برطانیہ ایک ایسے اقدام کی دہلیز پر ہے جسے جدید دور میں پناہ اور امیگریشن کے نظام میں سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی سخت گیر یورپی نظاموں، جیسے ڈنمارک کے ماڈل، سے متاثر ہو کر ایک انتہائی سخت اور محدود فریم ورک کی طرف واضح جھکاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔
اعلان کردہ اصلاحات کا مقصد حکومت کے بقول "عوامی اعتماد بحال کرنا،” پناہ کی ریکارڈ توڑ درخواستوں سے نمٹنا، اور غیر قانونی نقل مکانی، خاص طور پر خطرناک سمندری راستوں سے آمد، کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
ذیل میں ان بنیادی تبدیلیوں کا تفصیلی، مرحلہ وار تجزیہ پیش خدمت ہے جن کے لیے آپ کو تیار رہنا چاہیے:
مرحلہ 1: مستقل رہائش (Permanent Settlement) کی مدت بڑھا کر 20 سال کر دی گئی
یہ تبدیلی پورے پیکیج میں سب سے زیادہ شدید ہے اور اس کا براہ راست ہدف غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن (Irregular Migrants) ہیں۔
- تبدیلی کا طریقہ کار (The Mechanism of Change): موجودہ نظام میں، جن افراد کو پناہ گزین کا درجہ (Refugee Status) دیا جاتا ہے، وہ عام طور پر پانچ سال بعد ان ڈیفینیٹ لیو ٹو ریمین (ILR) یعنی مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے کے اہل ہو جاتے ہیں۔ نئے قانون میں ایک درجہ بندی کا نظام بنایا جائے گا جس کے تحت وہ افراد جو غیر قانونی ذرائع سے برطانیہ میں داخل ہوں گے، انہیں 20 سال کی طویل مدت تک مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے کا حق نہیں ملے گا۔
- عملی اثرات (The Practical Impact): اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کی ایک پوری نسل کو دو دہائیوں تک عارضی رہائشی حیثیت میں رہنا پڑے گا، جس سے ان کے قانونی حقوق، رہائش کے استحکام اور معاشی منصوبہ بندی پر گہرا اثر پڑے گا۔ طویل غیر یقینی صورتحال ان کی معاشرے میں مکمل شمولیت کو ناممکن بنا دے گی۔
مرحلہ 2: مالی اور رہائشی مدد کی قانونی ذمہ داری (Statutory Duty) ختم
یہ پالیسی پناہ کے متلاشی افراد کو ان کی درخواستوں پر کارروائی کے دوران فراہم کیے جانے والے حفاظتی نظام کو نشانہ بناتی ہے۔
- قانونی ذمہ داری کا خاتمہ: موجودہ نظام حکومت پر ایک قانونی ذمہ داری (Statutory Duty) عائد کرتا ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ پناہ گزین فیصلہ آنے تک بے گھر نہ ہوں۔ نئے منصوبے کے تحت یہ خودکار ذمہ داری ختم کر دی جائے گی اور ہفتہ وار مالی الاؤنس سمیت رہائشی امداد مشروط ہو جائے گی۔
- نشانہ بنائے گئے گروہ (Targeted Groups): امداد کو ان پناہ گزینوں سے ہٹا دیا جائے گا:
- جو کام کرنے کے اہل ہونے کے باوجود ملازمت تلاش کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
- جو ملک بدری کی ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
- جو غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیں یا کسی بھی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوتے ہیں۔
مرحلہ 3: پناہ گزین کا درجہ عارضی اور مشروط ہو جائے گا
نیو سسٹم میں پناہ کے درجے کو مستقل حیثیت دینے کے بجائے عارضی تحفظ کے طور پر دیکھا جائے گا، جو ڈنمارک کی پالیسی سے متاثر ہے۔
- عارضی تحفظ: مستقل رہائش کی طرف واضح راستے کے بجائے، نیا نظام عارضی رہائشی پرمٹ جاری کرے گا (جو اکثر صرف دو سال تک مؤثر ہوتے ہیں)۔
- دوبارہ جائزہ (Regular Review): پناہ کی حیثیت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ اگر حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ پناہ گزین کے آبائی ملک میں حالات بہتر ہو گئے ہیں (اور وہ ملک اب "محفوظ” ہے)، تو ان کی عارضی حیثیت منسوخ کی جا سکتی ہے اور وہ جبری وطن واپسی (Repatriation) کا سامنا کر سکتے ہیں۔
مرحلہ 4: فیملی ری یونین کے لیے سخت قوانین
اس نئی پالیسی کے تحت پناہ گزینوں کے لیے قریبی رشتہ داروں کو برطانیہ میں اسپانسر کرنے کی اہلیت بھی زیادہ مشکل ہو جائے گی۔
- تبدیلی: توقع ہے کہ فیملی ری یونین (خاندان کے دوبارہ اتحاد) کے لیے سخت شرائط متعارف کرائی جائیں گی، جس سے پناہ گزینوں کو اپنے شریک حیات، بچوں، یا دیگر منحصر افراد کو برطانیہ بلانا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔
- مقصد: اس اقدام کا مقصد ثانوی نقل مکانی (secondary migration) کے اثرات کو محدود کرنا ہے جو عام طور پر پناہ کا درجہ ملنے کے بعد دیکھا جاتا ہے۔
یہ تمام اقدامات مل کر برطانیہ کو پناہ کے متلاشی افراد یا غیر قانونی رہائشیوں کے لیے ایک زیادہ سخت ماحول کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اس فریم ورک میں مکمل زور نفاذ، روک تھام، اور ان لوگوں کو ترجیح دینے پر ہے جنہیں معاشی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔



