آج مورخہ دو دسمبر 2025 کو برطانیہ کے ہوم آفس نے سیاسی پناہ یعنی اسائلم کے نظام میں انتہائی سخت تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کی جانب سے بارڈرز کو محفوظ بنانے کے بیان کے فوراً بعد ہوم آفس نے نئی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں جن کا مقصد غیر قانونی آمد کو روکنا اور پہلے سے موجود کیسز کو تیزی سے نمٹانا ہے۔ آج کے ان نئے قوانین کا سب سے زیادہ اثر ان لوگوں پر پڑے گا جو محفوظ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں یا جو یورپ کے راستے برطانیہ پہنچے ہیں۔
ناقابل قبول درخواستیں اور تیسرے ملک کا قانون آج جاری ہونے والی ہدایات میں سب سے اہم تبدیلی ان ایڈمیسبیلٹی یعنی درخواست کے ناقابل قبول ہونے کے حوالے سے ہے۔ ہوم آفس نے اپنے کیس ورکرز کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی درخواست کو مکمل سنے بغیر مسترد کر سکتے ہیں اگر اس بات کا ثبوت ملے کہ درخواست گزار کسی محفوظ ملک جیسے فرانس یا اٹلی سے گزر کر آیا ہے۔ پہلے اس عمل میں کافی وقت لگتا تھا لیکن اب اسے تیز کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ نیا ماڈل کیسے کام کرتا ہے تو آپ برطانیہ کا نیا اسائلم ماڈل پر ہمارا تفصیلی مضمون پڑھ سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سخت اقدام کا مقصد معاشی مہاجرین کو روکنا ہے تاکہ اصل پناہ گزینوں کی مدد کی جا سکے۔
- مزید پڑھئے
- برطانیہ اسکلڈ ورکر ویزا 2025: تنخواہ کی نئی شرائط اور قوانین کی مکمل گائیڈ
- 2025 میں برطانیہ میں نیٹ مائگریشن 204,000 تک گر گئی: سرکاری اعداد و شمار کی تفصیل
- برطانیہ – نئے قوانین کے تحت پناہ کے متلاشیوں کو آبادکاری کے لیے 20 سال انتظار کرنا پڑے گا
- برطانیہ میں تاریخی قانون سازی: ‘اسسٹڈ ڈائنگ بل’ پارلیمنٹ میں بحث کے لیے منظور
- شبانہ محمود کون ہیں؟ ایک مکمل سوانح عمری
محفوظ ممالک کی فہرست میں انڈیا اور جارجیا شامل ہوم آفس نے سیکشن اسی اے کے تحت محفوظ ممالک کی فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ آج کے اعلان کے مطابق انڈیا اور جارجیا کو باقاعدہ طور پر اس فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کا تعلق ان ممالک سے ہے تو آپ کی سیاسی پناہ کی درخواست کو بنیاد ہی سے کمزور سمجھا جائے گا۔ ایسے لوگوں کو برطانیہ کے اندر رہ کر اپیل کرنے کا حق نہیں دیا جائے گا بلکہ انہیں پہلے ملک بدر کیا جائے گا اور وہ اپنے ملک واپس جا کر ہی اپیل کر سکیں گے جو کہ عملی طور پر بہت مشکل ہے۔ ایسے کیسز کو اب ترجیحی بنیادوں پر ڈینٹینشن سینٹرز میں حل کیا جائے گا اور فیصلہ چند ہفتوں میں سنا دیا جائے گا۔
درخواست میں تاخیر اور شکوک و شبہات ایک اور اہم تبدیلی کیس کی جانچ پڑتال کے حوالے سے کی گئی ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق اگر کسی شخص نے برطانیہ پہنچتے ہی فوراً اسائلم کلیم نہیں کیا بلکہ پکڑے جانے کے بعد درخواست دی تو اس کی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی جان بوجھ کر اپنے شناختی دستاویزات ضائع کرتا ہے تو اسے بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ یہ وہی سختی ہے جس کا اشارہ ہم نے اپنی کل کی رپورٹ برطانیہ امیگریشن اپ ڈیٹ میں دیا تھا۔
رہائش اور مالی امداد میں سختی ہوٹلوں کے اخراجات کم کرنے کے لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب اسائلم سیکرز کو بڑی عمارتوں اور بحری جہازوں یعنی بارجز پر رکھا جائے گا۔ نئے قوانین کے تحت کمرہ شیئر کرنا لازمی ہوگا اور اگر کوئی شخص وہاں جانے سے انکار کرتا ہے تو اس کی مالی امداد اور رہائش ختم کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ کام کرنے کی اجازت کے حوالے سے کوئی نرمی نہیں کی گئی اور بارہ ماہ سے پہلے کام کرنے پر پابندی برقرار رہے گی۔
بیس سالہ طویل انتظار آج کی اپ ڈیٹس میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ جن لوگوں کو پناہ مل جائے گی انہیں بھی فوراً مستقل رہائش نہیں ملے گی۔ ایسے لوگوں کو پانچ سال کے روٹ کے بجائے دس سال یا اس سے بھی لمبے عرصے تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات آپ ہماری رپورٹ اسائلم سیکرز کے لیے بیس سالہ انتظار میں دیکھ سکتے ہیں۔
قانونی امداد اور اپیلیں وزارت انصاف نے بھی عندیہ دیا ہے کہ جن لوگوں کو ملک بدری کا نوٹس ملے گا ان کے پاس وکیل کرنے اور اپیل دائر کرنے کے لیے بہت کم وقت ہوگا۔ اکثر کیسز میں یہ وقت صرف پانچ دن تک محدود ہو سکتا ہے جس کے بعد انہیں جہاز پر بٹھا دیا جائے گا۔
نتیجہ دو دسمبر 2025 کے یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ اب ہوسٹائل انوائرمنٹ سے آگے بڑھ کر فاسٹ ٹریک ریموول کی طرف جا رہا ہے۔ اگر آپ کا کیس جینون ہے تو آپ کو چاہیے کہ برطانیہ پہنچتے ہی فوراً درخواست دیں اور اپنے ثبوت تیار رکھیں کیونکہ اب غلطی کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا مجھے روانڈا بھیجا جا سکتا ہے؟
جی ہاں روانڈا والا قانون ابھی بھی موجود ہے۔ اگر آپ چھوٹی کشتی کے ذریعے غیر قانونی طور پر آئے ہیں تو ہوم آفس آپ کو کسی بھی محفوظ تیسرے ملک بھیجنے کا نوٹس دے سکتا ہے۔
کیا انڈین شہری برطانیہ میں اسائلم لے سکتے ہیں؟
جواب: تکنیکی طور پر ہاں لیکن یہ اب انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ انڈیا کو محفوظ ممالک کی لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہوم آفس پہلے ہی فرض کر لیتا ہے کہ آپ کا کیس جھوٹا ہے جب تک کہ آپ بہت ٹھوس ثبوت نہ پیش کریں۔
میرے کیس کا فیصلہ کب تک ہوگا؟
جواب: پرانے کیسز کو نمٹایا جا رہا ہے لیکن نئے آنے والوں کے لیے ابھی بھی اوسطاً بارہ سے اٹھارہ ماہ کا وقت لگ رہا ہے۔ تاہم اگر آپ محفوظ ملک سے ہیں تو فیصلہ بہت جلد یعنی چند ہفتوں میں بھی ہو سکتا ہے۔
کیا میں فیصلے کے انتظار کے دوران کام کر سکتا ہوں؟
جواب: عام طور پر نہیں۔ آپ صرف اسی صورت میں کام کی اجازت مانگ سکتے ہیں اگر آپ کو انتظار کرتے ہوئے بارہ ماہ سے زیادہ ہو گئے ہوں اور وہ تاخیر آپ کی وجہ سے نہ ہوئی ہو۔ تب بھی آپ صرف مخصوص شعبوں میں ہی نوکری کر سکتے ہیں۔



