سویڈن میں امیگریشن کے سخت قوانین کے باعث ایک ایسا رجحان سامنے آیا ہے جو نہ صرف انفرادی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ ملک کی اہم افرادی قوت کی ضروریات کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ رجحان "ہنرمندوں کا انخلا” (Brain Drain) کہلاتا ہے، جہاں ملک میں کام کرنے والے، ہنر مند پیشہ ور افراد بھی معمولی تکنیکی غلطیوں پر رہائشی اجازت نامے کے لیے مسترد کر دیے جاتے ہیں۔
یہ مسئلہ سویڈن کے ڈاکٹروں کی کمی کو اجاگر کرتا ہے، جیسا کہ ایرانی نژاد ایک ماہر ڈاکٹر ساسان کاظمیان (Sasan Kazemian) کا حالیہ کیس واضح کرتا ہے۔ ڈاکٹر کاظمیان ایک ST-läkare (خصوصی تربیت یافتہ ڈاکٹر) تھے جو ملک میں کام کر رہے تھے، لیکن انہیں Swedish Migration Agency (Migrationsverket) نے رہائشی اجازت نامہ دینے سے انکار کر دیا۔ ان کے کیس سے متعلق حکومتی اداروں کے طریقہ کار اور ضروریات کو سمجھنا ہر اس شخص کے لیے اہم ہے جو سویڈن میں کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔ آپ سویڈن میں کام کرنے کی شرائط کے بارے میں مزید تفصیلات [Migrationsverket Work Permit Guide] پر حاصل کر سکتے ہیں۔
قواعد کی سختی: قومی ضرورت نہیں، تکنیکی تعمیل اہم ہے
سویڈش امیگریشن نظام کے تحت، کسی درخواست کی منظوری کا انحصار ملک کو درکار قومی ہنر (جیسے ڈاکٹرز) پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ آیا درخواست دہندہ نے تمام تکنیکی شرائط کی 100% تعمیل کی ہے۔
- کیس اسٹڈی: ڈاکٹر ساسان کاظمیانڈاکٹر کاظمیان، جو ایران سے تعلق رکھتے ہیں، ایک ایسے شعبے میں کام کر رہے تھے جہاں سویڈن کو عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ جب ان کی رہائشی اجازت نامے کی تجدید کا عمل جاری تھا، تو انہیں Migrationsverket کی طرف سے مشورہ دیا گیا کہ اگر وہ اپنی زیر التوا قانونی اپیل کو ختم کر کے واپس ایران چلے جائیں اور نئے سرے سے درخواست دیں، تو ان کے اجازت نامے کی منظوری کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ انہوں نے اس مشورے پر عمل کیا، لیکن Migrationsverket نے ان کی نئی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔ اس انکار نے سویڈن کی ڈاکٹرز یونین (Läkarförbundet) کی طرف سے شدید تنقید کو جنم دیا، جس نے امیگریشن نظام کو "غیر معقول” قرار دیا۔
- انکار کی بنیادی وجہ: خود کفالت کی شرطرہائشی اجازت نامے کی تجدید اور مستقل رہائش کے لیے ایک اہم رکاوٹ "خود کفالت کی شرط” ہے۔ Migrationsverket یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ درخواست دہندہ مستقبل میں خود کو اور اپنے خاندان کو مالی طور پر سہارا دے سکتا ہے۔ اس شرط میں اکثر درخواست کے وقت سے آگے ایک مقررہ مدت کے لیے مستحکم آمدنی کا ثبوت درکار ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ اصول مختلف ہو سکتا ہے، لیکن اکثر یہ توقع کی جاتی ہے کہ آمدنی یا ملازمت کا معاہدہ کم از کم 12 مہینے سے 18 مہینے تک برقرار رہے گا۔ لمبی کارروائی کا وقت اکثر درخواست گزاروں کے لیے حالات کو بدل دیتا ہے، اور انہیں تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر دیا جاتا ہے۔
- مزید پڑھئے
- 🇳🇿 نیوزی لینڈ نے طلبا کے کام کرنے کے اوقات 25 گھنٹے کر دیے — خصوصی تجزیہ
- 🇵🇰 کینیڈا نے (2028 تک) نئے سٹوڈنٹ پرمٹ کیپ میں 65 فیصد کمی کی تجویز دے دی
- برطانیہ کے سٹوڈنٹ اور گریجویٹ ویزا میں بنیادی تبدیلیوں کا تجزیہ
- سویڈن کی واپسی گرانٹ یکم جنوری 2026 سے بڑھا دی جائے گی—دھوکہ دہی کے خلاف سخت نئے اقدامات
- نیوزی لینڈ دو نئے سیزنل ورک ویزے اوپن کر رہا ہے , جامع گائیڈ
اپیل کا طریقہ کار اور مستقبل کا راستہ
اگر کسی درخواست گزار کو Migrationsverket کی طرف سے انکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو اسے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔
- اپیل کرنے کا حق: آپ کے پاس Migrationsverket کے فیصلے کو بدلنے کے لیے کورٹ میں اپیل کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اپیل کی آخری تاریخ فیصلے میں واضح طور پر بتائی جاتی ہے، اور اس مدت کے اندر اپیل جمع کروانا لازمی ہے۔
- قانونی حیثیت: اگر اجازت نامے کی تجدید سے انکار کر دیا گیا ہے، تو درخواست گزار کو سویڈن سے نکلنے کی منصوبہ بندی شروع کرنی چاہیے، یہاں تک کہ اگر وہ اپیل کر رہا ہو۔ فیصلے میں واضح طور پر بتایا جاتا ہے کہ آیا آپ کو اپیل کی کارروائی کے دوران سویڈن میں رہنے کا حق حاصل ہے۔
- سفارشات: ڈاکٹرز یونین اب مستقل طور پر ڈاکٹرز کے لیے "فاسٹ ٹریک” راستہ بنانے، اور Migrationsverket کے عمل کو زیادہ معروضی بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ ملک میں ہنر مند افراد کا ضیاع روکا جا سکے۔
سویڈن کا یہ مسئلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح امیگریشن کے اصولوں میں ایک چھوٹی سی تکنیکی خامی بھی ہنر مند تارکین وطن کو باہر کا راستہ دکھا سکتی ہے، اور یہ ایک وسیع تر قومی بحث کو جنم دے رہا ہے کہ آیا سختی پر قومی اقتصادی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اگر آپ کے رہائشی اجازت نامے کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے، تو اپیل کرنے اور اپنے حقوق کو سمجھنے کے لیے آپ [Migrationsverket How to Appeal] گائیڈ سے مشورہ کر سکتے ہیں۔



