برطانیہ میں مقیم بین الاقوامی طلباء کے لیے 2026 میں تعلیمی ویزا سے ورک ویزا یعنی اسکلڈ ورکر ویزا پر منتقل ہونے کے قوانین کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے جہاں اب ڈگری کی باضابطہ تکمیل اور تنخواہ کے نئے معیار کو پورا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یوکے ہوم آفس کی جانب سے نافذ کردہ ان تبدیلیوں کا مقصد امیگریشن سسٹم میں شفافیت لانا اور صرف ان ہنرمند افراد کو مستقل سکونت کی طرف لے جانا ہے جو برطانوی معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ویزا وی لاگ اردو کی اس جامع رپورٹ میں ہم برطانوی حکومت کی آفیشل ویب سائٹ GOV.UK کے فراہم کردہ ضوابط کی روشنی میں اسٹوڈنٹ ویزا سے اسکلڈ ورکر ویزا پر سوئچ کرنے کے تمام مراحل، نیو انٹرنٹ کے فوائد اور مستقل سکونت کے راستے کی وضاحت کریں گے تاکہ آپ ویزا مسترد ہونے کے خطرات سے بچ سکیں اور اپنی درخواست کو قانونی طور پر درست طریقے سے پیش کر سکیں۔
برطانیہ کے امیگریشن قوانین میں حالیہ تبدیلیاں اور سوئچنگ رولز 2026
برطانیہ میں اسٹوڈنٹ روٹ سے ورک روٹ میں منتقلی کے قوانین میں سب سے بڑی تبدیلی جولائی 2024 میں آئی تھی جسے اب 2026 میں مزید سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں طلباء اپنی ڈگری مکمل کرنے سے پہلے ہی کسی اسپانسر کے ذریعے ورک ویزا حاصل کر سکتے تھے لیکن اب یہ راستہ مکمل طور پر مسدود کر دیا گیا ہے۔ اب برطانوی قانون یہ کہتا ہے کہ آپ اس وقت تک ورک ویزا کے لیے درخواست نہیں دے سکتے جب تک آپ کی یونیورسٹی ہوم آفس کو اس بات کی تصدیق نہ کر دے کہ آپ نے اپنا تعلیمی کورس کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس قانون کی تفصیلات آپ برطانوی حکومت کے آفیشل پیج Switch to a Skilled Worker visa پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس تبدیلی کا مقصد یہ ہے کہ طلباء اپنی تعلیم پر توجہ دیں اور ڈگری مکمل کرنے کے بعد ہی جاب مارکیٹ میں قدم رکھیں۔ اگر آپ کورس مکمل ہونے سے پہلے فل ٹائم کام شروع کرتے ہیں تو یہ آپ کے ویزا کی شرائط کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جائے گی جس سے آپ کا برطانیہ میں قیام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
- مزید پڑھیں
- آئرلینڈ فیملی ری یونین ویزا 2026 کی مکمل گائیڈ
- پولینڈ کو یورپی یونین کے مہاجرین کی منتقلی سے استثنیٰ
- عالمی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیاں اور ٹائم لائن
- IELTS اسیکنڈل: دو سال تک غلط اسکور فراہم کرنے کا انکشاف
- پرتگال امیگریشن: 10 سالہ شہریت کے نئے قوانین
نیو انٹرنٹس کے لیے تنخواہ کے تقاضے اور رعایتیں
برطانیہ میں اسکلڈ ورکر ویزا کے لیے عام طور پر کم از کم تنخواہ کی حد 38,700 پاؤنڈ سالانہ مقرر ہے لیکن بین الاقوامی طلباء کو نیو انٹرنٹ کے طور پر ایک بڑی رعایت دی جاتی ہے۔ اس رعایت کے تحت اگر آپ اسٹوڈنٹ ویزا یا گریجویٹ ویزا سے براہ راست اسکلڈ ورکر پر سوئچ کر رہے ہیں تو آپ کو اس مخصوص جاب کے لیے مقرر کردہ ریٹ کا 70 فیصد یا کم از کم 30,960 پاؤنڈ سالانہ تنخواہ ملنی چاہیے۔ تنخواہ کے ان معیارات اور مختلف جاب کوڈز کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ Skilled Worker visa: going rates for eligible occupations ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ یہ رعایت ان طلباء کے لیے ہے جو ابھی اپنے کیریئر کا آغاز کر رہے ہیں اور جن کی عمر 26 سال سے کم ہے۔ تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ نیو انٹرنٹ کا اسٹیٹس صرف 4 سال کے لیے ہوتا ہے جس کے بعد آپ کے آجر کو آپ کی تنخواہ بڑھا کر مکمل تجربہ کار ریٹ تک لے جانی ہوگی۔
سرٹیفکیٹ آف اسپانسرشپ اور آجر کی ذمہ داریاں
اسکلڈ ورکر ویزا پر سوئچ کرنے کے لیے پہلا قدم ایک ایسا آجر تلاش کرنا ہے جس کے پاس ہوم آفس کا منظور شدہ اسپانسر لائسنس موجود ہو۔ برطانوی حکومت نے ان تمام آجروں کی ایک فہرست جاری کر رکھی ہے جو غیر ملکی کارکنوں کو اسپانسر کرنے کے اہل ہیں۔ آپ یہ فہرست Register of licensed sponsors: workers پر چیک کر سکتے ہیں۔ جب آپ کو نوکری مل جاتی ہے تو آپ کا آجر آپ کو ایک سرٹیفکیٹ آف اسپانسرشپ (CoS) جاری کرتا ہے۔ یہ ایک ڈیجیٹل دستاویز ہوتی ہے جس میں آپ کی ملازمت کی تفصیلات، تنخواہ اور کام شروع کرنے کی تاریخ درج ہوتی ہے۔ 2026 کے قوانین کے تحت آجر کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ CoS جاری کرتے وقت تمام معلومات درست طریقے سے درج کرے، خاص طور پر اگر وہ آپ کو نیو انٹرنٹ کے طور پر بھرتی کر رہا ہے تاکہ آپ کم تنخواہ والی رعایت حاصل کر سکیں۔
ویزا درخواست کا عمل اور درکار فنڈز
برطانیہ کے داخلے سے ویزا سوئچ کرنے کا عمل آن لائن ہوتا ہے اور اس کے لیے آپ کو ہوم آفس کی ویب سائٹ پر درخواست جمع کروانی ہوتی ہے۔ اس عمل کے دوران آپ کو ویزا فیس اور امیگریشن ہیلتھ سرچارج (IHS) ادا کرنا ہوتا ہے۔ آئی ایچ ایس کی فیس کے بارے میں تازہ ترین معلومات آپ Pay for UK healthcare as part of your immigration application پر دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ برطانیہ میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے قانونی طور پر مقیم ہیں تو آپ کو بینک اسٹیٹمنٹ دکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اگر آپ کا قیام ایک سال سے کم ہے تو آپ کو اپنے اکاؤنٹ میں 1,270 پاؤنڈ کی رقم کم از کم 28 دن تک دکھانی ہوگی۔ اس حوالے سے فنڈز کی تفصیلات Skilled Worker visa: Money to support yourself پر دستیاب ہیں۔
زیر کفالت افراد اور فیملی کے حقوق
برطانیہ میں اسکلڈ ورکر ویزا پر سوئچ کرنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ اپنے خاندان یعنی شریک حیات اور بچوں کو برطانیہ بلا سکتے ہیں یا اگر وہ پہلے سے یہاں موجود ہیں تو وہ اپنے ویزے آپ کے ساتھ سوئچ کر سکتے ہیں۔ انڈرگریجویٹ طلباء کے لیے پہلے خاندان لانا ممکن نہیں تھا لیکن ورک ویزا پر منتقل ہوتے ہی آپ کو یہ حق مل جاتا ہے۔ فیملی ویزا اور ڈیپنڈنٹس کے حوالے سے مزید معلومات کے لیے آپ Skilled Worker visa: Your partner and children کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اسکلڈ ورکر ویزا پر آنے والے ڈیپنڈنٹس کو برطانیہ میں کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے مکمل حقوق حاصل ہوتے ہیں جو کہ خاندان کی مجموعی خوشحالی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
مستقل سکونت (ILR) کا راستہ اور مدت کا تعین
اسکلڈ ورکر ویزا پر منتقل ہونے کا حتمی فائدہ یہ ہے کہ یہ آپ کو پانچ سال بعد برطانیہ کی مستقل سکونت یعنی انڈیفینٹ لیو ٹو ریمین (ILR) کا اہل بناتا ہے۔ بہت سے طلباء یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ گریجویٹ ویزا (PSW) پر گزارے ہوئے وقت کو بھی ان پانچ سالوں میں گنتے ہیں لیکن حقیقت میں پی ایس ڈبلیو کا وقت آئی ایل آر کے لیے شمار نہیں ہوتا۔ آئی ایل آر کے لیے پانچ سال کی گنتی صرف اس دن سے شروع ہوتی ہے جس دن آپ کا اسکلڈ ورکر ویزا منظور ہوتا ہے۔ مستقل سکونت کے لیے اہلیت کے معیار کو سمجھنے کے لیے آپ Indefinite leave to remain if you have a Skilled Worker visa ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کا مقصد برطانیہ میں مستقل رہنا ہے تو جتنا جلدی ہو سکے اسکلڈ ورکر ویزا پر سوئچ کرنا آپ کے حق میں بہتر ہوگا۔
نتیجہ اور تارکین وطن کے لیے اہم پیغام
برطانیہ کا امیگریشن نظام 2026 میں انتہائی منظم اور قواعد و ضوابط پر مبنی ہو چکا ہے جہاں چھوٹی سی غلطی بھی ویزا انکار کا سبب بن سکتی ہے۔ طلباء کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم کے آخری مراحل میں ہی ایسے اسپانسرز کی تلاش شروع کر دیں جو بین الاقوامی گریجویٹس کو ملازمت دینے کے لیے تیار ہوں۔ کبھی بھی غیر قانونی ذرائع یا غلط معلومات کا سہارا نہ لیں کیونکہ برطانوی ہوم آفس اب ہر معلومات کی تصدیق ڈیجیٹل طریقے سے کرتا ہے۔ ہمیشہ سرکاری پورٹلز اور گورنمنٹ ویب سائٹس سے رجوع کریں تاکہ آپ کی معلومات مستند رہیں۔ برطانیہ ان ہنرمند افراد کے لیے اب بھی مواقع کا ملک ہے جو قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے محنت اور لگن سے اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں۔



