spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

جرمنی میں مستقل رہائش یا پی آر حاصل کرنےکی مکمل گائیڈ

جرمنی میں رہائش پذیر ہر غیر ملکی کا سب...

ایسٹونیا میں جاب ویزا حاصل کرنے کے لیے مرحلہ وار طریقہ کار

ایسٹونیا ورک ویزا 2026: پاکستانیوں کے لیے ورک پرمٹ،...

پرتگال کا ڈیجیٹل نومیڈ ویزا (D8): درخواست دینے کا مکمل طریقہ کار

دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے والوں کے...

پولینڈ اور یورپی یونین مائیگریشن معاہدہ 2026: وارسا کی تاریخی فتح کا پس منظر

یورپی یونین نے پولینڈ پر پڑنے والے غیر معمولی...

سویڈن سے ڈیپورٹیشن میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ 2025-2026 کی امیگریشن پالیسیوں کا تفصیلی تجزیہ

سویڈن کے امیگریشن کے منظر نامے میں حالیہ مہینوں کے دوران ایک بہت بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ 2025 کے اواخر میں سامنے آنے والی رپورٹس اور سرکاری اعداد و شمار اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ سویڈن سے ڈیپورٹ ہونے والے یا رضاکارانہ طور پر اپنے ممالک واپس جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے مبصرین اور تارکین وطن کے لیے یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ آخر اس وقت سویڈن سے اتنے زیادہ لوگوں کو کیوں نکالا جا رہا ہے؟

اس سوال کا جواب کسی ایک واقعے میں نہیں بلکہ سویڈن کے امیگریشن قوانین میں ہونے والی ان منظم سختیوں میں پوشیدہ ہے جن کا آغاز 2024 میں ہوا اور اپریل 2025 میں بڑی قانون سازی کی تبدیلیوں کے ساتھ یہ عمل اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ جیسے جیسے ہم 2026 کی طرف بڑھ رہے ہیں، توقع کی جا رہی ہے کہ ان رجحانات میں مزید تیزی آئے گی کیونکہ حکومت اپنی امیگریشن پالیسی میں "پیراڈائم شفٹ” (Paradigm Shift) یا بنیادی تبدیلی کے اگلے مرحلے کو نافذ کرنے جا رہی ہے۔

سویڈن مائگریشن ایجنسی (Migrationsverket) اور سویڈن کے سرکاری دفاتر (Government Offices) کی رپورٹس کی روشنی میں، ہم ان عوامل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں جو ڈیپورٹیشن میں اس اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

1. ٹریک چینجنگ (Spårbyte) کا خاتمہ

ڈیپورٹیشن میں حالیہ اضافے کی سب سے بڑی اور اہم وجہ "ٹریک چینجنگ” نامی قانونی راستے کا خاتمہ ہے۔ کئی سالوں تک سویڈن نے پناہ کے متلاشی افراد، جن کی درخواستیں مسترد ہو جاتی تھیں، انہیں ملک چھوڑے بغیر ورک پرمٹ کے لیے اپلائی کرنے کی اجازت دی تھی، بشرطیکہ انہوں نے پناہ کے عمل کے دوران ملازمت حاصل کر لی ہو۔ یہ نظام سویڈن میں لیبر کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن موجودہ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ نظام پناہ کے سسٹم کو کمزور کرتا ہے کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پناہ کی درخواست مسترد ہونے کا مطلب سویڈن سے نکلنا نہیں ہے۔

یکم اپریل 2025 کو اس سہولت کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا۔ سویڈن مائگریشن ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق، اس قانون سازی کی تبدیلی کا فوری اثر ہوا ہے۔ وہ افراد جو پہلے ٹریک تبدیل کر کے بطور ورکر سویڈن میں رہ سکتے تھے، اب انہیں ڈیپورٹیشن کے احکامات مل رہے ہیں۔ چونکہ قانونی طور پر رہنے کا یہ راستہ بند ہو چکا ہے، اس لیے ایسے لوگوں کی تعداد میں قدرتی طور پر اضافہ ہوا ہے جن کے پاس رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے، جس کی وجہ سے ڈیپورٹیشن کے اعداد و شمار بڑھ رہے ہیں۔

2. ڈیپورٹیشن آرڈرز کے لیے قانون کی معیاد میں سختی

ایک اور تکنیکی لیکن انتہائی اہم تبدیلی ڈیپورٹیشن کے احکامات پر عمل درآمد کی معیاد یا "سٹیٹیوٹ آف لمیٹیشنز” (Preskriptionstid) سے متعلق ہے۔ پرانے قوانین کے تحت، ڈیپورٹیشن کا حکم عام طور پر چار سال بعد ختم ہو جاتا تھا۔ اس قانون نے کچھ لوگوں کے لیے یہ ترغیب پیدا کی تھی کہ وہ روپوش ہو جائیں، حکام سے چھپ جائیں اور چار سال کی مدت پوری ہونے کا انتظار کریں۔ جب حکم کی معیاد ختم ہو جاتی، تو وہ اکثر دوبارہ پناہ کے لیے درخواست دے سکتے تھے اور یہ عمل دوبارہ شروع ہو جاتا۔

یکم اپریل 2025 سے ان قوانین کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے، جس کی تفصیلات حکومت سویڈن کی قانونی تجاویز میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ نئی قانون سازی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جب تک فرد ملک میں موجود ہے، ڈیپورٹیشن کا حکم اسی طرح ختم نہیں ہوگا جیسا کہ پہلے ہوتا تھا۔ اس تبدیلی نے چھپنے کی ترغیب کو ختم کر دیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ڈیپورٹیشن کا حکم غیر معینہ مدت تک برقرار رہے گا، "انتظار کرنے” کی حکمت عملی اب بے سود ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے زیادہ افراد ملک چھوڑنے کے فیصلے پر عمل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

3. پولیس کی جانب سے داخلی کنٹرول میں اضافہ

جہاں قانون سازی کی تبدیلیاں قانونی ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں، وہیں ان قوانین کے نفاذ کے لیے زمینی سطح پر کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سویڈن پولیس اتھارٹی (Polisen) کو "داخلی غیر ملکی کنٹرول” (Internal Alien Controls) کو تیز کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ یہ وہ چیکنگ ہے جو صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ سویڈن کے اندر مختلف شہروں اور علاقوں میں کی جاتی ہے تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ غیر ملکی شہریوں کو ملک میں رہنے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔

حکومت نے ان کنٹرولز کو "شیڈو سوسائٹی” یا غیر قانونی طور پر رہنے والے لوگوں کے خلاف جنگ میں ایک اہم ہتھیار کے طور پر ترجیح دی ہے۔ پولیس کو دیے گئے بڑھتے ہوئے وسائل اور واضح ہدایات کے نتیجے میں ایسے زیادہ افراد کی نشاندہی ہو رہی ہے جن کی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایک بار شناخت ہونے کے بعد، ان افراد کو پروسیسنگ کے لیے مائگریشن ایجنسی یا پولیس کے اپنے ریٹرن یونٹس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ سویڈن پولیس اور مائگریشن ایجنسی کے درمیان تعاون کو مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فیصلوں پر ماضی کی نسبت زیادہ تیزی سے عمل درآمد ہو۔

4. رضاکارانہ واپسی اور 2026 کے لیے مالی مراعات

دلچسپ بات یہ ہے کہ سویڈن چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ صرف زبردستی ڈیپورٹیشن کی وجہ سے نہیں ہے۔ رضاکارانہ واپسی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سخت نفاذ اور نئی مالی مراعات کا امتزاج ہے۔ سویڈن مائگریشن ایجنسی نے اپنی معلوماتی مہمات میں اضافہ کیا ہے، جس سے پناہ کے مسترد شدہ درخواست دہندگان پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ اب سویڈن میں رہنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ حقیقت کا یہ احساس اور دوبارہ آبادکاری کے لیے ملنے والی امداد نے بہت سے لوگوں کو فیصلہ قبول کرنے اور واپس جانے پر مجبور کیا ہے۔

مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے، یعنی 2026 میں، یہ رجحان مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ حکومت نے واپسی کی گرانٹ (Repatriation Grant) میں بڑے پیمانے پر اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ 2026 سے، وہ افراد جو رضاکارانہ طور پر اپنے آبائی ممالک واپس جائیں گے، وہ تقریبا ساڑھے تین لاکھ سویڈش کرونر تک کی گرانٹ کے اہل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ زیادہ رقم ابھی تک ہر کسی کے لیے مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئی ہے، لیکن اس اعلان نے ہی لوگوں کی سوچ کو تبدیل کر دیا ہے۔ پیغام واضح ہے کہ ریاست رضاکارانہ روانگی کے لیے بڑی رقم ادا کرنے کو تیار ہے، لیکن وہ ان لوگوں کے لیے سخت ڈیپورٹیشن بھی نافذ کرے گی جو انکار کریں گے۔

5. پناہ کی درخواستوں میں کمی اور وسائل کی منتقلی

آخر میں، یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اعداد و شمار کی وسیع تصویر کیا ہے۔ سویڈن آنے والے پناہ کے نئے متلاشیوں کی تعداد تاریخی طور پر کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ 2025 میں یہ تعداد تقریبا چھ سے سات ہزار کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

نئی درخواستوں پر کارروائی کرنے کا بوجھ کم ہونے کی وجہ سے، سویڈن مائگریشن ایجنسی اپنے وسائل کو منتقل کرنے کے قابل ہو گئی ہے۔ وہ عملہ اور فنڈز جو پہلے نئے آنے والوں کو سنبھالنے کے لیے استعمال ہوتے تھے، اب انہیں "واپسی” یا ریٹرن یونٹس میں دوبارہ تعینات کیا جا رہا ہے۔ اس انتظامی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ پرانے کیسز کو تیزی سے نمٹایا جا رہا ہے، اور ڈیپورٹیشن کے احکامات پر زیادہ رفتار اور توجہ کے ساتھ عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

کیا یہ ایک مستقل تبدیلی ہے؟

ہم 2025 کے آخر میں ڈیپورٹیشن میں جو اضافہ دیکھ رہے ہیں، یہ کوئی عارضی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ ایک طویل مدتی پالیسی کی تنظیم نو کا مطلوبہ نتیجہ ہے۔ ٹریک چینجنگ جیسے قانونی راستوں کو بند کر کے، ڈیپورٹیشن کے احکامات کی معیاد میں توسیع کر کے، اور پولیس کو مزید چیکنگ کا اختیار دے کر، سویڈن نے بغیر کسی درست اجازت نامے کے ملک میں رہنا ناممکن حد تک مشکل بنا دیا ہے۔

جیسے ہی ہم 2026 میں داخل ہوں گے، یورپی یونین کے نئے مائگریشن پیکٹ کا نفاذ اور زیادہ واپسی گرانٹس کا ممکنہ تعارف اس رجحان کو مزید مستحکم کرے گا۔ سویڈن میں مقیم غیر ملکی شہریوں کے لیے یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنی قانونی حیثیت کے بارے میں سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔ سویڈن کی حکومت واضح کر چکی ہے کہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور غیر قانونی رہائش کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ویزا وی لاگ ٹیم اپنے قارئین کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ کسی بھی افواہ پر یقین کرنے کے بجائے سویڈن مائگریشن ایجنسی کی ویب سائٹ اور سرکاری پریس ریلیز پر نظر رکھیں۔ آنے والا سال 2026 امیگریشن کے حوالے سے مزید سخت فیصلوں کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔


سویڈن ڈیپورٹیشن اور واپسی گرانٹ 2026: اکثر پوچھے گئے سوالات
سویڈن میں "ٹریک چینجنگ” کے خاتمے کا تارکین وطن پر کیا اثر پڑا ہے؟
ٹریک چینجنگ کے خاتمے کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ پناہ گزین جن کی درخواست مسترد ہو چکی ہے، وہ سویڈن میں قیام کے دوران ورک پرمٹ کے لیے اپلائی نہیں کر سکتے۔ یکم اپریل 2025 سے نافذ ہونے والے اس قانون کی وجہ سے ہزاروں ایسے افراد کو اب ملک چھوڑنا پڑ رہا ہے جو پہلے ملازمت حاصل کر کے اپنی قانونی حیثیت تبدیل کر لیتے تھے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے پناہ کے نظام میں موجود قانونی سقم ختم ہو جائے گا اور لوگ پناہ کے سسٹم کو ورک ویزا کے شارٹ کٹ کے طور پر استعمال نہیں کر سکیں گے۔
ڈیپورٹیشن آرڈر کی معیاد سے متعلق نئے قوانین کیا ہیں؟
ماضی میں سویڈن سے ڈیپورٹیشن کا حکم چار سال بعد ختم ہو جاتا تھا، جس کے بعد لوگ دوبارہ پناہ کی درخواست دے سکتے تھے۔ تاہم، یکم اپریل 2025 کے نئے ضوابط کے تحت اس معیاد کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اب جب تک کوئی فرد سویڈن کی سرزمین پر موجود ہے، اس کا ڈیپورٹیشن آرڈر ختم نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے دوبارہ پناہ مانگنے کا حق ملے گا۔ اس تبدیلی کا مقصد ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو روپوش ہو کر قانونی معیاد ختم ہونے کا انتظار کرتے تھے۔
سویڈن میں پولیس کا "داخلی غیر ملکی کنٹرول” کیا ہے؟
داخلی غیر ملکی کنٹرول سے مراد سویڈن کی پولیس کی جانب سے ملک کے اندر شہروں، پبلک مقامات اور کام کی جگہوں پر کی جانے والی اچانک چیکنگ ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ان افراد کی شناخت کرنا ہے جو ویزا ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر سویڈن میں مقیم ہیں۔ 2026 کے امیگریشن پلان کے تحت پولیس کو ان کنٹرولز کے لیے زیادہ وسائل دیے گئے ہیں تاکہ شیڈو سوسائٹی کا خاتمہ کیا جا سکے اور جن لوگوں کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں انہیں ملک بدر کیا جا سکے۔
رضاکارانہ طور پر واپسی کے لیے 2026 میں کتنی گرانٹ مل سکتی ہے؟
سویڈن کی حکومت نے رضاکارانہ واپسی کی حوصلہ افزائی کے لیے مالی مراعات میں غیر معمولی اضافے کی تجویز دی ہے۔ 2026 سے وہ افراد جو اپنی پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد خود بخود اپنے ملک واپس جانے کا فیصلہ کریں گے، وہ تقریبا ساڑھے تین لاکھ سویڈش کرونر تک کی واپسی گرانٹ کے اہل ہو سکتے ہیں۔ اس بڑی رقم کا مقصد ڈیپورٹیشن کے مہنگے اور طویل عمل سے بچنا اور تارکین وطن کو ان کے اپنے ملک میں دوبارہ آباد کاری میں مدد فراہم کرنا ہے۔
کیا پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد کوئی قانونی راستہ باقی رہتا ہے؟
موجودہ قوانین کے تحت اگر مائگریشن کورٹ سے بھی آپ کی اپیل مسترد ہو جائے تو قانونی طور پر سویڈن میں رہنے کا راستہ تقریبا بند ہو جاتا ہے۔ ٹریک چینجنگ کی سہولت ختم ہونے کے بعد اب آخری آپشن صرف رضاکارانہ واپسی یا جبری ڈیپورٹیشن ہی بچتا ہے۔ سویڈن مائگریشن ایجنسی اب وسائل کو نئے کیسز سے ہٹا کر ریٹرن یونٹس پر لگا رہی ہے تاکہ مسترد شدہ کیسز کے فیصلوں پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے، اس لیے اب روپوش ہونا یا وقت ضائع کرنا مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
سویڈن میں پناہ گزینوں کی تعداد میں تاریخی کمی کی کیا وجہ ہے؟
سویڈن میں پناہ کے نئے متلاشیوں کی تعداد 2025 اور 2026 میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سویڈن کی جانب سے متعارف کرائی گئی سخت امیگریشن پالیسیاں، بارڈر کنٹرول میں اضافہ، اور مستقل رہائش (PR) کے حصول کے لیے سخت شرائط ہیں۔ جب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ سویڈن میں اب پناہ ملنا یا مستقل طور پر آباد ہونا انتہائی مشکل ہے، تو وہ دیگر ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے اب مائگریشن ایجنسی اپنا سارا زور ڈیپورٹیشن اور پرانے کیسز کو نمٹانے پر لگا رہی ہے۔
اگر کسی کو ڈیپورٹیشن کا خط موصول ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے؟
ڈیپورٹیشن کا نوٹس ملنے کی صورت میں سب سے پہلے اپنے قانونی مشیر یا وکیل سے رابطہ کریں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا کوئی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رکاوٹ موجود ہے۔ اگر تمام قانونی راستے ختم ہو چکے ہوں تو سویڈن مائگریشن ایجنسی کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے رضاکارانہ واپسی کا انتخاب کرنا سب سے بہتر ہے کیونکہ اس صورت میں آپ واپسی گرانٹ کے اہل ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں قانونی طریقے سے سویڈن یا شینگن ممالک کے ویزا کے لیے اپلائی کرنے کا حق محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں