس کی مکمل تفصیل برطانیہ کے سٹوڈنٹ اور گریجویٹ ویزا میں تبدیلیاں کے ذریعے جانی جا سکتی ہیں۔
نیوزی لینڈ کی اس نئی پالیسی سے کون فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ اس کا جواب سادہ مگر اہم ہے۔ یہ 25 گھنٹے کی سہولت ان تمام طلبا کے لیے ہے جو فل ٹائم کورسز میں داخل ہیں جو کم از کم دو تعلیمی سالوں پر محیط ہوں۔ اس کے علاوہ، وہ پروگرام جو نیوزی لینڈ کوالیفیکیشن فریم ورک (NZQCF) کے لیول 4 یا اس سے اوپر کے ہیں، ان کے طلبا بھی اس کے اہل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سال 12 اور 13 کے سیکنڈری سکول کے طلبا کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے، بشرطیکہ ان کے پاس سکول اور والدین کی اجازت ہو۔ البتہ، ماسٹرز بائی ریسرچ اور پی ایچ ڈی کے طلبا کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ ان پر کام کے گھنٹوں کی کوئی قدغن نہیں ہے، وہ اپنی تعلیم کے ساتھ جتنے چاہیں گھنٹے کام کر سکتے ہیں۔
اگر آپ پہلے سے نیوزی لینڈ میں ہیں اور آپ کا ویزا 3 نومبر 2025 سے پہلے کا ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ کے ویزا پر اب بھی 20 گھنٹے کی شرط درج ہوگی۔ قانوناً آپ اس وقت تک 25 گھنٹے کام نہیں کر سکتے جب تک آپ اپنے ویزا کی شرائط کو اپ ڈیٹ نہ کروا لیں۔ اس عمل کو "ویریشن آف کنڈیشنز” (VOC) کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے آپ کو امیگریشن نیوزی لینڈ کے پورٹل پر جا کر درخواست دینی ہوگی۔ یہ ایک ضروری قانونی تقاضا ہے تاکہ مستقبل میں آپ کی پی آر یا ویزا کی تجدید میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
مالی لحاظ سے یہ پانچ گھنٹے کا اضافہ بہت بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ میں کم از کم اجرت کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایک طالب علم مہینے میں تقریباً 20 گھنٹے اضافی کام کر کے اپنے کرایے یا گروسری کا ایک بڑا حصہ نکال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، زیادہ وقت کام کرنے سے مقامی ماحول میں گھلنے ملنے اور اپنی کمیونیکیشن سکلز کو بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔ یہ تجربہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مستقل ملازمت حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ نیوزی لینڈ نہ صرف طلبا کو یہ موقع دے رہا ہے بلکہ وہاں ورکرز کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دیگر ویزے بھی متعارف کروائے گئے ہیں، جس کی تفصیل آپ نیوزی لینڈ سیزنل ورک ویزا گائیڈ میں پڑھ سکتے ہیں۔
جہاں نیوزی لینڈ جیسے ممالک طلبا کو سہولیات دے رہے ہیں، وہیں کچھ یورپی ممالک اپنی امیگریشن پالیسیوں کو سخت کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سویڈن نے تارکین وطن کے لیے واپسی کے قوانین میں تبدیلی کی ہے تاکہ نظام کو شفاف بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے سویڈن کی واپسی گرانٹ پالیسی کا جائزہ لینا ضروری ہے، جو جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔ یہ موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ نیوزی لینڈ اس وقت بین الاقوامی طلبا کے لیے ایک بہترین اور متوازن منزل کے طور پر ابھرا ہے۔
طلبا کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ اس سہولت کا فائدہ ضرور اٹھائیں لیکن اپنی تعلیم کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔ نیوزی لینڈ کا سٹوڈنٹ ویزا اس شرط پر مبنی ہوتا ہے کہ آپ کی تعلیمی کارکردگی اور حاضری برقرار رہے۔ اگر کام کے اوقات بڑھانے سے آپ کے گریڈز متاثر ہوتے ہیں، تو یہ آپ کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ وہاں ایک ڈگری حاصل کرنے گئے ہیں، اور کام کا مقصد صرف اس سفر کو مالی طور پر آسان بنانا ہے۔
اس کے علاوہ، اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ نیوزی لینڈ میں آجروں پر لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی طلبا کو بھی وہی حقوق اور مراعات دیں جو مقامی شہریوں کو حاصل ہیں۔ آپ کو کم از کم اجرت ملنی چاہیے، آپ کے پاس تحریری معاہدہ ہونا چاہیے اور آپ کو کام کے محفوظ حالات فراہم کیے جانے چاہئیں۔ اگر کوئی آجر آپ کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے یا آپ کو قانونی گھنٹوں سے زیادہ کام کرنے پر مجبور کرے، تو آپ فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کی 25 گھنٹے کی نئی پالیسی ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔ یہ اقدام نہ صرف طلبا کی مالی مشکلات کم کرے گا بلکہ انہیں نیوزی لینڈ کے معاشرے کا ایک فعال حصہ بننے میں بھی مدد دے گا۔ آپ کو بس اتنا کرنا ہے کہ اپنی ویزا شرائط کو درست طریقے سے اپ ڈیٹ کروائیں اور اپنی تعلیم اور کام کے درمیان ایک بہترین توازن برقرار رکھیں۔ نیوزی لینڈ آپ کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہے، کیا آپ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟



