spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

2025 میں برطانیہ میں نیٹ مائگریشن 204,000 تک گر گئی: سرکاری ONS ڈیٹا کی تفصیل

2025 میں برطانیہ میں نیٹ مائگریشن میں ریکارڈ کمی:...

IELTS ا سکینڈل: دو سال تک غلط سکور فراہم کرتا رہا

انٹرنیشنل انگلش لینگویج ٹیسٹنگ سسٹم (IELTS) کی تنظیم—جو دنیا...

"ڈیپورٹیشن ٹریپ” کا طریقہ کار: معمول کی عدالتیں کیسے گرفتاری کے مراکز بن گئیں

امیگریشن عدالتیں یا ڈیپورٹیشن کا جال؟ تفصیلی جائزہحالیہ رپورٹوں...

جنوبی کوریا کا عالمی تعلیم میں تاریخی قدم: 3 لاکھ بین الاقوامی طلباء کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا

جنوبی کوریا نے باضابطہ طور پر عالمی تعلیم کے میدان میں ایک بڑا قدم رکھتے ہوئے، 2027 کے مقررہ ہدف سے تقریباً دو سال قبل ہی 300,000 بین الاقوامی طلباء کی میزبانی کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔ اگست 2025 میں حاصل ہونے والا یہ تاریخی سنگ میل کوریا کے لیے ایک غیر معمولی علامتی فتح ہے، جس نے اسے جاپان اور سنگاپور جیسے پہلے سے قائم تعلیمی مراکز کی صف میں لا کھڑا کیا ہے اور دنیا بھر میں طلباء کے رجحانات میں ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی بھی کرتی ہ

یہ تعداد عالمی سطح پر اہم ہے۔ جب امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک اپنی ویزا پالیسیوں کو سخت کر رہے ہیں، اور طلباء کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیاسی غیر یقینی کا سامنا ہے، تب کوریا کی یہ کامیابی دنیا کو یہ بتاتی ہے کہ ایک سمارٹ، مربوط حکمت عملی کس طرح ایک ملک کو تیزی سے عالمی تعلیم کے نقشے پر ابھار سکتی ہے۔ یہ صرف ایک تعداد نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر سے ہنر اور ٹیلنٹ کو راغب کرنے کے لیے جنوبی کوریا کی سیاسی اور ثقافتی کوششوں کا ثمر ہے۔


حکمت عملی کا گہرا جائزہ: سٹڈی کوریا 300K پروگرام

بین الاقوامی طلباء کی تعداد میں یہ بے مثال اضافہ محض اتفاقی نہیں ہے؛ یہ 2023 میں شروع کیے گئے حکومتی پروگرام "سٹڈی کوریا 300K” کے تحت دانستہ طور پر تیار کردہ حکمت عملی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ اس حکمت عملی کی بنیاد صرف زیادہ طلباء کو لانا نہیں تھی بلکہ ملکی آبادی میں کمی (Demographic Decline) اور مقامی مزدوروں کی کمی (Labour Shortage) جیسے اہم چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بہترین عالمی ٹیلنٹ کو راغب کرنا تھا۔

حکومتی پالیسیوں میں کلیدی تبدیلیاں کی گئیں جنہوں نے ملک کو غیر ملکی طلباء کے لیے انتہائی قابل رسائی بنا دیا:

1. ویزا میں نرمی اور مالیاتی تقاضے

  • D-2 سٹوڈنٹ ویزا میں آسانی: کوریا نے D-2 سٹوڈنٹ ویزا کے لیے مالیاتی تقاضوں میں نمایاں نرمی کی۔ اس کا مطلب تھا کہ طلباء کو ویزا درخواست کے وقت بینک اکاؤنٹ میں فنڈز کی سخت شرائط کو پورا کرنے میں زیادہ آسانی ملی۔
  • سادہ ضوابط: ویزا کے عمل کو آسان بنانے کے لیے قواعد و ضوابط میں نرمی لائی گئی، جس سے طلباء کے لیے طویل اور پیچیدہ کاغذی کارروائی سے بچنا ممکن ہوا۔

2. توسیع شدہ کام کے حقوق اور ملازمت کے بعد کے راستے

طلباء کے لیے سب سے بڑی کشش، اور امیگریشن کی کامیابی کی کلید، کام کے حقوق اور مستقل قیام کے امکانات ہوتے ہیں۔ کوریا نے اس پہلو پر خاص توجہ دی:

  • کام کے اوقات میں اضافہ: ان گھنٹوں کی تعداد کو بڑھایا گیا جن کے دوران طلباء اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ کام کر سکتے تھے۔
  • پوسٹ سٹڈی ورک پرمٹ (Post-Study Pathways): گریجویشن کے بعد روزگار تلاش کرنے کے لیے دستیاب وقت کی مدت کو بڑھا دیا گیا، جس سے بین الاقوامی ہنر مندوں کو ملازمت حاصل کرنے اور بالآخر رہائشی حیثیت حاصل کرنے کا بہتر موقع ملا۔

3. ادارہ جاتی مدد اور ہدف شدہ بھرتی

حکومت نے یونیورسٹیوں کو بھی فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی:

  • انگریزی میں پڑھائے جانے والے پروگرامز: یونیورسٹیوں کو نئے انگریزی زبان میں پڑھائے جانے والے ڈگری پروگرامز (English-taught Programs) بنانے کے لیے ضوابط میں نرمی دی گئی، جس سے ان طلباء کو راغب کیا گیا جو کورین زبان میں روانی نہیں رکھتے۔

K-Wave: تعلیمی کشش کا ثقافتی مقناطیس

کوریا کی کامیابی کو صرف حکومتی پالیسیوں کے ذریعے بیان نہیں کیا جا سکتا؛ اسے ملک کی بے مثال ثقافتی طاقت، جسے K-Wave (کورین ویو) کہا جاتا ہے، نے بھی تقویت بخشی ہے۔ K-pop، K-drama، اور K-beauty نے کوریا کو ایک "خواہش مندانہ منزل” (Aspirational Destination) کے طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

  • عالمی برانڈنگ: لاکھوں نوجوان کورین ثقافت کو براہ راست تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔
  • لائف اسٹائل عوامل: مغربی ممالک کے مقابلے میں کوریا کو محفوظ، اعلیٰ ٹیکنالوجی والا، اور نسبتاً سستی منزل سمجھا جاتا ہے۔
  • درجہ بندی میں عروج: سیئول نے QS کی بہترین طالب علم شہروں کی درجہ بندی (Best Student City Rankings) میں سرفہرست مقام حاصل کیا، جو سابقہ ​​فرنٹ رنر لندن کو پیچھے چھوڑ گیا۔

یہ عوامل مل کر جنوبی کوریا کو ایک محفوظ، ثقافتی طور پر پرکشش، اور تعلیمی طور پر مضبوط متبادل بنا رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی مہنگائی بڑھ رہی ہے۔


طویل مدتی چیلنج: پائیداری اور روزگار (Sustainability and Employability)

اس تاریخی سنگ میل کے باوجود، ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ اگلا اور سب سے بڑا چیلنج پائیداری (Sustainability) کا ہے۔ ملک میں اب اتنی بڑی تعداد میں بین الاقوامی ٹیلنٹ موجود ہے، لیکن طویل مدتی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کوریا ان طلباء کو پیشہ ورانہ طور پر کس قدر اچھی طرح سے مدد فراہم کرتا ہے۔

  • برین ڈرین کا خطرہ: ایک حالیہ سروے میں، دس میں سے نو طلباء نے کوریا میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہیں رہنے اور کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اگر حکومت اور آجر ان خواہشات کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو کوریا کو "برین ڈرین” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
  • ملازمت کا چیلنج: بین الاقوامی طلباء کو روزگار کے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ آجروں میں ویزا قوانین، ملازمت کے کوڈز (Job Codes)، اور تنخواہ کی حدوں (Wage Thresholds) کے بارے میں علم کی کمی ہے، جو گریجویٹس کو مؤثر طریقے سے ملازمت دینے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ حکومت کو اب سخت قانون سازی اور آگاہی مہمات کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

اس 300,000 کے ہدف کا وقت سے پہلے حاصل ہونا کوریا کی کامیابی ہے، لیکن اس کی حقیقی قدر تب ہی قائم ہو گی جب کوریا اپنی پالیسیوں کو ہنر کی درآمد (Import) سے ہنر کے انضمام (Integration) کی طرف منتقل کرے۔


حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں