spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

سپین کو پنشن اور روزگار کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیےچوبیس لاکھ کارکنوں کی اشد ضرورت

سپین، جو یورپ کی سب سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے، اس وقت ایک گہرے آبادیاتی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے جس کا براہ راست اثر اس کے سماجی بہبود کے نظام، خاص طور پر پنشن فنڈز پر پڑ رہا ہے۔ سرکاری ذرائع اور تحقیقی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق، ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر غیر ملکی افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ ، سپین کو مستقبل میں ملازمتوں اور پنشن کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے 2 million سے زائد کارکنوں کی ضرورت ہے

2035 تک 2.4 million غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت

تھنک ٹینک Funcas کے ایک حالیہ مطالعے کے مطابق، سپین کو آئندہ ایک دہائی میں، یعنی 2035 تک، پنشن کی ادائیگی کرنے والوں اور پنشن وصول کرنے والوں کے موجودہ تناسب کو برقرار رکھنے کے لیے 2.4 million اضافی کارکنوں کی ضرورت ہوگی۔ چونکہ سپین کی مقامی افرادی قوت سکڑ رہی ہے (ملک کی شرح پیدائش 1.3 بچے فی خاتون ہے)، اس لیے یہ تقریباً تمام ملازمتیں تارکین وطن سے پُر ہونے کی توقع ہے۔

اس آبادیاتی دباؤ کو اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو صورتحال زیادہ واضح ہو جاتی ہے:

انڈیکیٹر (Indicator)موجودہ صورتحال2035 میں متوقع صورتحال (بغیر امیگریشن کے)
Old-Age Dependency Ratio34%48%
ضروری اضافی کارکنانN/A2.4 million
پنشن نظام پر دباؤ (کم امیگریشن)N/A€40 billion سالانہ کمی (Shortfall)

آسان الفاظ میں، اگر امیگریشن کی رفتار کو تیز نہ کیا گیا تو دس سال کے اندر بزرگوں پر انحصار کا تناسب 34% سے بڑھ کر 48% ہو جائے گا، جس سے ملک کا ‘پے-ایز-یو-گو’ (pay-as-you-go) پنشن نظام شدید دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔


High-Immigration کا معاشی فائدہ

Funcas رپورٹ میں مختلف ماڈلز پیش کیے گئے ہیں۔ ایک ‘High-Immigration’ منظرنامے کے تحت، جس میں سالانہ 350,000 افراد کی خالص آمد شامل ہے، بزرگوں پر انحصار کا تناسب مستحکم ہو جائے گا اور پنشن پر ہونے والے اخراجات GDP کے 14.8% پر عروج پر پہنچ کر رک جائیں گے۔ اس پالیسی سے 2035 تک سپین کو سالانہ تقریباً €16 billion کی بچت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ سپین کو اپنے فلاحی نظام کو چلانے کے لیے سالانہ 250,000 سے 300,000 غیر ملکی کارکنوں کی مستقل ضرورت ہے۔


پالیسی اور حکومتی ردعمل

سپین کی حکومت نے اس معاشی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے امیگریشن کے بارے میں زیادہ عملی اور کھلے ذہن کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزارتِ شمولیت (Inclusion Ministry) کی جانب سے ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے، جسے غیر رسمی طور پر "Ley Talento” (صلاحیت کا قانون) کا نام دیا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد سپین کو "نان-یورپی یونین ٹیلنٹ کو ملازمت دینے کے لیے یورپ کے آسان ترین دائرہ اختیار میں سے ایک” بنانا ہے۔

حکومت نے فوری طور پر عمل درآمد کرتے ہوئے آئندہ تین سالوں میں ہر سال تقریباً 300,000 غیر دستاویزی تارکین وطن کو رہائشی اور ورک پرمٹ دینے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد لیبر مارکیٹ میں خالی جگہوں کو پُر کرنا، ٹیکس محصولات میں اضافہ کرنا اور غیر قانونی کام کے استحصال کو کم کرنا ہے۔ سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے امیگریشن کو "صرف ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ہماری اقتصادی خوشحالی کے لیے بھی ضروری” قرار دیا ہے۔ یہ پالیسیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ سپین کس طرح آبادیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے اور اپنی معاشی نمو کو برقرار رکھنے کے لیے فعال طور پر امیگریشن کا استعمال کر رہا ہے۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں