spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

برطانیہ کی نئی امیگریشن اور ویزا پالیسی.تمام تبدیلیاں تفصیل کے ساتھ.۔

برطانوی home office نے برطانوی امیگریشن سسٹم میں دہائیوں...

عالمی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیاں: نومبر 2025 کا خلاصہ اور ٹائم لائن

نومبر 2025 کے لیے تازہ ترین رپورٹس اور حکومتی...

IELTS ا سکینڈل: دو سال تک غلط سکور فراہم کرتا رہا

انٹرنیشنل انگلش لینگویج ٹیسٹنگ سسٹم (IELTS) کی تنظیم—جو دنیا...

برطانیہ کی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود: میرپور سے وزارتِ داخلہ تک کا سفر

برطانوی سیاست میں شبانہ محمود کا نام ایک نئی تاریخ رقم کر چکا ہے۔ ستمبر 2025 میں انہیں برطانیہ کی ہوم سیکرٹری (وزیرِ داخلہ) مقرر کیا گیا، جو کہ برطانوی حکومت کے چار سب سے اہم عہدوں (Great Offices of State) میں سے ایک ہے۔ وہ یہ منصب سنبھالنے والی پہلی برطانوی مسلمان خاتون ہیں۔

ذیل میں ان کی زندگی کی تفصیلی کہانی اور ان کی حالیہ "سخت گیر” پالیسیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔


1. خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی (Family Roots & Early Life)

شبانہ محمود 17 ستمبر 1980 کو برمنگھم، انگلینڈ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی کہانی ایک عام تارکِ وطن خاندان کی جدوجہد اور کامیابی کی بہترین مثال ہے۔

  • کشمیری نژاد: ان کے والدین کا تعلق میرپور، آزاد کشمیر سے ہے۔ ان کے والد محمود احمد اور والدہ زبیدہ احمد، 1970 کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہوئے تھے۔
  • سعودی عرب میں بچپن: شبانہ کی پیدائش کے فوراً بعد ان کا خاندان طائف، سعودی عرب منتقل ہو گیا، جہاں ان کے والد بطور سول انجینئر پانی صاف کرنے کے منصوبوں (Desalination projects) پر کام کرتے تھے۔ شبانہ نے اپنی زندگی کے پہلے پانچ سال (1981-1986) وہیں گزارے۔
  • برمنگھم واپسی: جب وہ سات سال کی تھیں تو خاندان واپس برمنگھم (Small Heath) آ گیا۔ یہاں ان کے والدین نے ایک کریانہ کی دکان (Corner shop) خریدی۔ شبانہ اکثر اپنی والدہ کے ساتھ دکان پر ہاتھ بٹاتی تھیں، جبکہ ان کے والد مقامی لیبر پارٹی میں متحرک ہو گئے اور پارٹی کے چیئرمین بنے۔ سیاسی ماحول انہیں گھر سے ہی ورثے میں ملا۔

2. تعلیم اور وکالت (Education & Legal Career)

شبانہ کی تعلیمی کامیابی محنت کا نتیجہ تھی۔ شروع میں وہ "11-پلس” کا امتحان پاس نہ کر سکیں، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

  • آکسفورڈ کا سفر: انہوں نے اپنی قابلیت کی بنا پر کنگ ایڈورڈ VI کیمپ ہل سکول فار گرلز میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے دنیا کی بہترین یونیورسٹی آکسفورڈ (لنکن کالج) سے قانون (Law) کی ڈگری حاصل کی۔
  • قیادت کا آغاز: آکسفورڈ میں وہ طلبہ یونین (JCR) کی صدر منتخب ہوئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم رشی سونک بھی اسی کالج میں ان سے ایک سال سینئر تھے اور انہوں نے شبانہ کو ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا۔
  • بیرسٹر: سیاست میں آنے سے پہلے وہ ایک کامیاب بیرسٹر تھیں اور پیشہ ورانہ مقدمات (Professional Indemnity) کی ماہر سمجھی جاتی تھیں۔

3. سیاسی عروج (Political Rise)

  • تاریخ ساز انتخاب (2010): صرف 29 سال کی عمر میں وہ برمنگھم لیڈی ووڈ (Birmingham Ladywood) سے ممبر پارلیمنٹ (MP) منتخب ہوئیں۔ وہ برطانیہ کی تاریخ کی پہلی تین مسلمان خواتین ایم پیز میں سے ایک تھیں۔
  • اصولوں کی سیاست: وہ لیبر پارٹی کے اس گروپ ("Blue Labour”) سے تعلق رکھتی ہیں جو معاشرتی اقدار پر قدامت پسند اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے جیریمی کوربن کے دورِ قیادت میں اختلافات کی بنا پر شیڈو کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا، جو ان کے مضبوط کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
  • اسٹارمر کی دستِ راست: جب کیئر اسٹارمر پارٹی لیڈر بنے، تو شبانہ نے پارٹی کی انتخابی مہم (Campaign Coordinator) کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جولائی 2024 میں انہیں لارڈ چانسلر اور وزیر انصاف بنایا گیا، جو کسی بھی مسلمان خاتون کے لیے پہلا اعزاز تھا۔

4. ہوم سیکرٹری اور موجودہ خبریں (Current News & Policies)

اب، بطور ہوم سیکرٹری، شبانہ محمود امیگریشن کے حوالے سے لیبر پارٹی کی "اب تک کی سب سے سخت پالیسیوں” کا چہرہ بن چکی ہیں۔ ان کی وزارت کی اہم اپ ڈیٹس درج ذیل ہیں:

  • "گینگز کا خاتمہ” (Smash the Gangs): انہوں نے تارکین وطن کو غیر قانونی طریقے سے لانے والے گروہوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک نئی "بارڈر سکیورٹی کمانڈ” بنائی گئی ہے جو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
  • شہریت کے حصول میں سختی: ان کی نئی پالیسی کے تحت، برطانیہ میں مستقل رہائش (Indefinite Leave to Remain) حاصل کرنے کا دورانیہ 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے کی تجویز ہے۔
  • ویزوں کی بندش: شبانہ محمود نے ان ممالک کو خبردار کیا ہے جو اپنے ڈیپورٹ ہونے والے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایسے ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا کا حصول روک دیا جائے گا۔

شبانہ محمود کا سفر میرپور کی بیٹی سے برطانیہ کی طاقتور ترین وزیر بننے تک کا سفر ہے۔ اگرچہ وہ خود تارکین وطن کی اولاد ہیں، لیکن بطور وزیر ان کا مؤقف ہے کہ قانونی راستوں کا تحفظ کرنے کے لیے غیر قانونی راستوں کو سختی سے بند کرنا ضروری ہے۔

حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں