spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

🇵🇰 کینیڈا نے (2028 تک) نئے سٹوڈنٹ پرمٹ کیپ میں 65 فیصد کمی کی تجویز دے دی

کینیڈا کا بین الاقوامی تعلیمی شعبہ غیر یقینی صورتحال...

سعودی عرب 2025 میں بھارتی اور پاکستانی ورکرزکی ملک بدری میں عالمی سطح پر سرفہرست

سعودی عرب نے 2025 میں بھارت، پاکستان، یمن اور ایتھوپیا سمیت کئی ممالک کے ورکرز کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ سعودی وزارت داخلہ (MOI) کے مطابق ہزاروں افراد کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔ اقامہ کی خلاف ورزیوں، ویزا اوور سٹے اور ‘حروف’ سے بچنے کے لیے مکمل قانونی گائیڈ Visavlogurdu.com پر ملاحظہ کریں۔

سعودی عرب کی حکومت نے سال 2025 کے دوران اپنی لیبر مارکیٹ کو منظم کرنے اور غیر قانونی تارکین وطن کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی سخت مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔ سعودی وزارت داخلہ (MOI) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار اور بھارتی وزارت خارجہ (MEA) کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق، سعودی عرب اس وقت دنیا بھر میں غیر ملکی ورکرز کو ملک بدر کرنے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ اس مہم کے تحت صرف بھارت سے تعلق رکھنے والے 11,000 سے زائد ورکرز کو واپس بھیج دیا گیا ہے، جبکہ پاکستان، یمن اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ یہ کریک ڈاؤن سعودی ویژن 2030 کا حصہ ہے جس کا مقصد مملکت کے اندر سیکورٹی کو مضبوط بنانا اور صرف ان ورکرز کو رہنے کی اجازت دینا ہے جو قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں۔

بھارتی اور پاکستانی ورکرز کی ملک بدری کے اعداد و شمار

سال 2025 کے پہلے گیارہ مہینوں کے دوران، بھارتی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہونے والے بھارتی شہریوں کی تعداد دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ رہی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ (MEA) کے مطابق، زیادہ تر افراد وہ تھے جن کے اقامے ختم ہو چکے تھے یا وہ اپنے اصل کفیلوں کے بجائے کسی دوسری جگہ کام کر رہے تھے۔

دوسری جانب، پاکستان کی وزارت سمندر پار پاکستانیز اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ 2025 میں تقریباً 24,000 سے زائد پاکستانیوں کو سعودی عرب سے بے دخل کیا گیا۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ان افراد کی تھی جو عمرہ ویزا پر آکر واپس نہیں گئے تھے یا جو وہاں غیر قانونی سرگرمیوں، جیسے کہ بھیک مانگنا، میں ملوث پائے گئے۔ سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ اب کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کریں گے جو مملکت کے قانون اور وقار کے خلاف ہو۔

‘قوم بغیر کسی خلاف ورزی کرنے والے کے’ مہم کی تفصیلات

سعودی عرب میں جاری اس کریک ڈاؤن کو "قوم بغیر کسی خلاف ورزی کرنے والے کے” (A Nation Without Violators) کا نام دیا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت سعودی سیکورٹی فورسز، جن میں پولیس، پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ (جوازات) اور وزارت محنت کے انسپکٹرز شامل ہیں، روزانہ کی بنیاد پر مختلف شہروں میں چھاپے مار رہے ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ (MOI) کی ہفتہ وار رپورٹوں کے مطابق، ہر ہفتے اوسطاً 15,000 سے 20,000 افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

گرفتار ہونے والوں کو تین اہم زمروں (category) میں تقسیم کیا گیا ہے:

  1. رہائشی قوانین کی خلاف ورزی: وہ افراد جن کا اقامہ ختم ہو چکا ہے یا جن کے پاس سرے سے کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے۔
  2. لیبر قوانین کی خلاف ورزی: وہ ورکرز جو اپنے قانونی آجر (کفیل) کے بجائے کسی اور کے پاس کام کرتے پائے گئے۔
  3. سرحدی سیکورٹی کی خلاف ورزی: وہ افراد جو سرحد عبور کر کے غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہوئے، جن میں اکثریت یمنی اور ایتھوپیا کے شہریوں کی ہے۔

سرحدی سیکورٹی اور دیگر قومیتوں کا کریک ڈاؤن

اگرچہ جنوبی ایشیا کے ورکرز کی تعداد کافی ہے، لیکن سرحدی خلاف ورزیوں میں یمن اور ایتھوپیا کے شہری سرفہرست ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق، سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے والے 97 فیصد افراد کا تعلق ان دو ممالک سے ہوتا ہے۔ سعودی عرب نے اپنی جنوبی سرحدوں پر باڑ اور اے آئی (AI) ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا دیا ہے تاکہ غیر قانونی داخلے کو روکا جا سکے۔ 2025 میں اب تک 50,000 سے زائد ایتھوپیائی شہریوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے واپس ان کے ملک بھیجا جا چکا ہے۔

ویژن 2030 اور لیبر مارکیٹ کی ڈیجیٹلائزیشن

سعودی عرب کی حکومت نے ویژن 2030 کے تحت لیبر مارکیٹ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا ہے۔ اب ہر ورکر کا ڈیٹا قویٰ (Qiwa) پلیٹ فارم اور مساند (Musaned) پر موجود ہونا لازمی ہے۔ اس نظام کا مقصد ‘آزاد ویزا’ جیسی غیر قانونی روایات کو ختم کرنا ہے، جہاں ورکرز ویزا خرید کر سعودی عرب آتے تھے اور پھر کسی بھی جگہ کام کرتے تھے۔

اب اگر کوئی ورکر کسی ایسی کمپنی میں کام کرتا ہے جہاں اس کا ڈیجیٹل کنٹریکٹ موجود نہیں ہے، تو اسے فوری طور پر ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔ وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی (MHRSD) نے آجروں کو بھی متنبہ کیا ہے کہ غیر قانونی ورکرز کو ملازمت دینے پر 100,000 ریال تک کا جرمانہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ملک بدری کی بڑی وجوہات اور ان سے بچنے کا طریقہ

2025 میں ورکرز کی واپسی کی سب سے بڑی وجہ ‘حروف’ (Huroob) بنی ہے۔ جب کوئی ورکر اپنے کفیل سے ناراض ہو کر یا بہتر تنخواہ کے لالچ میں کام چھوڑ دیتا ہے، تو کفیل اسے ‘مفرور’ قرار دے کر اس کا اسٹیٹس حروف میں تبدیل کر دیتا ہے۔ سعودی وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ ایک بار حروف لگنے کے بعد ورکر کے پاس واپسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔

اس سے بچنے کے لیے ورکرز کو چاہیے کہ:

  • اپنا اسٹیٹس باقاعدگی سے [suspicious link removed] پر چیک کریں۔
  • کفیل کے ساتھ کسی بھی تنازع کی صورت میں خود کام چھوڑنے کے بجائے لیبر کورٹ سے رجوع کریں۔
  • کبھی بھی ایسے ویزے پر سفر نہ کریں جسے ایجنٹ ‘آزاد ویزا’ کہہ کر فروخت کر رہے ہوں۔

حکومت ہند اور پاکستان کے سفارتی اقدامات

بھارتی سفارت خانہ ریاض اور قونصل خانہ جدہ نے ان ورکرز کی واپسی کے لیے خصوصی سیل قائم کر رکھے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بھارتی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف ای-مائیگریٹ (eMigrate) پورٹل کے ذریعے ہی اپنی ملازمت کی تصدیق کریں۔

اسی طرح پاکستانی حکومت نے بھی سعودی حکام کے ساتھ مل کر ایک ایسا میکانزم تیار کیا ہے جس کے تحت ان پاکستانیوں کو واپس لایا جا رہا ہے جو ویزا ختم ہونے کے بعد وہاں پھنس گئے تھے۔ پاکستان کا بیورو آف امیگریشن اب ایجنٹوں کی سخت اسکریننگ کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے جو ملکی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

سخت سزائیں اور جرمانے (2025 اپ ڈیٹ)

2025 میں سعودی حکومت نے سزاؤں کے نظام کو مزید سخت کر دیا ہے۔ غیر قانونی طور پر رہنے والوں کے لیے درج ذیل سزائیں مقرر کی گئی ہیں:

  1. پہلی بار خلاف ورزی: 15,000 ریال جرمانہ اور ملک بدری۔
  2. دوسری بار خلاف ورزی: 25,000 ریال جرمانہ، قید اور ملک بدری۔
  3. تیسری بار یا اس سے زیادہ: 50,000 ریال جرمانہ، 6 ماہ قید اور تاحیات پابندی۔

ان سزاؤں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی شخص مملکت کے قوانین کو ہلکا نہ لے۔ سعودی وزارت داخلہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی مقیم شخص کی اطلاع 911 یا 999 پر دیں، اور ایسی معلومات فراہم کرنے والوں کے نام صیغہ راز میں رکھے جائیں گے۔

خلاصہ اور مستقبل کی صورتحال

سعودی عرب کی جانب سے بھارتی اور پاکستانی ورکرز کی اس بڑے پیمانے پر ملک بدری یہ پیغام دیتی ہے کہ اب سعودی عرب میں صرف قانون کی پاسداری کرنے والے ہی رہ سکیں گے۔ ویژن 2030 کے تحت سعودی معیشت کو جدید بنایا جا رہا ہے اور اس میں غیر دستاویزی مزدوری کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جو ورکرز قانونی طریقے سے وہاں مقیم ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا رہا ہے، لیکن جو لوگ قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ان کے لیے 2025 اور آنے والے سال مزید مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں یا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ہمیشہ سرکاری ویب سائٹس جیسے وزارت داخلہ اور [suspicious link removed] سے اپنی معلومات کی تصدیق کریں۔ اپنی قانونی حیثیت کو برقرار رکھنا ہی آپ کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔


سعودی عرب سے ملک بدری: کثرت سے پوچھے گئے سوالات (FAQ)
1. سعودی عرب سے بھارتی اور پاکستانی ورکرز کو ڈی پورٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟
سعودی عرب کی وزارت داخلہ (MOI) نے 2025 میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ایک وسیع مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد ان افراد کو نکالنا ہے جو اقامہ کی مدت ختم ہونے کے باوجود مقیم ہیں یا جو لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اصل کفیل کے بجائے کہیں اور کام کر رہے ہیں۔ بھارتی اور پاکستانی ورکرز کی بڑی تعداد اس لیے متاثر ہو رہی ہے کیونکہ وہ اکثر ایجنٹوں کے دھوکے میں آکر ‘آزاد ویزا’ پر آتے ہیں جو کہ اب سعودی قانون میں مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔
2. کیا ڈی پورٹ ہونے والے ورکرز دوبارہ سعودی عرب واپس آ سکتے ہیں؟
سعودی عرب کے موجودہ قوانین کے تحت، جو افراد اقامہ یا لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر ڈی پورٹ کیے جاتے ہیں، ان پر عام طور پر تاحیات پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ ایسے افراد کو ‘ڈی پورٹیشن سینٹر’ (شمیسی) کے ذریعے واپس بھیجا جاتا ہے جہاں ان کے فنگر پرنٹس اور بائیومیٹرک ڈیٹا محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ اس پابندی کے بعد وہ دوبارہ کسی بھی قسم کے ویزے پر مملکت میں داخل نہیں ہو سکتے، سوائے ان مخصوص حالات کے جہاں حکومت کی جانب سے عام معافی کا اعلان کیا گیا ہو۔
3. اقامہ (Iqama) کی مدت ختم ہونے پر کتنا جرمانہ عائد ہوتا ہے؟
اقامہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے فوری تجدید نہ کروانے پر پہلی بار 500 ریال جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ دوسری بار یہی غلطی دہرانے پر جرمانہ دگنا یعنی 1000 ریال ہو جاتا ہے، اور اگر تیسری بار بھی اقامہ تجدید نہ ہو تو ورکر کو جرمانے کے ساتھ فوری طور پر ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق، یہ تمام جرمانے اور تجدید کی فیس ادا کرنا آجر (کفیل) کی قانونی ذمہ داری ہے، ورنہ اسے بھی بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
4. ‘حروف’ (Huroob) کا اسٹیٹس کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
حروف اس وقت لگایا جاتا ہے جب کوئی کفیل اپنے ورکر کو ‘کام سے مفرور’ قرار دے کر وزارت انسانی وسائل (MHRSD) میں رپورٹ درج کرا دیتا ہے۔ ایک بار حروف لگنے کے بعد ورکر کا اقامہ اور انشورنس منسوخ ہو جاتا ہے اور وہ کسی بھی وقت گرفتار ہو کر ڈی پورٹ ہو سکتا ہے۔ اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنا اسٹیٹس ‘ابشر’ یا ‘قویٰ’ پلیٹ فارم پر باقاعدگی سے چیک کریں اور اگر کفیل کے ساتھ کوئی تنازع ہو تو اسے فوری طور پر لیبر کورٹ میں رجسٹر کرائیں تاکہ وہ آپ پر حروف نہ لگا سکے۔
5. کیا ویزا اوور سٹے (Overstay) کرنے پر جیل کی سزا بھی ہو سکتی ہے؟
جی ہاں، سعودی عرب میں ویزا قوانین کی خلاف ورزی پر صرف جرمانہ ہی نہیں بلکہ جیل کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ عمرہ، حج یا وزٹ ویزا پر آنے والے افراد اگر ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی قیام کریں تو انہیں 50 ہزار ریال تک جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے بعد انہیں ملک بدر کر دیا جاتا ہے اور ان کے دوبارہ داخلے پر سخت پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں، اس لیے ہمیشہ ویزا کی میعاد ختم ہونے سے پہلے واپسی یقینی بنائیں۔
6. بھارتی اور پاکستانی حکومتیں ڈی پورٹ ہونے والے شہریوں کی کیا مدد کر رہی ہیں؟
دونوں ممالک کے سفارت خانے اور قونصل خانے ان ورکرز کی مدد کے لیے ‘ایمرجنسی سرٹیفکیٹ’ یا آؤٹ پاس جاری کرتے ہیں جن کے پاسپورٹ کفیلوں نے ضبط کر رکھے ہوتے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کا ‘ای-مائیگریٹ’ پورٹل اور پاکستان کی بیورو آف امیگریشن ورکرز کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ غیر قانونی ایجنٹوں سے بچیں۔ سفارت خانے اکثر سعودی حکام کے ساتھ مل کر ان ورکرز کی تنخواہوں اور بقایا جات کی ادائیگی کے لیے بھی قانونی چارہ جوئی کرتے ہیں تاکہ وہ خالی ہاتھ واپس نہ جائیں۔
7. ‘قویٰ’ (Qiwa) پلیٹ فارم کے ذریعے ورکرز اپنا قانونی تحفظ کیسے کر سکتے ہیں؟
قویٰ (Qiwa) پلیٹ فارم سعودی وزارت انسانی وسائل کا ایک جدید نظام ہے جہاں ہر ورکر کا ڈیجیٹل لیبر کنٹریکٹ موجود ہونا ضروری ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ورکرز اپنی ملازمت کی شرائط دیکھ سکتے ہیں اور اگر وہ اپنی کمپنی تبدیل کرنا چاہیں تو بغیر کفیل کی مرضی کے (مخصوص شرائط کے تحت) ٹرانسفر بھی لے سکتے ہیں۔ اپنے معاہدے کو قویٰ پر رجسٹرڈ رکھنا ملک بدری اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کا سب سے بہترین اور محفوظ طریقہ ہے کیونکہ یہ آپ کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں