spot_img

تازہ ترین

مزید پڑھئے

برطانیہ کی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود: میرپور سے وزارتِ داخلہ تک کا سفر

برطانوی سیاست میں شبانہ محمود کا نام ایک نئی...

پولینڈ کو یورپی یونین کے مہاجرین کی منتقلی کے کوٹہ سے استثنا:

یورپی یونین نے پولینڈ پر پڑنے والے بڑے نقل...

دنیا کا کونسا ملک آسانی سے گولڈن ویزا دے سکتا ہے ؟

جب سرمایہ کار دوسرا پاسپورٹ منتخب کرتے ہیں، تو...

برطانیہ کا نیا امیگریشن پلان 2025: "مستقل رہائش” (ILR) کا خواب 10 سال دور، سرکاری مراعات پر پابندی – ایک تفصیلی جائزہ

برطانیہ کی تاریخ میں امیگریشن کے حوالے سے شاید ہی کبھی اتنی بڑی تبدیلی آئی ہو جتنی کہ نومبر 2025 میں دیکھنے کو ملی ہے۔ برطانیہ کی لیبر حکومت کی ہوم سیکرٹری، شبانہ محمود، جو خود پاکستانی نژاد ہیں، نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر ایک ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جس نے لاکھوں تارکین وطن کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ان کے الفاظ بہت واضح اور سخت تھے: "برطانیہ میں مستقل رہائش (Settlement) کوئی حق نہیں، بلکہ ایک اعزاز (Privilege) ہے جسے کمانا پڑتا ہے۔”

یہ نیا منصوبہ جسے "Earned Settlement Framework” کا نام دیا گیا ہے، گزشتہ 50 سالوں میں برطانوی شہریت اور ویزا سسٹم کا سب سے بڑا "اوور ہال” (Overhaul) ہے۔ اگر آپ برطانیہ جانے کا سوچ رہے ہیں یا وہاں پہلے سے موجود ہیں، تو یہ تفصیلات آپ کے لیے جاننا زندگی اور موت کا مسئلہ ہو سکتی ہیں۔ ذیل میں ہم اس نئے قانون کے ہر پہلو کا سرکاری حوالہ جات کے ساتھ گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں۔

1. "ارنڈ سیٹلمنٹ” (Earned Settlement) کا نیا فلسفہ کیا ہے؟

ماضی میں، برطانیہ کا امیگریشن سسٹم اس بنیاد پر چلتا تھا کہ اگر آپ قانونی طور پر برطانیہ آئے ہیں، کام کر رہے ہیں اور ٹیکس دے رہے ہیں، تو ایک مقررہ وقت (عام طور پر 5 سال) کے بعد آپ کو یہاں مستقل رہنے کا حق مل جاتا تھا۔ لیکن ہوم سیکرٹری نے واضح کیا ہے کہ اب صرف "وقت گزارنا” کافی نہیں ہوگا۔

نئے قوانین کے تحت، برطانوی شہریت اور مستقل رہائش اب خودکار (Automatic) نہیں ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ برطانوی اقدار، زبان اور معیشت میں مکمل طور پر ضم ہو چکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے Indefinite Leave to Remain (ILR) کے حصول کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

2. پانچ سالہ روٹ کا خاتمہ اور 10 سالہ انتظار

یہ اس نئی پالیسی کا سب سے اہم اور تکلیف دہ حصہ ہے۔ فی الحال، Skilled Worker Visa پر آنے والے افراد 5 سال مکمل کرنے کے بعد ILR (پکی مہر) کے لیے اپلائی کر سکتے تھے۔

  • نئی تبدیلی: شبانہ محمود کی تجویز کے مطابق، اب عام تارکین وطن کے لیے سیٹلمنٹ کا معیاری وقت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کر دیا جائے گا۔

اس کا اثر کیا ہوگا؟

اس کا سب سے بڑا اثر آپ کی جیب پر پڑے گا۔ 5 سال کے بجائے 10 سال تک ویزا پر رہنے کا مطلب ہے کہ آپ کو دوگنی ویزا فیس ادا کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ، آپ کو 10 سال تک Immigration Health Surcharge (IHS) بھرنا پڑے گا، جو کہ پہلے ہی ہزاروں پاؤنڈز میں ہے۔ ایک عام پاکستانی فیملی کے لیے یہ لاکھوں روپے کا اضافی بوجھ بن جائے گا۔ جب تک آپ کے 10 سال پورے نہیں ہوتے، آپ کی حیثیت "عارضی” رہے گی اور آپ کو ہر 2 یا 3 سال بعد ویزا رینیو (Renew) کروانا پڑے گا۔

3. سرکاری مراعات (Benefits) اور سوشل ہاؤسنگ پر پابندی

یہ وہ پوائنٹ ہے جہاں تارکین وطن کو سب سے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ پرانے سسٹم میں، جیسے ہی آپ کو ILR ملتا تھا، آپ کے ویزے سے "No Recourse to Public Funds” کی شرط ہٹ جاتی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ اگر آپ کی نوکری چلی جائے یا آپ بیمار ہو جائیں، تو آپ حکومت سے Universal Credit یا ہاؤسنگ الاؤنس مانگ سکتے تھے۔

نیا قانون کیا کہتا ہے؟

نئی تجویز کے تحت، ILR ملنے کے بعد بھی آپ کو سرکاری مدد نہیں ملے گی۔ ہوم آفس کا کہنا ہے کہ:

"سرکاری فنڈز تک رسائی اور سوشل ہاؤسنگ صرف ان لوگوں کے لیے مختص ہونی چاہیے جو مکمل طور پر برطانوی شہری (British Citizens) بن چکے ہیں۔”

اس کا مطلب ہے کہ آپ کو پہلے 10 سال انتظار کرنا ہوگا ILR کے لیے، اور پھر اس کے بعد مزید 1 سال انتظار کرنا ہوگا British Citizenship کے لیے۔ یعنی برطانیہ میں داخل ہونے کے بعد کم از کم 11 سے 12 سال تک آپ برطانوی حکومت سے ایک روپیہ بھی مدد کی امید نہیں رکھ سکتے، چاہے آپ کتنے ہی مشکل حالات میں کیوں نہ ہوں۔

4. غیر قانونی تارکین وطن کے لیے 30 سالہ روٹ

حکومت نے غیر قانونی ہجرت (Illegal Migration) کے خلاف انتہائی سخت رویہ اپنایا ہے۔ وہ لوگ جو چھوٹی کشتیوں (Small Boats) کے ذریعے آئے ہیں، یا وہ لوگ جو وزٹ ویزا پر آکر غائب ہو گئے (Overstayers)، ان کے لیے راستے تقریباً بند کر دیے گئے ہیں۔

  • نئی سزا: ایسے لوگوں کو اب ریگولرائز ہونے یا سیٹلمنٹ حاصل کرنے کے لیے 30 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس دوران انہیں کسی قسم کی سرکاری سہولت میسر نہیں ہوگی اور انہیں ہر لمحہ ڈیپورٹیشن (Deportation) کا خطرہ رہے گا۔

مزید برآں، اگر کسی تارک وطن نے اپنے ویزا کے دوران (شہریت ملنے سے پہلے) 12 ماہ سے زیادہ عرصے تک سرکاری بینفٹس استعمال کیے، تو انہیں سزا کے طور پر مزید 5 سے 10 سال تک سیٹلمنٹ کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

5. کیا کسی کے لیے رعایت (Fast Track) موجود ہے؟

جی ہاں، حکومت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انہیں کچھ خاص لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے ایک "فاسٹ ٹریک” (Fast Track) سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے:

  1. NHS اور کیئر ورکرز: ڈاکٹرز، نرسز اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والے اہم افراد کے لیے پرانا 5 سالہ روٹ برقرار رکھا جا سکتا ہے، کیونکہ برطانیہ کو ان کی شدید ضرورت ہے۔ آپ Health and Care Worker Visa کی تفصیلات یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
  2. زیادہ آمدنی والے افراد (High Earners): وہ سرمایہ کار یا بزنس مین جو برطانیہ میں بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں، یا جن کی تنخواہ ایک خاص حد (مثلاً 50,000 پاؤنڈ سالانہ سے زائد) ہے، انہیں 3 سے 5 سال کے اندر سیٹلمنٹ کی اجازت مل سکتی ہے۔

6. انگریزی زبان اور انٹیگریشن ٹیسٹ

صرف وقت کا دورانیہ ہی نہیں بڑھایا گیا، بلکہ ٹیسٹ بھی مشکل کیے جا رہے ہیں۔

  • انگریزی زبان: ہوم آفس نے اشارہ دیا ہے کہ English Language Requirements کو مزید سخت کیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ اب صرف B1 لیول کافی نہ ہو، بلکہ اس سے اوپر کا معیار مانگا جائے۔
  • لائف ان دی یو کے (Life in the UK): برطانوی تاریخ اور اقدار کے ٹیسٹ کو مزید مشکل بنایا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امیدوار واقعی برطانوی معاشرے کو سمجھتا ہے۔

7. پاکستانی کمیونٹی کو اب کیا کرنا چاہیے؟

یہ اعلانات ابھی تجاویز (Proposals) ہیں اور ان پر 12 ہفتوں کی مشاورت (Consultation) جاری ہے، جس کے بعد اپریل 2026 میں حتمی قانون بنے گا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا اطلاق "ریٹروسپیکٹیو” (Retrospective) ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ اس وقت برطانیہ میں 2 یا 3 سال سے مقیم ہیں، ہو سکتا ہے انہیں بھی کہا جائے کہ اب آپ کو 5 نہیں بلکہ 10 سال پورے کرنے ہیں۔

ہماری نصیحت:

  1. اگر آپ سیٹلمنٹ (ILR) کے قریب ہیں، تو فوراً اپلائی کریں۔ قانون نافذ ہونے کا انتظار نہ کریں۔
  2. اپنی انگریزی زبان کی مہارت کو بہتر بنائیں۔
  3. کسی بھی صورت میں سرکاری فنڈز (Benefits) لینے سے گریز کریں اگر آپ کا ویزا اس کی اجازت نہیں دیتا، کیونکہ یہ آپ کے مستقبل کو تباہ کر سکتا ہے۔
  4. تازہ ترین اور مصدقہ خبروں کے لیے ہمیشہ Home Office News کے آفیشل پیج کو وزٹ کرتے رہیں۔

خلاصہ:

برطانیہ کے دروازے کھلے ضرور ہیں، لیکن اب اندر داخل ہونے کے بعد کرسی پر بیٹھنے (مستقل ہونے) کا راستہ انتہائی طویل اور مہنگا کر دیا گیا ہے۔ یہ نیا نظام غریب اور کم ہنر مند افراد کے لیے سخت، جبکہ امیر اور انتہائی ہنر مند افراد کے لیے نرم ہے۔


حسنین عبّاس سید
حسنین عبّاس سیدhttp://visavlogurdu.com
حسنین عبّاس سید سویڈن میں مقیم ایک سینئر گلوبل مائیگریشن تجزیہ نگار اور VisaVlogurdu.com کے بانی ہیں۔ دبئی، اٹلی اور سویڈن میں رہائش اور کام کرنے کے ذاتی تجربے کے ساتھ، وہ گزشتہ 15 سالوں سے تارکینِ وطن کو بااختیار بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ حسنین پیچیدہ امیگریشن قوانین، ویزا پالیسیوں اور سماجی انضمام (Social Integration) کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں اوورسیز کمیونٹی کے لیے ایک مستند وسیلہ ہیں۔
spot_imgspot_img
WhatsApp واٹس ایپ جوائن کریں