spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

سویڈن کی واپسی گرانٹ یکم جنوری 2026 سے بڑھا دی جائے گی—دھوکہ دہی کے خلاف سخت نئے اقدامات

سویڈش مائیگریشن ایجنسی (Migrationsverket) رضاکارانہ واپسی سکیم، جسے مقامی...

سویڈن میں پرمیننٹ ریذیڈنس (PR) حاصل کرنا کیوں مشکل ہو رہا ہے؟

سویڈن کی حکومت نے 2026 میں اپنی امیگریشن پالیسیوں...

سویڈن فیملی ری یونین 2026: آمدنی اور رہائش کی شرائط کی مکمل گائیڈ

سویڈن میں مقیم غیر ملکیوں اور سویڈش شہریوں کے...

جرمنی فیملی ری یونین ویزا 2025: اہلیہ، بچوں اور والدین کو بلانے کا مکمل طریقہ کار اور شرائط

جرمنی میں نئے بسنے والوں کے لیے اکیلے رہنا اکثر مشکل ہوتا ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ جرمن حکومت آپ کو اپنے خاندان کو ساتھ رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ اسے فیملی ری یونین ویزا یا جرمن زبان میں فیملی این زوسامن فیورنگ کہا جاتا ہے۔ یہ ویزا ان لوگوں کے لیے ہے جو جرمنی میں قانونی طور پر رہ رہے ہیں اور اپنے جیون ساتھی، بچوں اور کچھ خاص حالات میں اپنے والدین کو وہاں بلانا چاہتے ہیں۔ تاہم اس ویزا کا حصول آسان نہیں ہے اور اس کے لیے آپ کو رہائش اور آمدنی کی سخت شرائط پوری کرنی ہوتی ہیں۔ یہاں ہم آپ کو فیڈرل فارن آفس کے قوانین کے مطابق تمام تفصیلات بتا رہے ہیں۔

کون درخواست دینے کا اہل ہے؟

اس ویزا کے لیے اہلیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ خود جرمنی میں کس ویزا پر رہ رہے ہیں۔ اگر آپ کے پاس جرمنی کی مستقل رہائش ہے تو یہ عمل آسان ہو جاتا ہے۔ آپ یہاں جرمنی میں مستقل رہائش یا پی آر حاصل کرنے کے طریقے کے بارے میں تفصیل پڑھ سکتے ہیں۔ عام طور پر شریک حیات اور نابالغ بچوں کو بلایا جا سکتا ہے۔ 2025 کے نئے قوانین کے مطابق اگر آپ کے پاس جرمنی بلیو کارڈ ہے یا آپ یکم مارچ 2024 کے بعد بطور سکلڈ ورکر جرمنی آئے ہیں تو آپ اب اپنے والدین اور ساس سسر کو بھی بلا سکتے ہیں بشرطیکہ آپ ان کا مکمل خرچ اٹھا سکیں۔

ویزا کی تین بڑی شرائط

اس ویزا کو حاصل کرنے کے لیے تین بنیادی چیزیں پوری ہونا ضروری ہیں۔ سب سے پہلے رہائش کا سائز ہے۔ آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کے پاس رہنے کے لیے مناسب جگہ موجود ہے۔ سرکاری قانون کے مطابق ہر چھ سال سے بڑے فرد کے لیے 12 مربع میٹر اور چھ سال سے چھوٹے بچے کے لیے 10 مربع میٹر جگہ ہونا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ میاں بیوی اور دو بچے ہیں تو آپ کا اپارٹمنٹ کم از کم 44 مربع میٹر کا ہونا چاہیے۔ اس کے لیے آپ کو کرائے کا ایگریمنٹ دکھانا ہوگا۔

مزید پڑھئے 

دوسری شرط مالی استحکام ہے۔ آپ کی تنخواہ اتنی ہونی چاہیے کہ کرایہ اور ہیلتھ انشورنس نکالنے کے بعد بھی آپ کے پاس اتنے پیسے بچیں کہ آپ کو حکومت سے مدد نہ مانگنی پڑے۔ اگر آپ جرمنی کا کوالیفائیڈ پروفیشنلز کے لیے ورک ویزا رکھتے ہیں تو آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کی نوکری پکی ہے اور آپ پروبیشن پر نہیں ہیں۔

تیسری شرط زبان کی ہے۔ جرمنی آنے والے شریک حیات کو عام طور پر اے ون لیول کا جرمن زبان کا سرٹیفکیٹ دکھانا ہوتا ہے۔ تاہم اگر بلانے والے کے پاس بلیو کارڈ ہے یا وہ ہائیلی سکلڈ ورکر ہے تو زبان کی یہ شرط ختم ہو جاتی ہے۔

درخواست دینے کا طریقہ

آپ کو یہ درخواست اپنے ملک میں موجود جرمن سفارت خانے میں جمع کروانی ہوتی ہے۔ سب سے پہلے آپ کو ویڈیکس فارم آن لائن پر کرنا ہوگا اور اس کا پرنٹ نکالنا ہوگا۔ اس کے بعد آپ کو جرمن ایمبسی کی ویب سائٹ سے اپوائنٹمنٹ لینی ہوگی۔ پاکستان اور انڈیا جیسے ممالک میں اپوائنٹمنٹ ملنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اس لیے جلد از جلد اپلائی کریں۔ انٹرویو کے دن آپ کو نکاح نامہ، پاسپورٹ، اور جرمنی میں مقیم سپانسر کے کاغذات جمع کروانے ہوں گے۔ یاد رہے کہ نکاح نامہ آپ کے ملک کے دفتر خارجہ سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے۔

فیس اور دیگر اخراجات

بالغ افراد کے لیے ویزا فیس 75 یورو ہے جبکہ بچوں کے لیے یہ فیس ساڑھے سینتیس یورو ہے۔ اگر آپ کا شریک حیات جرمن یا یورپی شہری ہے تو ویزا فیس معاف ہوگی۔ ویزا لگنے کے بعد جب آپ کی فیملی جرمنی پہنچ جائے تو سب سے پہلے انہیں سٹی آفس میں رجسٹر کروائیں اور پھر ویزا کو ایک پلاسٹک ریزیڈنس کارڈ میں تبدیل کروائیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

یہ ممکن ہے لیکن بہت مشکل ہے۔ طالب علم کے طور پر آپ کو ہر فیملی ممبر کے لیے ایک الگ بلاکڈ اکاؤنٹ کھولنا ہوگا جس میں تقریباً بارہ ہزار یورو فی کس جمع کروانے ہوں گے۔ اس کے علاوہ بڑے گھر کا بندوبست کرنا بھی ایک طالب علم کے لیے مشکل ہوتا ہے۔

جی ہاں یہ اس ویزا کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔ جو حقوق سپانسر کے پاس ہوتے ہیں وہی اس کے پارٹنر کو ملتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس کام کی اجازت ہے تو آپ کے پارٹنر کو بھی آتے ہی کام کرنے کی مکمل اجازت مل جائے گی اور وہ جرمنی اپرچونٹی کارڈ 2025 کے بغیر بھی براہ راست نوکری کر سکتے ہیں۔

جی ہاں بالکل۔ بلکہ اگر آپ کے پاس پی آر ہے تو فیملی ویزا لگنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ جرمنی میں مکمل طور پر سیٹل ہو چکے ہیں۔

اگر آپ کے کاغذات مکمل ہیں اور میرج سرٹیفکیٹ کی تصدیق میں کوئی مسئلہ نہیں ہے تو عام طور پر تین سے چھ ماہ لگتے ہیں۔ لیکن اگر ایمبسی کو کاغذات کی چھان بین کرنی پڑے تو ایک سال تک کا وقت بھی لگ سکتا ہے۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں