یورپی یونین کا پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے یورپی قوانین بہت بڑی نعمت ہیں۔ اگر آپ کے پاس جرمنی، اٹلی، سپین، پرتگال یا کسی بھی دوسرے یورپی ملک کا پاسپورٹ ہے اور آپ آئرلینڈ میں مقیم ہیں یا وہاں منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کے لیے اپنی نان-یورپین فیملی (جیسے پاکستانی یا انڈین شہریت رکھنے والے رشتہ دار) کو بلانا عام ورک پرمٹ ہولڈرز کی نسبت بہت آسان ہے۔ اکثر لوگ اس قانون کو آئرلینڈ کے قومی قوانین کے ساتھ خلط ملط کر دیتے ہیں حالانکہ یہ یورپی یونین کا ڈائریکٹو 2004/38/EC ہے جسے عام طور پر "ای یو ٹریٹی رائٹس” کہا جاتا ہے۔ چونکہ آئرلینڈ میں امیگریشن قوانین سخت ہو رہے ہیں اور ہم پہلے ہی آئرلینڈ امیگریشن نیوز 2025 میں ورک پرمٹ کے حوالے سے بتا چکے ہیں کہ عام ورکرز کے لیے فیملی بلانا کتنا مشکل ہے، اس لیے یورپی شہریوں کو اپنے ان خاص حقوق کا علم ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ تفصیلی گائیڈ آپ کو اے سے لے کر زیڈ تک ہر چیز سمجھائے گی کہ کون کس کو بلا سکتا ہے اور خاص طور پر بہن بھائیوں کے لیے کیا شرائط ہیں۔
کون سا یورپی شہری سپانسر بن سکتا ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر یورپی شہری اپنی فیملی کو آئرلینڈ نہیں بلا سکتا۔ آئرش حکومت کی شرط ہے کہ وہ یورپی شہری آئرلینڈ میں اپنے "حقوق استعمال” کر رہا ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ آئرلینڈ میں موجود ہو اور مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک سرگرمی کر رہا ہو: ملازمت (Worker): وہ کسی کمپنی میں نوکری کر رہا ہو چاہے وہ پارٹ ٹائم ہو یا فل ٹائم۔ کاروبار (Self-Employed): وہ اپنا چھوٹا یا بڑا کاروبار چلا رہا ہو اور ٹیکس میں رجسٹرڈ ہو۔ طالب علم (Student): وہ کسی منظور شدہ ادارے میں تعلیم حاصل کر رہا ہو اور اس کے پاس اپنی اور فیملی کی ہیلتھ انشورنس موجود ہو۔ خود کفیل (Self-Sufficient): وہ کوئی کام نہیں کرتا لیکن اس کے پاس اتنی دولت یا بینک بیلنس ہے کہ وہ اپنا اور اپنی فیملی کا خرچ اٹھا سکے اور آئرلینڈ کی حکومت سے مانگنے کا محتاج نہ ہو۔
کن رشتہ داروں کو بلایا جا سکتا ہے؟
آئرلینڈ کے محکمہ انصاف نے فیملی ممبرز کو دو واضح کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے۔ ان دونوں کے قوانین اور ویزا ملنے کے امکانات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
پہلی کیٹیگری:
کوالیفائنگ فیملی ممبرز (فوری اہل) یہ وہ رشتہ دار ہیں جنہیں بلانا یورپی شہری کا قانونی حق ہے اور حکومت انہیں ویزا دینے سے انکار نہیں کر سکتی سوائے اس کے کہ کوئی بہت بڑا فراڈ یا سیکیورٹی کا مسئلہ ہو۔ اس میں درج ذیل رشتے شامل ہیں: شریک حیات: قانونی طور پر شادی شدہ بیوی یا شوہر۔ بچے (21 سال سے کم): آپ کے اپنے بچے یا آپ کے شریک حیات کے بچے۔ بچے (21 سال سے زائد): اگر بچے 21 سال سے بڑے ہیں لیکن وہ اب بھی پڑھ رہے ہیں یا کمائی کے لیے والدین پر انحصار کرتے ہیں تو وہ بھی آ سکتے ہیں۔ والدین: یورپی شہری کے والدین یا اس کی بیوی/شوہر کے والدین، بشرطیکہ وہ مالی طور پر ان پر انحصار کرتے ہوں۔
- مزید پڑھئے
- آئرلینڈ فیملی ری یونین ویزا 2026: مکمل گائیڈ
- آئرلینڈ امیگریشن نیوز 2025: ورک پرمٹ میں تبدیلیاں
- برطانیہ میں سیاسی پناہ کے قوانین میں بڑی تبدیلی: دسمبر 2025
- برطانیہ کی امیگریشن پالیسی میں یکم دسمبر کی اپ ڈیٹس
- برطانیہ میں اسٹوڈنٹ ویزا سے اسکلڈ ورکر ویزا میں تبدیلی
دوسری کیٹیگری:
پرمیٹڈ فیملی ممبرز (بہن بھائی اور دیگر) آپ کا سوال خاص طور پر بہن بھائیوں کے بارے میں تھا تو اس کا جواب یہاں موجود ہے۔ بہن بھائی، کزنز، چچا، ماموں یا غیر شادی شدہ پارٹنرز اس کیٹیگری میں آتے ہیں۔ انہیں بلانا خودکار حق نہیں ہے بلکہ یہ آئرش منسٹر کی صوابدید پر منحصر ہے۔ بہن بھائیوں کو بلانے کے لیے آپ کو بہت سخت شرائط پوری کرنی ہوں گی:
انحصار کی شرط (Dependency): آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کا بھائی یا بہن پاکستان یا انڈیا میں اپنی بنیادی ضروریات (روٹی، کپڑا، مکان) کے لیے مکمل طور پر آپ کی بھیجی ہوئی رقم پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر آپ نے پیسے بھیجنا بند کر دیے تو وہ بھوکے مر جائیں گے۔ اگر آپ کا بھائی وہاں خود نوکری کرتا ہے اور اپنا خرچ اٹھا سکتا ہے تو اسے ویزا نہیں ملے گا۔
گھر کا رکن (Member of Household): یا پھر آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ آپ کے یورپی ملک یا آبائی ملک میں آپ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہ رہے تھے اور آپ کے گھر کا حصہ تھے
صحت کے مسائل: اگر آپ کے بھائی یا بہن کو کوئی ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے وہ خود اپنا خیال نہیں رکھ سکتے اور انہیں آپ کی ذاتی دیکھ بھال کی سخت ضرورت ہے تو اس بنیاد پر بھی ویزا مل سکتا ہے۔
مالی شرائط اور آمدنی کا معیار
یہاں یورپی شہریوں کو عام ورک پرمٹ ہولڈرز پر بہت بڑی برتری حاصل ہے۔ اگر آپ نے ہمارا آئرلینڈ فیملی ری یونین ویزا 2026 والا کالم پڑھا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ عام لوگوں کے لیے تنخواہ کی حد چالیس ہزار یورو تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن ای یو ٹریٹی رائٹس کے تحت یورپی شہری کے لیے کوئی فکسڈ تنخواہ مقرر نہیں ہے۔ قانون صرف یہ کہتا ہے کہ آپ کے پاس اتنے وسائل ہونے چاہئیں کہ آپ کی فیملی ریاست پر بوجھ نہ بنے۔ اگر آپ کم از کم اجرت پر بھی نوکری کر رہے ہیں لیکن آپ کا گھر کا خرچ پورا ہو رہا ہے تو آپ فیملی بلا سکتے ہیں۔
درخواست دینے کا مرحلہ وار طریقہ
اگر آپ کی فیملی یورپ سے باہر ہے تو عمل کچھ یوں ہوگا:
مرحلہ 1: ویزا کی درخواست سب سے پہلے فیملی ممبر کو اپنے ملک (پاکستان/انڈیا) سے آئرلینڈ کے "شارٹ سٹے سی ویزا” (Short Stay ‘C’ Visa) کے لیے اپلائی کرنا ہوگا۔ درخواست میں وجہ "جوائن فیملی – ای یو ٹریٹی رائٹس” منتخب کرنی ہوگی۔ یورپی شہریوں کی فیملی کے لیے ویزا فیس معاف ہوتی ہے یا بہت کم ہوتی ہے۔
مرحلہ 2: آئرلینڈ کا سفر ویزا لگنے کے بعد وہ آئرلینڈ سفر کریں گے۔ ایئرپورٹ پر انہیں امیگریشن افسر کو بتانا ہوگا کہ وہ اپنے یورپی رشتہ دار کے پاس شفٹ ہونے آئے ہیں۔ انہیں 90 دن کی انٹری ملے گی۔
مرحلہ 3: فارم ای 1 یا ای 2 آئرلینڈ پہنچنے کے بعد اصل کام شروع ہوتا ہے۔ کوالیفائنگ فیملی ممبرز (بیوی بچے) کو فارم ای 1 اور پرمیٹڈ فیملی ممبرز (بہن بھائی) کو فارم ای 2 بھر کر بھیجنا ہوتا ہے۔ یہ اب آن لائن بھی ہو سکتا ہے۔ اس فارم کے ساتھ آپ کو تمام ثبوت لگانے ہوں گے کہ یورپی شہری یہاں کام کر رہا ہے اور فیملی اس کے ساتھ رہ رہی ہے۔
مرحلہ 4: عارضی سٹیمپ 4 درخواست جمع ہونے کے بعد محکمہ انصاف اسے چیک کرے گا۔ اگر کاغذات پورے ہوئے تو فیملی ممبر کو ایک خط ملے گا جس کی بنیاد پر اسے عارضی سٹیمپ 4 دیا جائے گا۔ اس سٹیمپ پر وہ آئرلینڈ میں کہیں بھی کام کر سکتا ہے یا کاروبار کر سکتا ہے۔
مرحلہ 5: فائنل کارڈ (5 سال) مکمل جانچ پڑتال میں 6 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ اگر سب کچھ درست ثابت ہوا تو فیملی ممبر کو "ریذیڈنس کارڈ آف اے فیملی ممبر آف یونین سٹیزن” جاری کیا جائے گا جو 5 سال کے لیے کارآمد ہوگا۔
بہن بھائیوں کے لیے خاص احتیاط بہن بھائیوں کے کیس میں سب سے زیادہ ویزے مسترد ہوتے ہیں کیونکہ انحصار ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ آپ کو پچھلے دو یا تین سال کی منی ٹرانسفر کی رسیدیں دکھانی ہوں گی جو یہ ثابت کریں کہ آپ باقاعدگی سے انہیں خرچہ بھیج رہے تھے۔ اگر آپ نے ویزا اپلائی کرنے سے صرف دو ماہ پہلے پیسے بھیجنا شروع کیے ہیں تو یہ فراڈ سمجھا جائے گا اور ویزا نہیں ملے گا۔ اسی طرح اگر آپ کا بھائی وہاں شادی شدہ ہے اور اس کے اپنے بچے ہیں تو یہ ثابت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ آپ پر انحصار کرتا ہے۔ اس لیے صرف غیر شادی شدہ اور بے روزگار بہن بھائیوں کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔
مزید معلومات اور سرکاری ذرائع یہ تمام معلومات آئرلینڈ کے "یورپین کمیونٹیز (فری موومنٹ آف پرسنز) ریگولیشنز 2015” کے تحت دی گئی ہیں۔ قوانین میں باریکیاں ہوتی ہیں اس لیے اپلائی کرنے سے پہلے آئرش امیگریشن کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود تازہ ترین ہدایات ضرور پڑھ لیں۔ اگر آپ پہلے سے آئرلینڈ میں مقیم ہیں تو آپ کے لیے قوانین تھوڑے مختلف ہو سکتے ہیں جن کی تفصیل ہم نے اپنے پچھلے مضامین میں دی ہے۔



